یعقوب میمن کی پھانسی پر سوال اٹھانے والوں سے جواب طلب

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت کی حکومت نے ملک کے تین بڑے ٹی وی چینلوں سے یعقوب میمن کے واقعے کی کوریج کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے

یعقوب میمن کی پھانسی کے ایک ہفتے بعد بھی بھارت کے اخبارات اور ٹیلی ویژن پر الگ الگ زاویوں سے بحث جاری ہے ۔ وہ لوگ جو سزائےموت کے خلاف ہیں وہ کسی مجرم کی پھانسی کے موقع پر سب سے زیادہ متحرک ہوتے ہیں اور ان کی تحریک میں اور زیادہ شدت آ جاتی ہے ۔

بھارت میں ایک عرصے سے یہ بحث چل رہی ہے کہ کیا دنیا کے بیشتر ملکوں کی طرح یہاں بھی موت کی سزا کو ختم کر دیا جائے اور سب سے بڑی سزا عمر قید ہونی چاہیے ۔ سزائے موت کے حق اور خلاف کے بارے میں رائے منقسم نظر آتی ہیں ۔ دہشت گردی اور سنگین نوعیت کے ریپ کے واقعات کے سبب رائے عامہ سزائے موت کے حق میں زیادہ نظر آتی ہے ۔

حالہ برسوں میں یعقوب میمن کا معاملہ غالباًسزائے موت کا واحد ایسا معاملہ تھا جس کے بارے غیر معمولی طور پر بحث چھڑی ۔

اطلاعات کے مطابق بھارت کی حکومت نے ملک کے تین بڑے ٹی وی چینلوں سے یعقوب میمن کے واقعے کی کوریج کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے ۔

وزارت اطلاعات و نشریات نے تین پرائیوٹ چینلوں کو بھیجےگئے نوٹس میں کہا ہے کہ انھوں نے یعقوب کی پھانسی کے بعد جس طرح کا پروگرام پیش کیا اس سے ملک کی عدلیہ اور صدر مملکت کی توہین ہوئی ہے ۔

دو چینلوں نے اس روز ایک مفرور ملزم کا انٹر ویو نشر کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ یعقوب کےساتھ انصاف نہیں ہوا ۔ اور ایک دوسرے چینل نے یعقوب کے وکیل کا انٹرویو دکھایا تھا جس میں یعقوب کے پس منظر میں اپنی دلیلیں دیتے ہوئے کہا تھا کہ موت کی سزا ختم کر دینی چاہیے ۔

ان تینوں چینلوں کو اپنا جواب دینے کے لیے پندرہ دن کا وقت دیا گیا ہے ۔ جواب دینے کے بعد کارروائی کا فیصلہ ایک کمیٹی کرے گی جس میں اطلاعات و نشریات کی وزارت کے اہلکاروں کے علاوہ وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور وزارت خارجہ کے اہلکار شامل ہیں ۔

یہ پہلا موقع نہیں ہےجب موجودہ حکومت نے کسی ٹی وی جینل سے اس کی نشریات کے لیے جواب مانگا ہو۔ اس سے پہلے الجزیرہ چینل پر ایک نقشے میں کشمیرکو بھارت کا اٹوٹ حصہ نہ دکھائے جانے پرچینل کو کجھ دنوں کے لیے بند کر دیا گیا تھا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیلی ویزن اور اخبارات میں پیش کیے جانے والے بحث ومباحثے اور خاص طور سے یعقوب میمن جیسے حساس معاملوں میں انتہائی ذمے داری اور پختگی سے کام لیا جانا چاہیے ۔ اور ایسے بیانات اورباتوں سے گریز کرنا چاہیے جو کسی ثبوت کے بغیر لوگوں میں شک و شہات کو جنم دیتے ہوں ۔لیکن کسی جمہوریت میں سبھی آراء ایک جیسی ہوں اور ہر کوئی حکومت کے خیالات سے متفق ہو یہ ضروری نہیں ہے ۔

بھارت کی عدلیہ اور صدر مملکت کے ادارے ملک کےان چند اداروں میں ہیں جنہیں بڑے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اورجن کی غیر جانبداری اور ایمانداری مسلم ہے ۔ شاید ہی کسی چینل یا اخبار نے عدالت عظمیٰ کے کسی فیصلے پرکوئی سوال اٹھایا ہو ۔

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے اس دور میں خیالات کے اظہار کے لیے ٹی وی چینلوں کو نوٹس جاری کرنا جمہوری تصوارات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ نوٹس دے کر چینلوں اور اخبارت پر تو بابندی لگائی جا ‎سکتی ہے لیکن کیا خیالات کے اظہارہر پر بھی پابندی ممکن ہے ؟

اسی بارے میں