ناگا باغیوں کے ساتھ معاہدہ کتنا قابل عمل؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ناگا سنہ 1956 سے بھارت سے علیحدگی کے لیے برسرپیکار ہیں

بھارت نے پیر کو ناگا علیحدگی پسندوں کے ساتھ ایک ’تاریخی‘ امن معاہدہ کیا اور اس طرح ملک کی قدیم ترین شورش کا خاتمہ ہوا۔ صحافی اور تجزیہ نگار سوبیر بھومک نے اس امن معاہدے کا جائزہ لیا ہے کہ کیا اس سے شمال مشرقی علاقوں میں امن کا قیام عمل میں آسکے گا؟

شمال مغربی ریاست ناگا لینڈ میں باغی 20 لاکھ ناگا قبائلیوں کے لیے ایک آزاد مملکت کے قیام کے لیے گذشتہ 60 برسوں سے زیادہ عرصے سے بر سرِ پیکار رہے ہیں۔ اور یہ بغاوت ابھی تک کئی جنگ بندیوں کے نتیجے میں کنٹرول میں رہی ہے۔

اہم باغی گروپ نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ (این ایس سی این) کے سربراہ تھوئنگالینگ موئیوا نے ’ناگا کے مسائل کو سمجھنے‘ اور امن معاہدہ کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا ہے۔

مودی نے کہا تھا کہ ناگا کے مسائل اتنے دنوں تک اس لیے پکتے رہے کیونکہ بھارت اور ناگا دونوں ’ایک دوسرے کو سمجھنے‘ سے قاصر رہے۔

این ایس سی این کا قیام سنہ 1980 میں عمل میں آیا تھا اور اب یہ چار دھڑوں میں منقسم ہے اور ہر ایک کا ناگا کےمستقبل کے وطن کا اپنا تصور ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نریندر مودی نے پیر کو ہونے والے معاہدے کو تاریخ قرار دیا

یہ تنظیم ناگا نیشنل کونسل (این این سی) سے ٹوٹ کر بنی تھی کیونکہ این این سی نے سنہ 1975 میں حکومت ہند سے ایک معاہدہ کیا تھا جبکہ وہ سنہ 1956 سے علیحدگی پسند تحریک چلا رہی تھی۔

واضح رہے کہ پیر کو ہونے والے معاہدے کی تفصیلات ابھی منظر عام پر نہیں آئی ہیں لیکن یہ معاہدہ صرف این ایس سی این کے ساتھ ہوا ہے باقی دوسرے گروہوں کے ساتھ نہیں۔

مسٹر موئیوا کے مخالف ناگا رہنما ایس ایس کھاپلانگ نے درحقیقت مارچ میں بھارت سے کی جانے والے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی تھی۔ ان کے جنگجو بھارتی سکیورٹی فورسز پر اس وقت سے حملہ کر رہے ہیں۔

ان حملوں میں ابھی تک کم از کم 30 بھارتی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں منی پور میں جون کے مہینے میں ہونے والے ایک حملے میں کم از کم 20 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

کھاپلانگ جن کا شمال مشرقی ریاستوں کی مختلف باغی تنظیموں سے اتحاد ہے وہ پہلے ہی اس کی ’فروخت ہوجانا‘ کہہ کر مخالفت کر چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ’ناگا کی آزادی کی خواہشات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ناگالم پڑوسی ریاستوں سے ناگا اکثریتی علاقوں کو ناگالینڈ میں شامل کرنے کا مطالبہ ہے

ایسے میں ناگا صحافی بانو ہرالو کا کہنا ہے کہ ’اس لیے یہ یقینی ہے کہ مسٹر کھاپلانگ کے جنگجو معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے حملے میں اضافہ کريں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’یہ وہ خطرہ ہے جسے ایک باغی گروہ سے معاہدہ کرنے کے لیے حکومت کو مول لینا پڑا۔‘

مسٹر ہرالو نے سنہ 1986 کے معاہدے کی کامیابی کا ذکر کیا جس نے اسی طرح کی ایک سورش کا ریاست میزورم میں خاتمہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا: ’سنہ 1986 کا معاہدہ جسے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کی حکومت نے کیا تھا وہ تمام باغی قیادت سے کیاگیا تھا نہ کہ ایک دھڑے سے۔ اسی لیے وہ معاہدہ قائم رہا۔‘

اس سے قبل بھی بھارت نے ناگاؤں سے دو بار معاہدہ کیا تھا۔ ایک سنہ 1960 میں معتدل رہنماؤں کے ساتھ جو این سی سی کی پرتشدد بغاوت کے خلاف تھے اور دوسرا سنہ 1976 میں این این سی کے ساتھ۔

16 نکات پر مشتمل سنہ 1960 کے معاہدے سے ناگاؤں کو آسام کے پہاڑی علاقوں سے کاٹ کر ایک علیحدہ ریاست دی گئی تھی جبکہ سنہ 1975 کے شیلونگ معاہدے کا مقصد بغاوت کو ختم کرنا تھا اور ناگا قبائلیوں کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے معاہدے کا خاکہ تیار کرنے پر رضامندی ہوئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس سے قبل کئی معاہدے ہوتے رہے ہیں

مسٹر موئیوا سنہ 1975 کے معاہدے کے سخت مخالف تھے لیکن ٹھیک 40 سال بعد انھوں نے ایک ایسا معاہدہ کیا ہے جسے مسٹر مودی نے ناگا کی خواہشات کی تکمیل کا دعوی کیا ہے۔

ہرچند کہ تازہ معاہدے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم قابل اعتبار ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میں این ایس سی این کی ’ناگالم‘ (وسیع ناگا ریاست) کا مطالبہ پورا نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ ’ناگالم‘ میں منی پور، آسام اور اروناچل پردیش کے ناگا قبائل کی اکثریت والے علاقوں کو شامل کیے جانے کا مطالبہ ہے۔

این ایس سی این کا کہنا ہے کہ اگر بھارت ’وسیع ناگالم‘ ریاست کے قیام کو تسلیم کر لے تو وہ آزاد ملک کے مطالبے کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔

بھارت کی جانب سے پیر کے معاہدے میں نمایاں کردار ادا کرنے والے آر این روی نے کہا ہے کہ یہ مطالبہ ’آئینی طور پر تو قابل عمل ہے لیکن سیاسی طور پر مشکل ہے۔

منی پور، آسام اور اروناچل پردیش حکومتوں نے اس مطالبے کی مخالفت کی ہے کیونکہ اگر یہ بات تسلیم کر لی جاتی ہے تو ان کے ناگا اکثریتی علاقے ان سے چھن جائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گذشتہ دنوں بھارتی فوج پر حملے ہوئے ہیں

لیکن پیر کے معاہدے میں ان ناگا علاقوں کو زیادہ خودمختاری دیے جانے اور انھیں ناگالینڈ سے ثقافتی طور پر جوڑنے کا وعدہ ہے۔

وزیرِ اعظم مودی نے حزب اختلاف اور علاقی پارٹیوں کے رہنماؤں کو اس کے بارے میں معلومات فراہم کردی ہیں کیونکہ کسی آئینی ترمیم کی صورت میں ان کا تعاون ضروری ہوگا۔

یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ وہ بھارت کے سب سے قدیمی نسلی تنازع کو ختم کرنے میں مودی کی حمایت کریں گے یا نہیں۔ اس کے ساتھ ناگا کے دوسرے گروہ جن میں کھاپلانگ کا گروپ بھی شامل ہے ان کی جانب سے معاہدے کو خطرہ لاحق ہے۔

لیکن نریندر مودی نے بھارت کی قدیم ترین بغاوت کو حل کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ اسے اپنی ایکٹ ایسٹ کی خارجہ پالیسی کی کامیابی کے لیے اسے لازمی تصور کرتے ہیں جس کے تحت وہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں کو جنوب مشرقی اور مشرقی ایشیائی ممالک کے در کے طور پر دیکھتے ہیں تاکہ اس پسماندہ علاقے کو فروغ دیا جائے اور ملک کی معیشت کو ترقی حاصل ہو۔

اسی بارے میں