کابل میں کار بم دھماکے میں 15 ہلاک، ڈھائی سو زخمی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک زور دار کار بم دھماکے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور ڈھائی سو زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ شہر کے شاہ شاہد علاقے میں ہوا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک امدادی کارکن کے حوالے سے بتایا کہ زخمی ہونے والے افراد میں بچے بھی شامل ہیں جنھیں ابتدائی طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال لے جایا گیا ہے۔

صدارتی دفتر کی جانب سے بیان میں 15 ہلاکتوں کی تصدیق کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بیشتر افراد عمارتوں کے شیشے ٹوٹ کر لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دھماکے کے نتیجے میں آٹھ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے تاہم مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے

سکیورٹی معاملات سے منسلک ایک اور شخص نے روئٹرز کو بتایا کہ حملے کا نشانہ ممکنہ طور پر ایک قریبی فوجی احاطہ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار خلیل نوری کا کہنا ہے کہ دھماکے سے ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر افراد عام شہری ہیں اور علاقے میں دکانوں اور گھروں کو نقصان پہنچا ہے۔

اس خدشے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے کہ بہت سی لاشیں ملبے تلے دبی ہوئی ہیں۔

تاحال کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

بی بی سی پشتو کے نامہ نگار خلیل نوری کے مطابق زخمی ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالبان کے نئے امیر ملا منصور اختر نے اپنے بیان میں امن مذاکرات کے عمل کو مسترد کیا ہے

خیال رہے کہ دن کے وقت کابل پولیس ٹرکوں کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دیتی۔

جمعرات کو افغانستان کے مشرقی صوبے لوگر کے دارالحکومت پلِ علم میں ایک خودکش دھماکے میں تین پولیس اہلکار سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ حکام کے مطابق خودکش حملہ بارود سے بھرے ٹرک کے ذریعے کیا گیا۔

دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ تقریباً 500 میٹر فاصلے پر واقع عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی تھی اور طالبان رہنما ملا عمر کی ہلاکت کے بعد یہ ان کا پہلا حملہ ہے۔

پیر کے روز افغان طالبان نے ایک ویڈیو جاری کی گئی جس میں طالبان اراکین کو نئے سربراہ ملا اختر منصور کی بیعت لیتے دیکھایا گیا۔

طالبان کے نئے امیر ملا منصور اختر نے اپنے بیان میں امن مذاکرات کے عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ دشمن کی پروپیگنڈا مہم ہے۔‘

اسی بارے میں