جنگل سے شیر کے 11 نوزائیدہ بچے ملے

Image caption گجرات میں گیر کے جنگلات ایشیائی شیروں کا آخری مسکن ہیں۔

بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں محکمہ جنگلی حیات کےحکام کو 10 شیروں کی ہلاکت کے بعد اب خوشی منانے کا موقع میسر آگیا ہے۔

سیلاب میں دس ایشیائی شیروں کی ہلاکت کے کئی ہفتوں بعد محکمہ جنگلات کے حکام کو شیر کے 11 نوزائیدہ بچے ملے ہیں۔

ایشیائی شیروں کی تعداد میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ sandeep kumar
Image caption 20ویں صدی کے آغاز میں ان شیروں کی تعداد چند درجن تک جا پہنچی تھی

یہ بچے سوشل میڈیا پر بھی مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔

فارسیٹ حکام نے چار حاملہ شیرنیوں کو بھی ڈھونڈ نکالا ہے جس کے بعد توقع ہے کہ شیر کے بچوں کی تعداد مزید بڑھ جائے گی۔

خیال رہے کہ گجرات کے گیر کے جنگلات ایشیائی شیروں کا یہ آخری مسکن ہیں۔

خشک سالی اور شکار سمیت دیگر وجوہات کی بنا پر یہاں موجود لاتعداد شیروں کی تعداد 20ویں صدی کے آغاز بعد سے چند درجن تک جا پہنچی تھی۔

تاہم پھر بعد میں شیر کے شکار پر پابندی عائد ہونے اور متعدد احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بعد ان کی آبادی میں تسلی بخش اضافہ ہوا۔

رواں سال مئی میں گجرات کے وزیراعلیٰ وزیر اعلی آنندی بین پٹیل نے بتایا کہ سن 2010 میں یہاں شیروں کی تعداد 411 تھی اور سنہ 2015 میں یہ تعداد 523 تک جا پہنچی تھی۔

پہلے شیر کی یہ نسل پورے شمالی بھارت میں پائی جاتی تھی لیکن اب یہ صرف گجرات کے گیر جنگلوں میں پائی جاتی ہے جو سوراشٹر علاقے میں آٹھ اضلاع پر محیط ہے۔

اشیائی شیر کی نسل افریقہ میں بھی پائی جاتی ہے لیکن وہاں اس کی تعداد میں مسلسل کمی دیکھی جا رہی ہے۔

اسی بارے میں