بھارت میں نقل کے انوکھے انداز

تصویر کے کاپی رائٹ

ریاست مدھ پردیش میں میڈیکل سکول میں داخلے کے لیے منعقدہ امتحان کے دوران بڑے پیمانے پر سامنے آنے والے ایک سکینڈل اور چھ لاکھ طلبہ کو پری میڈیکل امتحان پھر سے دینے کے سپریم کورٹ کے حکم نے ملک میں نقل کے رحجان کو عوامی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

بھارت میں امتحانات کے دوران نقل کوئی نئی بات نہیں اور غیرقانونی ہونے کے باوجود ملک کے بیشتر حصوں میں لمبے عرصے تک فروغ پانے کی وجہ سے اب یہ عام سی بات ہے۔

گزشتہ برسوں کے دوران نقل کے نِت نئے طریقے سامنے آئے جن میں سوشل میڈیا سمیت جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ بھی شامل ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ ایگزامینیشن بورڈ کو سخت ضوابط جاری کرنا پڑے جن میں پری میڈیکل کا امتحان دینے والوں کے لیے لباس کا ضابطہ بھی سامنے آیا۔

نقل کے لیے عقل

ذیل میں نقل کے ان پانچ نرالے طریقوں کا ذکر کیا جاتا ہے جو بھارتی شہری امتحان کے دوران اختیار کرتے ہیں۔

جمیز بونڈ کی طرح نئے آلات کا انوکھا استعمال

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

حال ہی میں منسوخ ہونے والے امتحان کے دوران جو طلبہ نقل کرتے ہوئے پکڑے گئے ان کے پاس سے مائکرو بلو ٹوتھ اور موبائل سِم کارڈ برآمد ہوئے جوانھوں نے اپنی قمیضوں میں سی رکھے تھے۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران کئی طلبہ مائکرو ایئرفون، کاج میں سِلے کیمرے اور مائکرو ایئرپلگ استعمال کرتے ہوئے بھی پکڑے گئے ہیں۔

ان آلات کے ذریعے سوالات کو باہر بیٹھے ماہرین کے پاس بھیجا جاتا تھا جو ان کا حل کمرۂ امتحان میں بھیج دیتے۔

سکینر لگے قلم بھی بہت سے امتحان دینے والوں کے لیے اب ایک ضرورت بن گئے ہیں۔ یہ پین بلوٹوتھ کے ذریعے تصاویر کی ترسیل کرتے ہیں۔

یہ سب بآسانی آن لائن پر دستیاب ہیں۔ ایک ویب سائٹ تو ان آلات کو ’سخت امتحانات میں کامیابی کے لیے نقل کے جاسوس آلات‘کہہ کر تشہیر بھی کرتی ہے۔

ٹیکنالوجی میں ترقی کی تیز رفتار اور ان آلات کی باسہولت دستیابی کا مطلب یہ ہے کہ حکام کو امتحانات میں نقل کی وبا سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

عددی طاقت

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بڑے پیمانے پر کھلے عام نقل بھارت میں بڑا مسئلہ ہے

حال ہی میں ریاست بہار میں وسیع پیمانے پر نقل کی چونکا دینے والی تصاویر شائع ہوئی ہیں۔

ملک کے طول و عرض میں ہر سال سینکڑوں طلبہ ٹولیوں کی شکل میں نقل کرتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں۔ مگر اس عمل سے نمٹنے کے لیے اب تک کوئی باقاعدہ قانون متعارف نہیں کروایا گیا۔

ریاست بہار، اتر پردیش، مدھ پردیش، ہریانہ اور راجستھان میں مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔

بہت سے طلبہ سخت سکیورٹی کے باوجود کمرۂ امتحان میں درسی کتب چھپا کر لے جاتے ہیں۔ بعض مقامات پر دیکھنے میں آیا ہے کہ والدین اور دوست امتحانی مراکز کی دواریں پھلانگ کر طلبہ کو جوابات فراہم کرتے ہیں۔

نقل کروانے والے پیشہ ور

تصویر کے کاپی رائٹ DIPANKAR

یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں جب آپ کی نظر سے اس طرح کی اخباری سرخیاں گزریں کہ ’بینک کا امتحان حل کروانے والے تین افراد گرفتار‘۔

ایک ایسے ملک میں جہاں سرکاری ملازمتیں محدود ہوں اور فارغ التحصیل ہونے والے ہزاروں طلبہ ان سے محروم رہ جاتے ہوں وہاں مقابلے کے امتحان میں کامیابی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہوجاتی ہے۔

اس مسئلہ کی وجہ سے بہت سے پرعزم طلبہ ایسے پشہ ور نقل کرانے والوں کا شکار بن جاتے ہیں یا تو انہیں ٹیوشن پڑھاتے رہے ہوں یاانھوں نے خود مقابلے کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہیں۔

تاہم یہ عمل طویل اور مہنگا ہے جو درخواست جمع کروانے کے وقت شروع ہوتا ہے۔

نقل کرانے والا بھی ساتھ ہی درخواست جمع کروا دیتا ہے اور اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ کمرۂ امتحان میں دونوں زیادہ دور نہ بیٹھے ہوں۔

اس کے بعد امتحان ختم ہونے سے ذرا دیر پہلے کاپیاں خاموشی سے بدل لی جاتی ہیں۔

ایک دوسرا طریقہ یہ کہ پیشہ ور سوالات حل کرنے والا اپنے شناختی کارڈ میں جعلسازی کرکے اپنے موکل کی جگہ امتحان دیتا ہے۔

رشوت کا آزمودہ طریقہ

تصویر کے کاپی رائٹ

قوت خرید اور امتحان دینے والوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے ممتحن اور جانچ کرنے والے پینل کے ارکان کی چاندی ہوگئی ہے کیونکہ طلبہ انہیں بھاری بھرکم رقم پیش کر سکتے ہیں۔

گزشتہ برس مدھ پردیش میں آٹھ اعلیٰ حکام کو ایک پیشہ ورانہ امتحان میں رشوت لینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

بی بی سی کی ایک تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ ریاست مدھ پردیش کی جامعات میں رشوت لینا اس قدر مقبول ہے کہ ’اب وہاں نوجوانوں کا ایک طبقہ مجبور طلبہ اور انتظامیہ کے مابین باقاعدہ طور پر دلالی کرتا ہے۔‘

سماجی روابط

تصویر کے کاپی رائٹ PA

موبائل فون اور سماجی رابطے نقل میں مدد حاصل کرنے کے جدید آلات بنتے جا رہے ہیں۔

یہ بہت ہی سادہ طریقۂ کار ہے۔ کسی طرح سے امتحانی پرچہ حاصل کرکے اسے سوشل میڈیا پر نشر کر دیا جاتا ہے۔

اترپردیش میں ایک پرچے کا امتحان جس میں ساڑھے چار لاکھ سے زیادہ طلبہ شریک تھے اسی بنا پر منسوخ کر دیا گیا تھا کہ وہ شروع ہونے سے پہلے ہی وٹس اپ پر گردش کر رہا تھا۔

اسی طرح ممتاز جامعہ دلی اور جنوبی ہند کے بعض کالجوں میں بھی اسے واقعات پیش آئے ہیں۔

امتحانی پرچوں اور سوالات تک رسائی کے لیے ایمیل ہیکنگ یا برقیاتی ڈاک میں نقب کے واقعات نے حکام کو ڈیٹا پروٹیکشن یا برقیاتی معلومات کے تحفظ میں زیادہ سرمایہ کاری پر مجبور کر دیا ہے۔

اسی بارے میں