’دولتِ اسلامیہ کے رہنما سعید خان ڈرون حملے میں ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعید خان نےگذشتہ برس اکتوبر میں ہی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی تھی

افغان حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مشرقی علاقے میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے سربراہ حافظ سعید خان ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغانستان کے خبر رساں ادارے افغان اسلامک پریس نے ملک کے خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹریٹ آف سکیورٹی کے حوالے سے بتایا ہے کہ سعید خان کو صوبہ ننگرہار کے ضلع آچین میں ہونے والے میزائل حملے میں مارا گیا۔

ٹی ٹی پی کے منحرف رہنما اب دولتِ اسلامیہ کے کمانڈر

اے آئی پی کا کہنا ہے کہ یہ حملہ جمعے کو ہوا اور یہ واضح نہیں کہ اس میں اور کتنے شدت پسند ہلاک ہوئے۔

تاہم ننگرہار پولیس کے ترجمان حضرت حسین مشرقی نے کہا ہے کہ غیر ملکی افواج کے ڈرون طیارے نے آچین میں ششپارپیخی کے علاقے میں گذشتہ روز حملہ کیا جس میں 30 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے سعید خان ماضی میں اس علاقے میں تحریکِ طالبان پاکستان کے امیر تھے اور انھوں نے گذشتہ برس اکتوبر میں ہی دولتِ اسلامیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔

عراق اور شام میں اسلامی خلافت کا اعلان کرنے والی شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے رواں برس جنوری میں انھیں باضابطہ طور پر ’خراسان‘ کے خطے سمیت پاکستان اور افغانستان کے لیے اپنا امیر مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

وہ رواں ہفتے دولتِ اسلامیہ کے ہلاک کیے جانے والے ایسے دوسرے اہم رہنما ہیں جن کا ماضی میں پاکستانی طالبان سے تعلق رہا ہے۔

دو روز قبل ننگر ہار میں ہی ایک ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق مرکزی ترجمان اور افغانستان میں’دولت اسلامیہ‘ میں تیسرے بڑے رہنما شاہد اللہ شاہد کو مارا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ 1
Image caption تحریکِ طالبان چھوڑنے والوں میں شاہد اللہ شاہد کے علاوہ سعید خان، فاتح گل زمان، دولت اللہ، مفتی حسن اور خالد منصور شامل تھے

یہ ہلاکتیں ایک ایسے موقع پر ہو رہی ہیں جب ایک طرف افغانستان میں طالبان اور ’دولت اسلامیہ‘ کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے تو دوسری جانب افغان طالبان اور افغان حکومت کے درمیان پاکستان میں بات چیت ہوئی ہے۔

حافظ سعید خان کا تعلق اورکزئی ایجنسی کے قبیلے ماموں زئی سے بتایا جاتا ہے۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق انھوں نے تحریک طالبان پاکستان سے اپنی راہ تقریباً ایک سال پہلے اس وقت جدا کی جب نومبر 2013 میں پاکستانی طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے ساتھ ہی طالبان میں امارت کے معاملے پر اختلافات کھول کر سامنے آئے تھے اور جو تین کمانڈر امارت کے امیدواروں کے طور پر سامنے آئے ان میں مولوی فضل اللہ ، خان سید سجنا اور حافظ سعید خان شامل تھے۔

جب فضل اللہ کو پاکستانی طالبان کا امیر مقرر کیا گیا تو حافظ سعید اورکزئی ایجنسی اور بعض دیگر علاقوں کے کمانڈروں سمیت تحریک کی کارروائیوں سے الگ ہوگئے اور انھوں نے اپنا الگ گروپ بنانے کے لیے کوششیں شروع کر دی تھیں۔

اس کے بعد حافظ سعید خان کی جانب سے ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ تحریک طالبان سے منحرف ہونے والے 10 کمانڈروں سمیت شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کی بیعت کرتے نظر آئے تھے۔

سعید خان کے دولتِ اسلامیہ میں جانے کو پاکستانی طالبان نے بڑا نقصان قرار دیا تھا۔ ان شدت پسند رہنماؤں کی دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے وقت کہا گیا تھا کہ منحرف ہونے والے افراد کو افغان طالبان کے سربراہ ملا عمر کی امارت پر شک تھا۔

اسی بارے میں