طلاق کی وجہ، سیکس کی کثرت؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں شادیوں کی ناکامی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے

بھارت دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں طلاق کی شرح ابھی بھی بہت کم ہے لیکن پچھلے کچھ سالوں سے ناکام شادیوں کے کیس بہت عام ہوتے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ بھارت میں طلاق کے زیادہ تر کیس میاں بیوی کے ایک دوسرے سے برے برتاؤ یا قانون کی زبان میں کہیں کہیں ’بے رحمی‘ یا ’برے سلوک‘ کی بنیاد پر دائر کیے گئے۔

لیکن برے سلوک سے کیا مراد ہے؟

یہ بحث طلب اصطلاح ہے، خاص طور پر جب اس کا مطلب کسی شخص پر شادی شدہ زندگی کے دوران شریکِ حیات کی طرف سے پہنچنے والے نفسیاتی صدمہ لیا جائے۔

بھارت کی عدالتِ عالیہ نے کہا ہے کہ ’ازدواجی معاملات میں ذہنی صدمے کی وضاحت کے لیے کوئی جامع حدود‘ ابھی تک وضع نہیں ہوئی ہیں۔

اس لفظ کی وسیع قانونی وضاحت کی وجہ سے بھارت کی عدالتیں اس کے بڑے انوکھے معنی نکال کر فیصلے کر رہی ہیں۔ زیادہ تر عدالتوں نے ذہنی صدمے سے مراد اس تکلیف یا صدمے سے لی ہے جو جسمانی تشدد سے نہ پہنچا ہو۔

آتش پٹیل یہاں کچھ اچھوتی مثالیں پیش کرتے ہیں۔

پارٹی کی شوقین

Image caption 42 سالہ شخص خود بھی پارٹیوں سے محظوظ ہوتا رہا تھا

پچھلے ہفتے ممبئی کی ہائی کورٹ نے 2011 میں دیے گئے ایک فیملی کورٹ کے فیصلے کو مسترد کر دیا جس نے ایک ملاح کی طلاق کا فیصلہ اس بات پر کر دیاگیا تھا کہ اس کی بیوی مستقل دوستوں کے ساتھ پارٹی یا ہلہ گلہ کیا کرتی تھی۔

عدالت نے بیوی کے اس رویے سے شوہر کو پہنچنے والی تکلیف کو ذہنی صدمے سے تعبیر کیا تھا۔

ہائی کورٹ کے بیان کے مطابق 42 سالہ شوہر خود بھی پارٹیوں سے محظوظ ہوتا رہا تھا۔ اس لیے عدالت نے فیصلہ دیا کہ عورت مرد پر کسی بھی قسم کے ذہنی یا جسمانی تشدد کا باعث نہیں تھی۔

عدالت نے حکم دیا کہ ’یہ شخص صرف اس بنیاد پر طلاق نہیں دے سکتا۔‘

ممبئ ہائی کورٹ کے جسٹس ایم ایل تہالیانی نے اس مقدمے کا فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ’آج کل کے معاشرے میں لوگوں کا ایک حد تک ملنا جلنا کے جائز ہے‘

کثرت مباشرت کی ہوس

Image caption ایک شوہر کو شکایت تھی کہ اس کی بیوی ہوس کی حد تک مباشرت کی خواہش رکھتی ہے

میاں بیوی کے جنسی تعلقات کا نہ ہونا دنیا بھر میں طلاق کی بڑی وجہ ہے ۔ لیکن پچھلے سال ممبئی میں ایک شخص نے اپنی بیوی کی کثرت مباشرت کی خواہش کی وجہ سے طلاق کی درخواست دی۔

بھارت کی نیوز ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق اپنی درخواست میں اس شخص نے کہا ہے کہ اپریل 2012 میں جب سے ان کی شادی ہوئی ہے اس نے محسوس کیا ہے کہ اس کی بیوی کو ’ہوس کی حد تک مباشرت کی خواہش ہے۔‘

اس نے الزام لگایا ہے کہ اس کی بیماری کی صورت میں بھی وہ اس پر مباشرت کی لیے دباؤ ڈالتی تھی اور انکار کی صورت میں کسی دوسرے مرد کے ساتھ سونے کی دھمکی دیتی تھی۔

خبر کے مطابق ممبئی کی فیملی کورٹ نے فیصلے کے دن بیوی کی عدالت میں عدم پیشی اور شوہر کے پیش کیے گئے ثبوت چیلنج نہ ہونے کی صورت میں کیس کا فیصلہ شوہر کے حق میں دے دیا۔

یہ کیسا لباس پہن کر جا رہی ہو؟

Image caption ایک شخص کی شکایت تھی کہ بیوی کا دفتر جاتے ہوئے روایتی ہندوستانی لباس کے بجائے پتلون اور قمیض پہننا تکلیف دیتا ہے

ایک دوسرے کیس میں ایک شخص اپنی بیوی سے اس وجہ سے طلاق لینا چاہتا تھا کیونکہ اسے اپنی بیوی کے لباس کے انتخاب سے ذہنی صدمہ پہنچتا تھا۔

یہ شخص جس کی عمر 30 کے پیٹے میں ہے، 2009 سے شادی شدہ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اسے اپنی بیوی کا دفتر جاتے ہوئے روایتی ہندوستانی لباس کے بجائے پتلون اور قمیض پہننا تکلیف دیتا ہے۔

ایک فیملی کورٹ نے تین سال پہلے اس کیس کا فیصلہ طلاق کی صورت میں دیا تھا لیکن پچھلے سال مارچ میں ممبئی کی ہائی کورٹ نے اسے مسترد کر دیا۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ ’ظلم کی وضاحت اتنی بھی وسیع نہیں ہونی چاہیے ورنہ مزاج کے ذرا سے فرق کی بنیاد پر بھی طلاق کی اجازت دی جانے لگے‘۔

تم نے مجھ سے جھوٹ بولا

Image caption عدالت میں ایک شوہر نے شکایت کی تھی کہ وہ اپنی بیوی کے چہرے کے مہاسوں کی وجہ سے تکلیف کا شکار ہے

بھارت میں ارینج میرج عام ہیں لیکن ایک مرد کی اپنی شادی ختم کرنے کی وجہ بہت ہی عجیب ہے۔ اس کی شکایت یہ ہے کہ وہ اپنی بیوی کے چہرے کے مہاسوں کی وجہ سے تکلیف کا شکار ہے۔

اپنی درخواست میں اس نے کہا ہے کہ اپنی بیوی کے چہرے پر کیل مہاسوں کی وجہ سے وہ 1988 میں ہنی مون کے دوران اس کے ساتھ قربت کے تعلقات قائم رکھنے میں ناکام رہا۔

ممبئی کی ایک فیملی کورٹ نے 2002 میں اس کیس کا فیصلہ شوہر کے حق میں دیتے ہوئے کہا کہ ’شوہر کی لیے بیوی کی غیر پرکشش شخصیت بے شک بیوی کی لیے تکلیف کا باعث ہے مگر یہ شوہر کے لیے بھے صدمے کا باعث ہے۔‘

عدالت نے مزید کہا کہ ’ عورت نے مرد کو اپنے جلدی مرض کے بارے میں نہ بتا کر اس کے ساتھ دھوکہ کیا۔‘

عورت کے معالج کا عدالت کو یہ بتانے کے باوجود کہ عورت کا مرض قابل علاج ہے اور اس کی وجہ سے ان کے جنسی تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا، عدالت نے مرد کے حق میں فیصلہ دیا۔

بھارت کے ہندو میرج ایکٹ کے مطابق جلدی امراض جیسے کیل مہاسوں کی وجہ سے طلاق کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

تم مجھے شرمندہ کر دیتی ہو

Image caption ایک شخص نے عدالت سے شکایت کی کہ اس کی بیوی اس کے دوستوں کے لیے چائے نہیں بنا کر دیتی جس کی وجہ سے اسے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے

اگر اور پیچھے جائیں تو 1985 میں الہ آباد کی ہائی کورٹ نے ایک اپیل کی سماعت میں ضلعی عدالت کے اس فیصلے کو برقرار رکھا جس میں ایک شوہر نے مقدمہ دائر کیا تھا کہ اس کی بیوی اس کے دوستوں کے لیے چائے بنا کر نہیں دیتی جس کی وجہ سے اسے شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔

اس شکایت کے ساتھ شوہر نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ اس کی بیوی نے اس کی مرضی جانے بغیر ان کا بچہ ضائع کروا دیا جس سے اسے صدمہ پہنچا ہے۔

اسی بارے میں