ملا منصور: ’دھیمے مزاج کے مالک اور مذاکرات کے حامی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملا اختر منصور طالبان دور حکومت کے دوران سول ایوی ایشن کے وزیر رہ چکے ہیں

افغانستان میں طالبان تحریک کے سربراہ ملا محمد اختر منصور کی پاکستان میں ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق جہاں افغان اور امریکی حکام کی جانب سے کر دی گئی ہے وہیں افغان طالبان اور پاکستان کی جانب سے تاحال اس بارے میں شک کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ملا اختر منصور کو گذشتہ برس جولائی میں افغان طالبان کی اہم کونسل رہبر شوریٰ کی جانب سے امارت اسلامیہ کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔

اسحاق زئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ملا منصور کا تعلق افغانستان کے صوبے قندہار سے تھا جس کی سرحد پاکستان کے صوبے بلوچستان سے ملتی ہے۔

وہ’افغان جہاد‘ کے دوران خیبر پختونخوا کے شہر نوشہرہ میں جلوزئی کے مقام پر ایک مہاجر کیمپ میں دینی مدرسے کے طالب علم بھی رہے۔

طالبان ذرائع کے مطابق ملا اختر منصور نے سابق سویت یونین کے خلاف ایک مختصر عرصے تک جہاد میں حصہ لیا اور اس وقت وہ افغان جہادی پارٹی حزب اسلامی افغانستان (یونس خالص) گروپ سے منسلک تھے۔ وہ سابق افغان صدر ڈاکٹر نجیب کی سوویت یونین نواز حکومت کے خلاف بھی لڑتے رہے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ 90 کی دہائی کے آخر میں جب افغانستان میں ملا عمر کی سربراہی میں تحریک طالبان کا ظہور ہوا تو ملا اختر محمد منصور نے بھی اس تحریک میں شمولیت اختیار کر لی۔

وہ طالبان دور حکومت کے دوران سول ایوی ایشن کے وزیر اور کچھ عرصہ تک قندہار ایئرپورٹ کے انچارج بھی رہ چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’طالبان کے بعض دھڑے ملا اختر منصور کی امارت اسلامیہ کا سربراہ مقرر ہونے سے خوش نہیں‘

تاہم اکتوبر 2001 میں جب امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو دیگر طالبان رہنماؤں کی طرح ملا اختر منصور بھی نامعلوم مقام پر روپوش ہوگئے اور ایک لمبے عرصے تک غائب رہے۔

لیکن جب طالبان قیادت دوبارہ منظم ہوئی تو وہ بھی منظر عام پر آئے اور اس دوران وہ قندہار صوبے کے لیے طالبان کے ’شیڈو‘ گورنر کے عہدے پر بھی فائز رہے۔

طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ طالبان کے ایک اہم رہنما اور ملا عمر کے نائب ملا عبید اللہ آخوند جب پاکستان ایک آپریشن کے دوران گرفتار ہوئے تو اس کے بعد ملا عبدالغنی برادر کو ملا عمر کا نائب مقرر کیا گیا اور اس دوران دو نائب بھی منتخب ہوئے جن میں ایک ملا اختر منصور بھی شامل تھے۔

پشاور میں افغان امور پر کام کرنے والے سینیئر افغان صحافیوں کا کہنا ہے کہ سنہ 2010 میں جب ملا عبدالغنی بردار کو پاکستان کے شہر کراچی میں پاکستان اور امریکی فورسز کی ایک مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تو اس کے بعد ملا اختر منصور کو ملا عمر کا نائب مقرر کیا گیا اور اس دوران انہیں طالبان کے ’رہبر شوری ‘ کے قائم مقام سربراہ کی ذمہ داری بھی سونپی گئی۔

وہ طالبان کے سربراہ مقرر ہونے تک یہ ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے تھے۔

سینیئر افغان صحافی سمیع یوسف زئی نے کئی مرتبہ طالبان کے نئے سربراہ ملا اختر منصور سے ملاقات کی اور ان کے مطابق وہ ایک دھیمے مزاج کی مالک شخصیت اور مذاکرات کے حامی بھی بتائے جاتے ہیں۔

اسی بارے میں