عام آدمی پارٹی کی رہنما الکا لامبا پتھر لگنے سے زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ Alka lamba twitter
Image caption الکا لامبا کے مطابق جمنا بازار میں عام آدمی پارٹی کے ایک اجتماع کے دوران ان پر حملہ ہوا

دہلی کی ریاستی اسمبلی میں برسراقتدار آدمی پارٹی کی لیڈر الكا لامبا نے پولیس کو شکایت درج کروائی ہے کہ ’یوم اگست انقلاب‘ کے موقعے پر ان پر پتھر پھینکے گئے جس میں وہ زخمی ہو گئیں۔

عام آدمی پارٹی نے نشے کے خلاف ’اگست انقلاب‘ کے موقعے پر ایک تقریب منعقد کی تھی۔

نشے کے خلاف مہم کے تحت عام آدمی پارٹی نے دہلی کے کشمیری گیٹ کے ساتھ بعض دیگر علاقوں میں اتوار کو اپنی ایک مہم کا آغاز کیا۔

خیال رہے کہ ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے دوران سنہ 1942 میں اگست کے مہینے میں ’انگریزو ہندوستان چھوڑو‘ کا نعرہ دیا گیا تھا جسے بھارت کی تاریخ میں اگست انقلاب سے یاد کیا جاتا ہے۔

الکا لامبا کے مطابق جمنا بازار میں عام آدمی پارٹی کے ایک اجتماع کے دوران ان پر حملہ ہوا۔ حملے کے بعد لامبا کو مقامی ہسپتال لے جایا گیا جہاں انھیں ابتدائی علاج کے بعد رخصت کر دیا گيا۔

انھوں نے ٹویٹر پر اس واقعے سے متعلق تصویر بھی شیئر کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alka lamba twitter
Image caption عام آدمی پارٹی نے نشے کے خلاف ’اگست انقلاب‘ کے موقعے پر ایک تقریب منعقد کی تھی

اپنی تصویر کے ساتھ انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’نشے کے خلاف جنگ کا انجام، مجھ پر حملہ کر کے میرا سر پھوڑا، خون بہنے کے باوجود میں میدان نہیں چھوڑوں گي۔ یوم اگست انقلاب۔‘

دہلی پولیس کے ترجمان راجن بھگت نے کہا کہ انھیں بھی لامبا کی طرف سے اس معاملے میں شکایت ملی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہسپتال کی طرف سے ملنے والی رپورٹ کے مطابق چوٹ زیادہ گہری نہیں ہے۔

بدعنوانی کے خاتمے کا نعرہ لے کر سامنے آنے والی نئی جماعت عام آدمی پارٹی کو پہلی بار اکثریت نہیں مل پائی تھی تاہم اس نے حکومت سازی کی تھی اور 49 دنوں میں حکومت نے استعفی دے دیا تھا لیکن دوسری بار اسے تاریخی اکثریت ملی تاہم پارٹی تنازعات کا شکار رہی۔

پارٹی سے کئی سینیئر لیڈر کو جانا پڑا جبکہ پارٹی کو عدالت کا سامنا بھی رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ pti
Image caption یوگیندر یادو کو پارٹی سے نکالنے کے وقت پارٹی میں انتشار واضح نظر آ رہا تھا

پارٹی کی ایک ریلی کے دوران ایک کسان نے خود کشی کر لی تھی جس پر پارٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پارٹی رہنما ارونڈ کیجریوال کو ’انارکسٹ‘ کہا گیا اور ان کو تششد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ ایک دوسرے رہنما یوگیندر یادو پر سیاہی پھینکی گئی تھی۔

خیال رہے کہ بھارت کے دارالحکومت دہلی کے نواحی علاقے کوشامبی میں ہندو قوم پرستوں نے عام آدمی کے سینیئر رہنما پرشانت بھوشن کے مسئلہ کشمیر پر بیان کے ردِعمل میں پارٹی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی تھی۔

اسی بارے میں