’نقل ختم کرنے کے لیے آستینیں آدھی ہوں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Dipankar
Image caption حال ہی میں بھارت میں ’ویاپم سکیم‘ کے نام سے امتحانات میں نقل کا ایک بہت بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے۔

بھارت نے حکام نے میڈیکل کالجوں میں داخلے کےامتحانات کے لیے ڈریس کوڈ متعارف کروایا ہے۔

گذشتہ مہینے سپریم کورٹ نے امیدواروں کو پرچہ پہلے سے معلوم ہونے پر چھ لاکھ سے زیادہ امیدواروں کے امتحانات دوبارہ لینے کا حکم دیا تھا۔

امتحان دینے والے امیدواروں کو کہا گیا کہ وہ ہلکے کپڑے زیبِ تن کریں۔ قمیض کی آستین آدھی ہو اور بٹن زیادہ بڑے نہ ہوں۔

حکام کا کہنا ہے کہ طالب علم کمرۂ امتحان میں جوتوں کے بجائے کھلے سلیپر پہنیں۔

بھارت میں امتحانات میں نقل کرنے والے طالب علم بلو ٹوتھ آلات اور موبائل سمیں اپنے کپڑوں میں چھپا لیتے ہیں۔

گذشتہ کچھ برسوں میں ایئر فون اور قمیض کے بٹنوں میں کیمرا اور مائیکرو ایئر پلگس کے ذریعے نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے والے امیدوارں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

ایسے قلم بھی استعمال کیے گئے جو سوالنامے کو سکین کر کے بلیو ٹوتھ ڈیوائس کے ذریعے تصاویر باہر بھیج سکتے ہیں۔

Image caption بھارت میں امتحانات میں نقل کرنے والے طالب علم بلو ٹوتھ آلات اور موبائل سمیں اپنے کپڑوں میں چھپا لیتے ہیں

امتحانوں میں نقل کے لیے کچھ ایسے آلات بھی استعمال کیے گئے جس کے ذریعے کمرۂ امتحان کے باہر موجود شخص کو سوال بھیجے جا سکتے ہیں اور وہ پھر اُس کے جواب بتاتے ہیں۔

اس ڈریس کوڈ کے ذریعے سے ان آلات کو چھپانے والی پوشیدہ جگہوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حکام کی جانب سے یہ ضابطہ ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب میڈیکل کالج میں داخلے کے امتحانات میں نقل کا سکینڈل سامنے آیا تھا اور ہزاروں افراد گرفتار ہوئے تھا جبکہ کچھ پراسرار ہلاکتیں بھی ہوئی تھیں۔

اسی بارے میں