شیر ستنکزئی قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے عارضی سربراہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption افغانستان کے صوبہ لوگر سے تعلق رکھنے والے شیر محمد عباس ستانکزئی قطر دفتر کے بانیان میں سے ایک ہیں

افغانستان میں طالبان تحریک کے نئے امیر ملا اختر منصور نے شیر محمد عباس ستانکزئی کو قطر میں قائم سیاسی دفتر کا عارضی سربراہ مقرر کیا ہے۔

یہ اعلان شیر محمد کی جانب سے ملا اختر منصور کی بیعت کے بعد کیا گیا ہے۔

اس فوری تقرری سے بظاہر طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کی جلد بحالی ہوسکتی ہے۔

قطر دفتر آغا سے ان مذاکرات سے دور رہا تھا اور اس بابت شکایت بھی کی تھی لیکن بعض افغان تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس مصالحتی عمل کی بحالی میں اب بھی کئی ماہ تک لگ سکتے ہیں۔

سیاسی دفتر کے سابق سربراہ سید طیب آغا کی جانب سے طالبان قیادت سے اختلافات کے بعد گذشتہ روز ان کا استعفیٰ سامنے آیا۔

انھوں نے دو سال تک ملا عمر کی موت کی خبر کے چھپائے رکھنے کو ’تاریخی غلطی‘ قرار دیا تھا اور اعتراف کیا کہ پاکستان کے ذریعے بات چیت جاری رکھنے کے معاہدے نے ان کی موت کی خبر کے افشا ہونے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

انھوں نے ملک کے باہر کسی رہنما کے امیر بنائے جانے کی مخالفت کی تھی۔

شیر محمد عباس ستانکزئی کی تقرری کے اعلان سے قبل ان سے منسوب ایک بیان طالبان کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے میڈیا کو جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’میں اور اس سیاسی دفتر کے دیگر اراکین ملا اختر منصور کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم اس فیصلے کو اسلامی شریعت کے عین مطابق مانتے ہیں اور ان کی ہدایات پر اب عمل کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قطر دفتر کے سابق سربراہ طیب آغا نے دو سال تک ملا عمر کی موت کی خبر کے چھپائے رکھنے کو تاریخی غلطی قرار دیا تھا

خیال ہے کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے قبل نئے امیر کے تحت پہلے اپنی پوزیشن مستحکم کریں گے۔

افغانستان کے صوبہ لوگر سے تعلق رکھنے والے پشتون شیر محمد عباس ستانکزئی قطر دفتر کے بانی افراد میں سے ایک تھے اور طیب آغا کا انہیں نائب مقرر کیا گیا تھا۔

وہ طالبان دورِ حکومت میں نائب وزیر صحت بھی رہ چکے ہیں۔

طالبان تحریک میں شمولیت سے قبل وہ حرکت انقلابی اسلامی (محمد نبی) کے گروپ کا حصہ تھے۔ وہ عبدالرب رسول سیاف کی اتحاد اسلامی کے کمانڈر بھی رہ چکے ہیں اور 1970 کی دہائی میں وہ بھارت میں فوجی تربیت گاہ دہرہ دون میں بھی رہ چکے ہیں۔

طالبان کے سابق وزیر خارجہ وکیل احمد متوکل کے نائب کے طور پر انہیں اکثر انگریزی زبان میں انٹرویوز اور غیر ملکی مہمانوں سے ملنے ملانے کی ذمہ داریاں سونپی جاتی تھیں۔

ایک اچھے سفارت کار کے طور پر جانے والے شیر محمد کی تقرری سے کچھ مبصرین کو امید ہے کہ مذاکرات کا عمل جب بھی شروع ہوا تیزی سے آگے بڑھ سکتا ہے۔

اسی بارے میں