’سکول بیگ کا وزن بچے کے وزن کا 10 فیصد ہو‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ریاستی حکام نے متنبہ کیا ہے کہ بھاری سکول بیگ کی وجہ سے بچے تھک جاتے ہیں اور ان کی ریڑھ کی ہڈی کو بھی نقصان پہنچتا ہے

بھارت کی مغربی ریاست مہاراشٹر نے بچوں کو بھاری سکول بیگ سے نقصان سے بچانے کے لیے حکم جاری کیا ہے کہ بیگ کا وزن بچے کے وزن کے 10 فیصد سے زیادہ نہ ہو۔

ریاستی حکام نے متنبہ کیا ہے کہ بھاری سکول بیگ کی وجہ سے بچے تھک جاتے ہیں اور ان کی ریڑھ کی ہڈی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔

ریاستی حکام نے سکول حکام سے کہا ہے کہ وہ بچوں کے بیگوں کا وزن کریں۔ تاہم حکام نے کوئی سزا کا تعین نہیں کیا ہے۔

بھارت میں بچوں پر کامیاب ہونے کا شدید دباؤ ہوتا ہے اور وہ اکثر ضرورت سے زیادہ کتابیں ساتھ لے کر جاتے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ایگزیکیو آرڈر میں نند کمار نے کہا ہے ’ہمیں معلوم چلا ہے کہ کاپیوں اور کتابوں کے باعث سکول بیگ کا وزن بچوں کے وزن کا 20 سے 30 فیصد تک ہوتا ہے۔ سکولوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ بچوں کو پینے کا پانی اور کھانا فراہم کریں اور کتابیں سکول ہی میں رکھنے کے لیے جگہ مہیا کریں۔‘

ایک طالب علم نے ڈیلی نیوز اینڈ انیلیسس سے بات کرتے ہوئے کہا ’مجھے خوشی ہے کہ میں اب ہلکا بیگ سکول لے کر جاؤں گا۔ شروع میں بیگ کا وزن اٹھانے کے بعد میرے میں کھیلنے کے لیے توانائی نہیں رہتی تھی۔ لیکن اب میں واپس گھر ہلکا بیگ اٹھا کر لے جایا کروں گا۔‘