’کبھی کسی ایرانی کو نہ دھمکانا!‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات کے دوران موسم گرم ہو رہا ہے اور مزاج بگڑ رہے ہیں۔ لیکن تلخ کلامی کے ایک خاص واقعے کی اطلاعات کے بعد تو سوشل میڈیا پر اس بارے میں پیغامات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مغربی طاقتیں، روس اور ایران دو ہفتوں سے زیادہ عرصے سے ویانا میں ایران کے جوہری پروگرام پر کسی معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس میں پیش رفت بہت سست ہے۔

یہ مذاکرات ہو تو بند دروازوں کے پیچھے رہے ہیں لیکن ایسی اطلاعات ہیں کہ ان کا ماحول ہمیشہ پرامن اور سفارتی نہیں رہا۔

گذشتہ ہفتے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ماحول اس وقت تلخ ہوگیا جب ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے اپنے حریف ممبران کو چلا کر کہا تھا کہ ’کبھی کسی ایرانی کو نہ دھمکانا!‘

ایران کے خبر رساں ادارے مہر نے اس واقعے کو رپورٹ کیا جس کے فوراً بعد ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے بھی یہ خبر شائع کی تھی۔

اور جلد ہی ٹوئٹر پر NeverThreatenAnIranian# نامی ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگ گیا۔

انگریزی زبان کے اس ہیش ٹیگ کا پانچ ہزار مرتبہ ذکر ہوا اور ساتھ ہی کئی خاکے بھی شائع کیے گئے۔

سب سے معروف ہونے والی ایک تصویر میں وزیر خارجہ ظریف کو بطور کامک بک کردار ’ہلک‘ دکھایا گیا تھا:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کئی ٹوئٹر صارفین نے وزیر خارجہ ظریف اور ان کی مذاکراتی ٹیم کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا جس کی ایک مثال تہران سے ایک صحافی کا یہ پیغام ہے:

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

تاہم ایرانی حکومت کے کئی مخالفین نے بظاہر سنہ 2009 میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف حکومت کے پرتشدد کریک ڈاؤن کی تصاویر شائع کیں جس کا مقصد یہ پیغام پہنچانا تھا کہ ایرانی عوام محسوس کرتے ہیں کہ حکام انھیں دھمکاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

فی الحال ادھر ویانا میں مذاکرات جاری ہیں اور اس کے اہم نکات میں ایران کے جوہری پلانٹ کا معائنہ اور اس پر لگی اقتصادی پابندیوں کو ختم کرنا شامل ہے۔

اسی بارے میں