’ملک بدر کیے گئے اویغور شام اور عراق جا رہے تھے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تھائی لینڈ کی جانب سے اویغروں کی ملک بدری پر اقوام متحدہ، امریکہ اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے تنقید کی

چین کی ریاستی خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے دعویٰ کیا ہے کہ تھائی لینڈ سے جن 109 چینی اویغوروں کو ملک بدر کیا گیا ہے وہ مشرق وسطیٰ جہادی بننے جا رہے تھے۔

ریاستی ٹی وی پر ایک فوٹیج دکھائی گئی ہے جس میں ان اویغوروں کے چہروں پر نقاب ڈالے ہوئے ہیں اور ان کے ہمراہ پولیس الکار موجود ہیں۔

یاد رہے کہ ان افراد کو تھائی لینڈ نے جمعرات کو ملک بدر کر کے چین کے حوالے کر دیا تھا۔

تھائی لینڈ کے اس اقدام پر اقوام متحدہ، امریکہ اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے تنقید کی گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز چین کے ریاستی ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اویغور باشندے عراق اور شام میں سرگرم شدت پسندوں کا ساتھ دینے جا رہے تھے۔

چین میں دو کروڑ اویغور مسلمان آباد ہیں اور چینی صوبے سنکیانگ سے سینکڑوں اویغور چینی حکام کی جانب سے کارروائیوں سے بچنے کے لیے جنوب مشرقی ایشیا کے راستے ترکی جا رہے ہیں۔

تھائی لینڈ کی جانب سے جمعرات کو 109 اویغوروں کو ملک بدر کرنے پر ترکی میں اویغوروں نے احتجاج کیا۔

سنیچر کی رات کو چین کے ریاستی ٹی وی چینل پر چلنے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ملک بدر ہو کر چین پہنچنے والے چند اویغوروں نےاعترف کیا ہے کہ ایسٹرن ترکستان اسلامک موومنٹ کی جانب سے جاری پیغامات نے ان کو شام اور عراق جانے کے لیے ورغلایا۔

چین کے ایک اعلیٰ پولیس افسر کا کہنا ہے کہ جو اویغور ترکی پہنچ رہے تھے ان کو شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے لڑنے کے لیے بیچا جا رہا تھا۔

ٹی وی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک بدر ہو کر چین پہنچنے والوں میں 13 افراد پر شدت پسندی کی کارروائیوں میں ملوث رہنے کا شک ہے۔

دوسری جانب ورلڈ اویغور کانگریس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان افراد کو جس طرح نقاب پہنا کر جہاز سے اتارتے ہوئے دکھایا گیا ہے اس سے ان افراد کی عزت نفس مجروح ہوئی ہے۔

دریں اثنا چین کے دفتر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے ملک بدری کے اقدام پر مذمت پر امریکہ سے احتجاج کیا ہے۔

چین کے دفترِ خارجہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی بیان میں حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں