بارڈر سکیورٹی فورس کے قافلے پر حملے میں دو ہلاک، دس زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption تازہ حملہ سرینگر۔جموں شاہراہ پر اودھام پور ضلعے کے قریب بدھ کی صبح رونما ہوا

بھارت کے زیرانتظام جموں و کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ سرحدی حفاظتی فورس کی شدت پسندوں سے جھڑپ میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق ضلع اودھم پور کے قریب سرینگر۔جموں شاہراہ پر ہونے والی جھڑپ میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا جبکہ دس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

حکومت ہند اس شاہراہ کو ’قومی شاہراہ‘ کہتی ہے، کیونکہ یہ کشمیر کو بھارت سے ملانے والا واحد زمینی راستہ ہے۔

مقامی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جموں سے 85 کلومیٹر دور نارسو کے علاقے میں صبح سوا سات بجے پیش آیا۔

ان کا کہنا تھا کہ: ’بارڈر سکیورٹی فورس کا ایک گشتی دستہ سرمولی کے قریب جا رہا تھا کہ مسلح شدت پسندوں نے گھات لگا کر فائرنگ کی۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو بی ایس ایف اہلکار اور ایک حملہ آور مارے گئے۔‘

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تعداد دو تھی جن میں سے ایک نے جائے واردات سے فرار کے دوران بعض شہریوں کو یرغمال بنانے کی کوشش کی تاہم پولیس اور فوج نے مشترکہ کارروائی میں تین یرغمالیوں کو چُھڑا لیا اور شدت پسند کو زندہ گرفتار کر لیا۔

ذرائع کے مطابق گرفتار شدہ شدت پسند کا نام محمد بن قاسم ہے اور وہ مبینہ طور پر پاکستانی باشندہ ہے۔

خیال رہے کہ جموں و کشمیر میں مسلح تشدد کی تازہ لہر میں کم از کم دس ہلاکتوں کے بعد سکیورٹی انتظامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔

اس دوران لائن آف کنٹرول پر بھی ہندپاک افواج کے مابین جھڑپوں سے کشیدگی کا ماحول ہے۔

بھارتی فوج کا کہنا ہے کہ جموں کے اکھنور سیکٹر میں پاکستان نے بھارتی تنصیبات پر فائرنگ کی جس مِیں ایک شہری مارا گیا جبکہ پاکستان نے بھارتی فوج پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کی افواج نے سیالکوٹ سیکٹر میں فائرنگ کی جس میں دو باشندے مارے گئے۔

اس دوران وسطی کشمیر کے مانسبل علاقے میں ایک بم دھماکہ ہوا ہے جس میں ایک شہری کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔

اسی بارے میں