رس گلہ کس نے ایجاد کیا؟

تصویر کے کاپی رائٹ unk
Image caption ریاست مغربی بنگال کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ مٹھائی رس گلہ بنگال کی دین ہے

برصغیر کی مشہور مٹھائی رس گلہ کی جائے پیدائش کیا ہے؟ اس بارے میں بھارت کی دو ریاستوں، اڑیسہ اور مغربی بنگال کے درمیان ایک نیا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔

یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ریاست اڑیسہ کی حکومت نے قومی شاہراہ نمبر 5 پر کٹک اور بھونیشور کے درمیان واقع پاہال میں ملنے والے معروف رس گلوں کے دکان کو ’جيوگرافیكل انڈیكیشن‘ یعنی ’جی آئی‘ سے منظور کرانے کے لیےکوششیں شروع کر دیں۔

جيوگرافیكل انڈیكیشن ایک ایسا نشان ہے جو مصنوعات پر اس مقام کی خاص شناخت بتانے کے لیے لگایا جاتا ہے۔ اس نشان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ خاص شے اس مقام کی مناسبت سے کس خصوصیت کی حامل ہے۔

ریاست مغربی بنگال اڑیسہ کے اس دعوے سے خوش نہیں ہے اور اس نے اڑیسہ کے اس دعوے کو چیلنج کرنے کے لیے کوششیں شروع کر دی ہیں۔

بنگال کا دعویٰ

ریاست مغربی بنگال میں رس گلے بنانے والی معروف حلوائی کے سی داس کے ورثا مشہور مورخ ہری پد بھومک کی مدد سے حقائق پر مبنی ایک ایسی کتاب تیار کروا رہے ہیں جو رس گلے کی پیدائش بنگال میں ہونے کی تصدیق کرے گی۔

اس کے بعد اس کتابچے کو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتابینرجی کو سونپنے کا بھی منصوبہ ہے۔

ریاست مغربی بنگال کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ مٹھائی رس گلہ بنگال کی دین ہے۔

لیکن اڑیسہ نے اب اس دعوے کو یہ کہہ کر چیلنج کیا ہے کہ سنہ 1868 میں بنگال میں رس گلل کی ایجاد سے ڈیڑھ سو برس قبل اس رسیلی مٹھائی کا جنم پوری کے شری جگنّاتھ مندر میں ہوا تھا۔

کس کا ہے رسگولّہ

اس موضوع پر تحقیق کرنے والے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ’نيلادر ويجے‘ ( رتھ یاترا کے بعد جس دن بھگوان جگنّاتھ واپس مندر میں آتے ہیں) کے دن بھگوان جگنّاتھ کی طرف سے دیوی لکشمی کو منانے کے لیے رس گلہ پیش کرنے کی روایت کم سےکم تین سو برس پرانی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب بھگوان جگنّاتھ رتھ یاترا سے واپس آتے ہیں تو مہا لكشمي ان سے ناراض رہتی ہیں اور محل کا دروازہ نہیں كھولتيں کیونکہ جگنّاتھ انھیں اپنے ساتھ لے کر نہیں گئے تھے۔

اس وقت روٹھي دیوی کو منانے کے لیے بھگوان جگنّاتھ انھیں رس گلہ پیش کرتے ہیں۔

جگنّاتھ ثقافت کے معروف ماہر سوریہ نارائن رتھ شرما تو یہاں تک دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ روایت ایک ہزار برس پرانی ہے۔

جادھو پور یونیورسٹی میں شعبہ بائیو ٹیکنالوجی کے سربراہ پروفیسر اتپل رائے چودھري کے مطابق ’یہ رسم تیرہویں صدی سے چلی آ رہی ہے۔‘

بنگالی کھانوں پر تحقیق کرنے والی پرتھا سین کا کہنا ہے کہ رس گلہ ریاست اڑیسہ میں پیدا ہوا اور 18 ویں صدی میں یہ اڑیسہ کے باورچی خانوں سے بنگال تک پہنچا۔

بھونیشور کے رہنے والے ساغر ستپتھي اس تنازعے کو یہ کہتے ہوئے ختم کرتے ہیں کہ ’رس گلہ پیدا چاہے جہاں بھی ہوا ہو، معنی صرف اس کی لذت ہی رکھتی ہے۔‘

اسی بارے میں