ایران میں زیرحراست امریکی صحافی کے مقدمے کا فیصلہ جلد متوقع

تصویر کے کاپی رائٹ Washingtom Post
Image caption جیسن رضائیان پر ایران کے خلاف جاسوسی اور پراپیگنڈا کرنے کا الزام ہے

ایران میں جاسوسی کے الزام میں ایک سال سے زائد عرصے سے گرفتار امریکی صحافی کے مقدمے کی آخری سماعت ہوئی ہے۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ 39 سالہ جیسن رضائیان کے مقدمے کا فیصلہ آئندہ چند روز میں منظرعام پر آنے کی توقع ہے۔

ان کی وکیل دفاع لیلیٰ احسن نے 20 صفحات پر مشتمل دستاویزعدالت میں پیش کی۔ وکیل اور جیسن رضائیان نے زبانی دلائل بھی پیش کیے۔

انھیں دس سے 20 سال جیل کی سزا کا سامنا ہے۔

یہ اس مقدمے کی ایران کی تہران میں واقع انقلابی عدالت کے بند کمرے میں منعقد ہونے والی چوتھی سماعت تھی۔

جیسن رضائیان کے خلاف مقدمے کی واشنگٹن پوسٹ اور صحافتی آزادی کے گروہوں نے مذمت کی ہے۔

جیسن رضائیان کی والدہ میری رضائیان کا کہنا ہے: ’وہ دونوں ممالک کے درمیان پائے جانے والے شک و شبہات، دشمنی اور وسوسوں کی قیمت چکا رہے ہیں۔‘

جیسن رضائیان کو ان کے بیٹے، بیوی یگانے صالحی اور دو فوٹوجرنلسٹس سمیت جولائی 2014 میں ایران میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔ تاہم ان کے علاوہ باقی تمام افراد کورہا کر دیا گیا تھا۔

ان پر ایران کے خلاف جاسوسی اور پراپیگنڈا کرنے کا الزام ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جیسن رضائیان کو ان کے بیٹے، بیوی یگانے صالحی اور دو فوٹوجرنلسٹس سمیت جولائی 2014 میں ایران میں گرفتار کر لیا گیا تھا

واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹیو ایڈیٹر مارٹن بیرن کا کا کہنا ہے: ’تاحال جیسن کی وکیل کو بھی یہ واضح نہیں ہے کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔ ‘

ان کے مطابق یہ کارروائی کچھ بھی ہوسکتی ہے مگر انصاف نہیں۔

’ایک بات جو بالکل واضح ہے وہ جیسن کہ بے قصور ہونا ہے۔‘

واشنگٹن پوسٹ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے من مانی حراستوں سے متعلق ورکنگ گروپ میں بھی ایک درخواست دائر کر کے ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

جیسن رضائیان کی والدہ کا کہنا ہے جیسن ’تنہا‘ اور ’مایوس‘ ہیں۔

اسی بارے میں