’امن مذاکرات کا عمل دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بعض طالبان جنگجوؤں نے پاکستان کے قریبی حلقوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملا منصور کی سربراہی زبردستی اُن پر تھوپ رہے ہیں

افغان طالبان تحریک کے نئے امیر ملا اختر منصور نے ایک آڈیو پیغام میں متحد رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جنگ جاری رکھیں گے۔

اس سے پہلے بی بی سی کی اطلاعات کے مطابق طالبان کے امیر ملا عمر کی موت کے بعد تحریک کے نئے سربراہ ملا اختر منصور کی تقرری طالبان سپریم کونسل کی مشاورت کے بغیر کی گئی ہے۔

30 منٹ کے آڈیو پیغام میں ملا اختر منصور نے کہا ہے کہ جنگجوؤں کو متحد رہنا چاہیے کیونکہ’ہمارے درمیان تفریق صرف دشمنوں کو ہی خوش کر سکتی ہے۔‘

’ملا اختر منصور باضابطہ امیر مقرر‘ شوریٰ میں اختلاف برقرار

حقانی نیٹ ورک: سب سے زیادہ خطرناک

سنیچر کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملا اختر منصور کا بیان صحافیوں کو پہنچایا ہے ۔

اس پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ’ طالبان اس وقت تک اپنا جہاد جاری رکھیں گے جب تک ملک میں اسلامی حکومت قائم نہیں ہو جاتی ہے۔

بعض طالبان جنگجوؤں نے پاکستان کے قریبی حلقوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملا منصور کی سربراہی زبردستی اُن پر تھوپ رہے ہیں کیونکہ ملا منصور امن مذاکرات کے حامی ہیں۔

تاہم ملا اختر منصور نے اپنے پیغام میں امن مذاکرات کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ’یہ دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے۔‘

ملا اختر منصور کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ امن مذاکرات کے حامی ہیں لیکن اب بظاہر امن مذاکرات سے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔

اس سے پہلے طالبان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں ملا اختر منصور کو باضابطہ طور پر تحریکِ طالبان کا سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

طالبان کی جانب سے اس بارے میں جاری کیے جانے والے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ نئے امیر کی نیابت کے لیے دو طالبان رہنماؤں کا انتخاب بھی کیا گیا ہے جن میں سے ایک حقانی نیٹ ورک کے سربراہ سراج الدین حقانی اور دوسرے طالبان کے قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز ملا ہیبت اللہ اخونزادہ ہیں۔

تاہم افغانستان میں شدت پسند گروپ حقانی نیٹ ورک کے قریبی ذرائع کے مطابق گروپ کے سربراہ جلال الدین حقانی ایک برس قبل انتقال کر گئے تھے۔

بی بی سی پشتو کے نامہ نگار عنایت اللہ یاسینی کے مطابق طالبان کے ذرائع نے بتایا ہے کہ انھیں (ملا اختر منصور کو) تمام طالبان کی جانب سے سربراہ مقرر نہیں کیا گیا ہے جو کہ شریعت کے قوانین کے خلاف ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ طالبان اپنے شوریٰ اجلاس میں نئے سربراہ کا انتخاب کرے گی۔

خیال رہے کہ طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ کسی نامعلوم مقام پر ہونے والے اجلاس میں طالبان کی رہبری شوریٰ کے اراکین اور جید علماء نے مشاورت کے بعد ملا محمد عمر کے قریبی ساتھی ملا اختر منصور کو نیا امیر مقرر کیا ہے۔

بعض طالبان جنگجوؤں نے پاکستان کے قریبی حلقوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ملا منصور کی سربراہی زبردستی اُن پر تھوپ رہے ہیں کیونکہ ملا منصور امن مذاکرات کے حامی ہیں۔

طالبان کا ایک گروہ ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو تحریک کا سربراہ مقرر کرنا چاہتا ہے۔

طالبان کے ترجمان ملا عبدالمنان نیازی نے کہا ہے کہ ’ملا منصور کو منتخب کرنے والوں نے قواعد کے مطابق فیصلہ نہیں کیا۔اسلامی قوانین کے تحت جب امیر فوت ہو جاتا ہے تو شوریٰ کا اجلاس بلوایا جاتا ہے اور پھر نیا امیر مقرر کیا جاتا ہے۔‘

ملا عمر نے 20 سال تک تحریک طالبان کی قیادت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

جمعرات کو طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد اور ملا عمر کے خاندان کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں ان کی موت کا اعلان کرتے ہوئے یہ تو نہیں بتایا گیا کہ ملا عمر کا انتقال کب اور کہاں ہوا تاہم یہ ضرور کہا گیا ہے کہ ’ان کی صحت آخری دو ہفتے میں بہت بگڑ گئی تھی۔‘

بیان میں ان اطلاعات کی سختی سے تردید کی گئی ہے کہ ملا عمر کا انتقال پاکستان کے شہر کراچی کے ایک ہسپتال میں ہوا تھا۔

یہ پہلی مرتبہ ہے جب تحریک طالبان کی قیادت میں اختلافات منظر عام پر آئے ہیں اور ملا عمر کے بعد تنظیم کے لیے نئے امیر کا انتخاب مشکل ہو گیا ہے۔

تجزیہ کار رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق طالبان ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے امیر کا انتخاب متفقہ طور پر ہوا ہے۔ تاہم اس موقعے پر شوریٰ کے تمام اراکین موجود نہیں تھے۔انھوں نے کہا کہ افغان طالبان نے اس سوال پر بھی واضح جواب نہیں دیا کہ ان کے مخالف دھڑوں کے ساتھ امیر کے چناؤ پر بات ہوئی یا نہیں۔

ملا منصور کے حامیوں نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ عسکری کمانڈر قیوم ذاکر ان کی تقرری کے خلاف ہیں۔ قیوم ذاکر گونتاناموبے جیل میں قید تھے اور افغان صوبے ہلمند میں اُن کا کنٹرول ہے۔ مستقبل میں وہ طالبان کی قیادت میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں