بھارت: دو ٹرینوں کے حادثوں میں 27 ہلاک، تحقیقات کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption آئی ایس صدیقی کے مطابق 200 سے زیادہ لوگوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے

بھارتی حکومت نےمدھیہ پردیش میں چند منٹوں کے وقفے سے دو مختلف ٹرینوں کے پٹری سے اتر جانے کے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں حکام کا کہنا ہے کہ چند منٹوں کے وقفے سے دو مختلف ٹرینوں کے پٹری سے اتر جانے کے واقعے سے کم از کم 27 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

بھوپال ڈویژن کے تعلقات عامہ کے عہدیدار آئی ایس صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ مرنے والوں میں چھ بچے، چھ مرد اور سات خواتین شامل ہیں۔

حادثہ ہردا سے 25 کلومیٹر دور كھڑكيا اور بھینگري کے درمیان پیش آیا۔

آئی ایس صدیقی کے مطابق 200 سے زیادہ لوگوں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے اور امدادی کام تیزی سے جاری ہے۔

اطلاعات کے مطابق دونوں ٹرینوں کی متعدد بوگیاں ریلوے پٹری سے اترنے کے بعد قریبی دریا میں جا گریں۔ ایک ٹرین ممبئی کی جانب روانہ تھی جبکہ دوسری ٹرین مخالف سمت سے آ رہی تھی۔

ریلوے کے وزیر سوریش پربھو نے کہا ہے کہ حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے اور مرکزی زون کے سیفٹی کمشنر کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

سوریش پربھو آج پارلیمان میں اس حادثے پر بیان دیں گے۔

ریلوے بورڈ کے ترجمان انیل سکسینہ کے مطابق ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو دو دو لاکھ روپے جبکہ شدید طور پر زخمیوں کو 50، 50 ہزار اور معمولی زخمیوں کو 25، 25 ہزار روپے کا معاوضہ دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ P Singh Marda
Image caption ایک ٹرین ممبئی کی جانب روانہ تھی جبکہ دوسری ٹرین مخالف سمت سے آ رہی تھی

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی حادثے پر افسوس ظاہر کیا ہے۔

پریس ٹرسٹ آف انڈیا کا کہنا ہے کہ اب تک یہ واضح نہیں کہ دونوں ٹرینوں میں کتنے مسافر تھے اور اس واقعے میں کتنی ہلاکتیں ہوئی ہیں تاہم مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق تقریباً ایک درجن افراد کے موقعے پر ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں کے باعث دریا کی سطح عام دنوں کے مقابلے میں اونچی ہے اور مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔

این ڈی ٹی وی کا کہنا ہے کہ ہردہ میں جائے وقوع سے 300 افراد کو بچائے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حادثے کی ممکنہ وجہ بارشوں کے سبب دریا کے پل کو نقصان پہنچنا ہو سکتا ہے۔

ریلوے کے وزیر سریش پربھو نے ٹوئٹر پر کہا کہ ان کا محکمہ اپنی بہترین کوششیں کر رہا ہے تاہم اندھیرے اور پانی کی وجہ سے مشکلات کا سامنا ہے۔

بھارت میں سرکاری ٹرین نیٹ ورک جس پر 9000 ٹرینیں چلتی ہیں، حادثات کا شکار رہتا ہے اور اس کے حفاظتی معیار پر مسلسل تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ بھارتی ریل نیٹ ورک روزانہ ڈھائی کروڑ مسافروں کے زیرِ استعمال آتا ہے۔

گذشتہ جولائی میں تلنگانہ ریاست میں ایک ٹرین کی سکول بس کے ساتھ ٹکر کے بعد 18 بچے ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں