’ہمیں آزاد ہونے میں مزید 68 سال لگ گئے‘

Image caption اب بھارت میں بنگلہ دیشی انكلیو بھارت کا حصہ ہوں گے اور بنگلہ دیش میں بھارتی انكلیو بنگلہ دیش کے ہوں گے

’ہم یہاں ہیں، اس نقشے پر یہاں دیکھیے۔‘

محمد منصور علی، جن کی سفید داڑھی دوپہر کی روشنی میں چمک رہی تھی، ایک پیلی رنگت کے کاغذ پر انگلی رکھ کر دکھاتے ہیں۔’یہ بنگلہ دیش ہے اور یہ ہمارے اردگرد بھارت ہے۔‘

بھارت اور بنگلہ دیش کی حکومتیں سرحدی تنازعے کے خاتمے پر رضامند ہو گئی ہیں۔ یعنی بھارت میں بنگلہ دیشی انكلیو (بستیاں) اب بھارت کا حصہ ہوں گے اور بنگلہ دیش میں بھارتی انكلیو اب بنگلہ دیش کے ہوں گے۔اس میں مجموعی طور پر 150 انکلیوز (بستیاں) شامل ہیں۔

بھارت اور بنگلہ دیش میں سرحدی حدود کا تاریخی معاہدہ

’بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر شہریت کا انتخاب‘

بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحد کے تنازعے کو ختم کرنے کے لیے علاقے کے لین دین کا تاریخی معاہدہ ہوا ہے اُس وقت ہوا تھا جب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ڈھاکہ گئے تھے۔

74 سال کے منصور علی بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال میں بنگلہ دیشی انكلیو (غیر ملکی علاقے) پواتوركتھي میں رہتے ہیں۔

جو دستاویز وہ مجھے دکھا رہے ہیں وہ سنہ 1931 کا زمینی ریکارڈ ہے۔ تب آخری بار اس زمین کا سروے ہوا تھا۔

’تب ہم برٹش انڈیا کا حصہ تھے۔ دیکھیے میرے پاس ہمارے خاندان کے حق کی اصلی دستاویز ہے جس پر شہنشاہ جارج پنجم کی مہر لگی ہے۔ ہمارے پاس مشرقی پاکستان اور بنگلہ دیش کے بھی دستاویز ہیں لیکن ہندوستان کی کوئی دستاویز نہیں ہے۔‘

منصور علی ان تقریباً 50 ہزار شہریوں میں سے ہیں جو گذشتہ دو صدیوں سے جاری اس جغرافیائی تنازع کا شکار ہیں۔

وہ زمین کو ان چھوٹے حصوں یا انكلیو میں رہتے ہیں جو ہیں تو ایک ملک کے لیکن آتے ہیں دوسرے ملک کے اندر۔

یہ علاقے 18 ویں صدی میں مخالف سلطنتوں کے معاہدے کی وجہ سے وجود میں آئے۔

لیکن جب بھارت، پاکستان اور آخر میں بنگلہ دیش کو آزادی ملی تب بھی یہ انكلیو جیسے تھے ویسے ہی رہے۔

Image caption یہ علاقے 18 ویں صدی میں مخالف سلطنتوں کے معاہدے کی وجہ سے وجود میں آئے

ایک اور انكلیو موشالداگا میں رہنے والے زین العابدین کہتے ہیں، ’وہ ہمیں مکمل طور بھول گئے۔‘

زین العابدین کہتے ہیں، ’برسوں تک ہم فٹ بال رہے جسے بھارت اور بنگلہ دیش ٹھوکر مارتے رہے۔‘

اب دونوں ممالک کی حکومتیں انكلیو ادھر ادھر کرنے پر رضامند ہو گئی ہیں۔ یعنی بھارت میں بنگلہ دیشی انكلیو اب بھارت کا حصہ ہوں گے اور بنگلہ دیش میں بھارتی انكلیو اب بنگلہ دیش کے ہوں گے۔

منصور علی کہتے ہیں، ’میں نے تین ممالک کی آزادی دیکھی ہے. بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش۔‘

’لیکن ہم خود کبھی آزاد نہیں رہے۔ ہمیں آزاد ہونے میں 68 سال اور لگے۔‘

پوتوركتھي بھارت بنگلہ دیش سرحد سے صرف سات کلومیٹر دور ہے لیکن چاروں طرف سے بھارتی علاقے میں گھرے ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگ اس ملک میں نہیں جا سکتے جہاں کے وہ شہری ہیں۔

اسی وجہ سے انھیں بجلی، پانی، سکول، ہسپتال جیسی عوامی سہولیات مہیا نہیں ہو پاتی ہیں۔

Image caption ضروریات کے لیے ان انكلیو سے باہر جانا پڑتا ہے جو بذات خود ایک مختلف مسئلہ ہے

منصور علی کہتے ہیں، ’رات کو ہم اپنے گھروں میں مٹی کے تیل سے لالٹین جلاتے ہیں۔‘ضروریات کے لیے ان انكلیو سے باہر جانا پڑتا ہے جو بذات خود ایک مختلف مسئلہ ہے۔

عالمگیر حسین کہتے ہیں، ’ہمارے پاس کوئی شناخت نہیں ہے۔‘

اسی وجہ سے وہ ہر وقت گرفتاری کے خوف میں رہتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی بھی درست دستاویزات نہیں ہیں۔اس کا صرف ایک ہی حل تھا۔ دھوکہ دہی سے دستاویزات بنوانا۔

عالمگیر کہتے ہیں، ’ہم کسی ہندوستانی کو پکڑتے ہیں اور اس اپنے لواحقین ہونے کا ڈرامہ کرنے کے لیے کہتے ہیں۔‘

’ایسا کر کے ہی ہمیں سکول یا ہسپتالوں میں داخلے ملتے ہیں۔‘

پوتوركتھي کے اہم چوراہے پر بیٹھے لوگ بحث کر رہے ہیں۔بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان ہوئے معاہدے کے نتیجے میں یہ انكلیو سنیچر کو بھارت میں شامل ہونے جا رہا ہے اور وہ اسی پر بحث کر رہے ہیں۔

Image caption پوتوركتھي بھارت بنگلہ دیش سرحد سے صرف سات کلومیٹر دور ہے لیکن چاروں طرف سے بھارتی علاقے میں گھرے ہونے کی وجہ سے یہاں کے لوگ اس ملک میں نہیں جا سکتے جہاں کے وہ شہری ہیں

زین العابدین کہتے ہیں، ’اتنے سالوں سے ہم کسی جنگل میں رہ رہے تھے۔اب جب ہمارے علاقے ضم کیے جا رہے ہیں تو ہم وہ تمام سہولیات حاصل کرنا چاہتے ہیں جو شہریوں کو ملتی ہیں۔‘

وہ اپنی بات ختم کر ہی رہے ہوتے ہیں کہ ایک لال بتی لگی گاڑی آکر رکتی ہے اور وہاں سرگرمیاں تیز ہو جاتی ہیں۔ضلع کے افسر كرشابھا گھوش آئے ہیں۔

گاؤں والے ان کے لیے کرسی لے کر آتے ہیں اور وہ بھی بات چیت میں شامل ہو جاتے ہیں۔ جلد ہی ایک ٹرے میں چائے بھی آ جاتی ہے۔ وہ یہاں کی منتقلی کا کام کاج دیکھنے آئے ہیں۔

ضلع افسر کہتے ہیں، ’ایک تقریب منعقد ہوگی اور ہندوستان کا پرچم لہرایا جائے گا۔ اس تاریخ کو بنتے دیکھنا میرے لیے بھی دلچسپ ہے۔‘

لیکن گاؤں والوں کے پاس بات کرنے کے لیے کچھ اور بڑے مسائل ہیں۔ایک پوچھتا ہے، ’ہمیں اپنے شناختی کارڈ کب تک ملیں گے؟‘

وہ افسر سے پوچھتے ہیں، ’سکول کب تک بنے گا اور بجلی کب تک آئے گی؟‘

Image caption انكلیو کے سکول ٹین شیڈ سے زیادہ کچھ نہیں ہیں

گھوش ان کی فہرست بنانے کے لیے کہتے ہیں اور دوبارہ واپس کرنے کا وعدہ کرتے ہیں۔ اب وہ بھی ان کی ذمہ داری کا حصہ ہیں۔

انكلیو کے سکول ٹین شیڈ سے زیادہ کچھ نہیں ہیں، سکول کے بچوں کے ایک گروپ بھارت کے قومی ترانے کی مشق کر رہا ہے۔ وہ اب اس میں ماہر نہیں ہے اور سکول اساتذہ کی مدد سے رٹ رہے ہیں۔

آنکھوں میں چمک لیے اپنے بچوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے منصور علی کہتے ہیں، ’میرے باپ دادا چلے گئے، میں بھی چلا جاؤں گا لیکن کم از کم یہ تو آزاد رہیں گے۔‘

’ان کے پاس شہریوں کے تمام حقوق ہوں گے اور ایک قابل احترام شناخت کے ساتھ جی سکیں گے۔‘

اسی بارے میں