کشمیر میں عوامی افطار کا ریکارڈ بنانے کی تیاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اس ریکارڈ کی تصدیق کرنے کے لیے لمکا بُک آف ریکارڈز کے مبصرین بھی وادی میں موجود ہیں(فائل فوٹو)

بھارت کے زیرانتظام کشمیر کی جھیل ڈل کے کنارے طویل ترین دسترخوان پر افطار کی تیاری مکمل کی جاری ہیں۔

22سالہ احمر خان کے مطابق سنیچر کی شام پونے دو کلومیٹر طویل عوامی افطار کے اہتمام سے وہ دبئی کا ریکارڑ توڑنے میں کامیاب تو ہو جائیں گے، لیکن ان کا اصل مقصد کشمیر میں شام کے سیر سپاٹے کے رواج کو بحال کرنا ہے۔

کشمیر میں مظاہروں کے دوران رمضان کا آغاز

احمر اور اس کے چار دوستوں کی کمپنی ’لاوڈ بیٹل‘ کو فی الوقت سات سو رضاکاروں کا عملی تعاون حاصل ہوگیا ہے۔

احمر اور یہ سبھی رضاکار جھیل ڈل کے کنارے پونے دو کلومیٹر کی مسافت پر قالین اور دسترخوان بچھا رہے ہیں۔

جمعہ کی شام کشمیر کی خوبصورت جھیل کے کنارے ہونے والا یہ اجتماعی افطار ایشیا کا سب سے طویل افطار ہوگا۔

اس سے قبل دُبئی میں عوامی افطار کے لیے 1.3 کلومیٹر طویل دسترخوان بچھایا گیا۔ یہ ایشیا میں کشمیر کا ہی نہیں بھارت کا بھی ریکارڈ ہوگا۔

اس ریکارڈ کی تصدیق کرنے کے لیے لمکا بُک آف ریکارڈز کے مبصرین بھی یہاں موجود ہیں۔

منتظمین کو توقع ہے کہ اس عوامی افطار میں تین ہزار سے زائد لوگ شرکت کریں گے۔

Image caption منتظمین کے مطابق وہ شام کے وقت سیر سپاٹے کو فروغ دینا چاہتے ہیں

احمر خان کہتے ہیں:’مجھے ریکارڈ بنانے کا جنون نہیں ہے۔ میں تو یہاں شام کی زندگی بحال کرنا چاہتا ہوں۔ شام کو سورج ڈوبتے ہی لوگ غائب ہو جاتے ہیں اور بازاروں میں سناٹا چھاجاتا ہے، مجھے اس کلچر کو بدلنا ہے۔‘

خیال رہے کہ 1989 میں جب کشمیر میں مسلح شورش شروع ہوئی تو بھارتی فوج اور پولیس نے اسے دبانے کے لیے شہری آبادیوں میں کریک ڈاون کیا اورگرفتاریوں اور ہلاکتوں کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو گیا۔

اب تو سری نگر اور بڑے قصبوں میں مسلح کارروائیاں نہیں ہوتیں اور مجموعی طور پر یہاں شدت پسندی کے واقعات میں کمی آئی ہے لیکن قریب ایک دہائی تک جنگ جیسی صورتحال میں رہنے کے باعث لوگوں میں شام کو جلدی گھر جانے کی عادت پختہ ہو چکی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

احمر کے ساتھی اکیل حسن کہتے ہیں: ’کشمیر تو شام کو قبرستان لگتا ہے، چند سیاح ہوتے ہیں اور چند گاڑیاں۔ یہ سب بدلنا چاہیے، ورنہ ہماری قوم نفسیاتی طور بیمار ہوجائے گی۔‘

احمر کا کہنا ہے کہ طویل ترین افطار کے لیے انھوں حکومت سے نہیں بلکہ مقامی تاجروں سے تعاون لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ افطار میں کھجور، بیر کا شربت، میوہ جات اور نہاری رکھیں گے۔

کھانے پینے، قالین اور دسترخوان اور گاڑیوں کے انتظام کے لیے احمر کو لوگوں نے مدد فراہم کی ہے۔

احمر کا کہنا ہے کہ انہیں زیادہ مشقت لوگوں کو یہ سمجھانے میں کرنا پڑی کہ عوامی افطار کی یہ تقریب نفع کمانے کی کوئی سرگرمی نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’یہاں کی اجتماعی سوچ میں بھی بہت ابہام ہے۔ لوگ عجیب سوال کرتے ہیں۔ لیکن ہم فی الوقت سوال کرنے والوں پر توجہ نہیں دے رہے، کیونکہ اس ایونٹ کی وجہ سے کشمیر میں ایک نیا کلچر پروان چڑھے گا اور ہم وہی چاہتے ہیں۔‘

جمعرات سے ہی احمر اور ان کے ساتھی جھیل ڈل کے کنارے انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مشغول تھے۔

اسی بارے میں