چینی شراب میں ویاگرا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین میں اشیاء خردونوش کا ناقص معیار ایک دیرینہ مسئلہ ہے

چین میں اشیائے خوردونوش کی جانچ پڑتال کرنے والے محکمے کا کہنا ہے کہ ملک میں شراب بنانے والے بعض کارخانے شراب میں ویاگرا کی ملاوٹ کرکے گاہکوں کو یہ تاثر دیے رہے تھے کہ ان کے برانڈ کی شراب صحت کے لیے مفید ہے۔

جنوبی شہر ’لییزہویو‘ میں تفتیش کاروں نے شراب کی پانچ ہزار سے زیادہ بوتلیں اور جنسی طاقت بڑھانے والی دوا ’ویاگرا‘ قبضے میں لی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے میں شراب بنانے والے دو کارخانوں سے تحقیقات کر رہے ہیں۔

لییزہویو کے محکمۂ خوراک کے مطابق ویاگرا کو جو پاؤڈر کی شکل میں ہے ملک کی مقبول شراب کے برانڈ میں شامل کیا جاتا تھا۔

حکام کے مطابق قبضے میں لیے گئے سامان کی مالیت ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ ہے۔

واضح رہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق بالغ افراد کو دن میں ویاگرا کی ایک سے زیادہ گولی نہیں کھانی چاہیے اور عمر رسیدہ حضرات اگر ضرورت محسوس کریں تو آدھی گولی کھائیں۔

چین میں اشیائے خوردونوش کا ناقص معیار ایک دیرینہ مسئلہ ہے۔

رواں سال جون میں پولیس نے مختلف شہروں سے ایک لاکھ ٹن سے زیادہ سمگل شدہ غیر معیاری گوشت قبضے میں لیا تھا جس میں سے کچھ خشک گوشت 40 سال سے بھی پرانا تھا۔

سنہ 2008 میں ملک میں اس وقت غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی جب ناقص دودھ کا سکینڈل منظرِ عام پر آیا تھا۔

دودھ میں پلاسٹک کی صنعت میں استعمال ہونے والے مادے کی ملاوٹ پائی گئی تھی جس سے تقریباً 3 لاکھ لوگ متاثر ہوئے تھے اور کم سے کم چھ بچے ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں