’طالبان کا سیاسی دفتر حکومت کے ساتھ مذاکرت میں شامل نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے عہدہدران شامل نہیں تھے

افغان طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر نے افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں شامل نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

جمعرات کو طالبان نے ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے میں قطر دفتر نہ شریک ہے اور نہ اسے اس عمل کا کوئی علم ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت آیا ہے جب ایک دن پہلے بدھ کو افغان حکام نے تصدیق کی تھی کہ افغان طالبان تحریک کے امیر ملا محمد عمر دو برس قبل پاکستان میں انتقال کر گئے تھے۔

’افغان طالبان سے بات چیت کا دوسرا دور جولائی کے آخر میں‘

افغانستان میں امن کے لیے بات چیت کرنا ’جائز‘ ہے: ملا عمر

’طالبان جس مسئلے پر بھی بات کرنا چاہیں، ہم کریں گے‘

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرت کا دوسرا دور رواں ہفتے ہونے کا امکان ہے۔

طالبان کی ویب سائٹ پر جاری اس مختصر بیان میں ذرائع ابلاغ میں مذاکرات کے بارے میں نشر ہونے والی خبروں کا حوالے دیتے ہوئے کہا ہے کہ انھیں اس بابت تمام اختیارات اپنے سیاسی دفتر (یعنی قطر دفتر) کو سونپی دیے ہیں

’جسے اس بارے (مذاکرات) کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔‘

Image caption افغانستان کی سکیورٹی سروس کے ایک ترجمان نے بدھ کو کہا تھا ملا عمر دو برس قبل پاکستان میں انتقال کر گئے تھے

اس سے قبل افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل کے ترجمان مولوی شہزادہ شاہد نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا آئندہ دور ماہِ رواں کے آخر میں منعقد ہو سکتا ہے۔

تنظیم نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا کہ اپنی پالیسی کے عین مطابق تمام سیاسی امور کے لیے ایک خاص دفتر قائم کیا ہے۔’ہم یہ بات پہلے بھی کئی مرتبہ واضح کرچکے ہیں۔‘

اس بیان سے طالبان کے اندر دھڑے بندی کے اشارے ملتے ہیں اور یہ واضح ہوتا ہے کہ قطر دفتر کے نمائندے افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں شریک نہیں تھے۔

اس سے قبل افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور پاکستان کے سیاحتی مقام مری میں ہوا تھا۔ سات جولائی کو ہونے والے مذاکرت میں طالبان کی جانب ملا عباس اخوند، عبدالطیف منصور اور حاجی ابراہیم حقانی شریک تھے۔

پاکستان میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان کے قطر میں قائم سیاسی دفتر کے عہدیدران شامل نہیں تھے۔

مذاکرات کے پہلے مرحلے میں طالبان کے قطر دفتر کی عدم شمولیت اور آئندہ مذاکرات میں اُن کی نمائندگی کے حوالے سے مولوی شہزادہ شاہد نے کہا کہ مذاکرات کے دوسرے دور میں طالبان کے قطر دفتر کی نمائندگی ہونی چاہیے۔

افغان اُمور کے ماہرین کے خیال میں طالبان کے حالیہ بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مری میں ہونے والے مذاکرات میں شریک ہونے والے طالبان نمائندوں کا طالبان کے قطر دفتر کے دھڑے سے تعلق نہیں تھا یا انھیں اُن کی سرپرستی حاصل نہیں تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مری میں ہونے والے مذاکرات میں شریک ہونے والے طالبان نمائندوں کا طالبان کے قطر دفتر کے دھڑے سے تعلق نہیں تھا

افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے متوقع دوسرے راونڈ کے آغاز کے موقع پر ایسے بیانات کا سامنے آنا قیام امن کی کوششوں کے لیے اچھا شگون نہیں مانا جا رہا ہے۔

سات جولائی کو پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد آٹھ جولائی کو طالبان کی رہبر شوریٰ نے ایک بیان جاری کیا تھا۔ جس میں مری میں ہونے والے مذاکرات کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن بیان میں بات واضح طور پر کی گئی تھی کہ آئندہ مذاکرت کا اختیار صرف اور صرف سیاسی دفتر ہی کو حاصل ہو گا۔

اسی بارے میں