بھارت اور بنگلہ دیش کا سرحدی بستیوں کا تاریخی تبادلہ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بھارت اور بنگلہ دیش نے اپنی سرحد پر واقع 162 انکلیوز یا چھوٹی بستیوں کے کنٹرول کا تبادلہ کر کے طویل عرصے سے جاری سرحدی تنازع ختم کر لیا ہے۔

یہ معاہدہ جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب مقامی وقت کے مطابق 12 بجے عمل میں آیا اور اس کے تحت بھارتی حدود میں واقع بستیاں بھارت اور بنگلہ دیشی حدود میں واقع بستیاں بنگلہ دیش کا حصہ قرار دی گئی ہیں۔

’ہمیں تو آزاد ہونے میں مزید 68 سال لگ گئے‘

بھارت اور بنگلہ دیش میں سرحدی حدود کا تاریخی معاہدہ

’بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر شہریت کا انتخاب‘

مقررہ وقت پر ان بستیوں میں بنگلہ دیش اور بھارت کے قومی پرچم لہرا کر ان کی متعلقہ ملک میں شمولیت کا اعلان کیا گیا۔

یہ بستیاں 18ویں صدی میں قائم ہوئی تھیں اور برصغیر کی تقسیم اور پھر بنگلہ دیش کے قیام کے باوجود ان کے باسیوں کی شہریت کا مسئلہ حل طلب رہا تھا۔

بی بی سی کے سنجے مجمدار کے مطابق 1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد تقریباً چھ دہائیوں تک ان افراد سے بےوطن افراد کا سا سلوک ہوتا رہا اور یہ بنیادی سہولیات سے بھی محروم رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sazzad ur rahman
Image caption بھارتی علاقے میں واقع 51 بنگلہ دیشی بستیوں کے تمام رہائشیوں نے شہریت بدل کر بھارتی شہری بننے کا فیصلہ کیا ہے

تاہم اب بھارت اور بنگلہ دیش کے اس تاریخی معاہدہ سے اب انھیں ان کی شناخت مل جائے گی۔

اب ان بستیوں کے 50 ہزار رہائشیوں کو یہ حق دیا گیا تھا کہ وہ بھارت یا بنگلہ دیش کسی ایک ملک کی بستی میں رہائش رکھیں اور اس ملک کی شہریت حاصل کر لیں۔

ان 162 میں سے 111 بستیاں بنگلہ دیشی علاقے میں جبکہ 51 بھارتی علاقے میں واقع ہیں اور اگر ان بستیوں کے رہائشی اپنی پرانی جگہ پر رہنا چاہیں گے تو انھیں شہریت تبدیل کرنا ہوگی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیشی حدود میں قائم بھارتی بستیوں کے رہائشیوں کی اکثریت نے بنگلہ دیش کا شہری بننے کو ترجیح دی جبکہ ایک ہزار کے قریب افراد نے بھارتی شہریت نہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

اب یہ ایک ہزار افراد نومبر میں اپنے گھر بار چھوڑ کر بھارتی ریاست مغربی بنگال میں جا کر دوبارہ آباد ہوں گے۔

ادھر بھارتی علاقے میں واقع 51 بنگلہ دیشی بستیوں کے تمام رہائشیوں نے شہریت بدل کر بھارتی شہری بننے کا فیصلہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ ان بستیوں کے کنٹرول کے بارے میں معاہدے کی بنگلہ دیش نے تو 1974 میں ہی منظوری دے تھی لیکن بھارت کی جانب سے اس پر رواں برس جون میں وزیرِ اعظم نریندر مودی کے دورۂ ڈھاکہ کے موقع پر ہی دستخط کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں