جنوبی کشمیر: مسلح تحریک کا نیا مرکز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک ایسے وقت جب بھارت اور پاکستان کئی سطحوں پر مذاکراتی کوششوں میں مصروف ہیں، بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں مسلح مزاحمت میں شدت آگئی ہے۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ مسلح مزاحمت کی اس نئی لہر کا مرکز جنوبی کشمیر کے دو اضلاع شوپیان اور پلوامہ ہیں۔

منگل کو ہونے والا طویل تصادم بھی پلوامہ کے ہی راتانی پورہ گاؤں میں ہوا۔ اس تصادم میں گلزار بٹ اور شوکت لون نامی دو مقامی مسلح مزاحمت کار ہلاک ہوئے۔ گلزار بٹ کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ وہ مسجدوں میں جمعے کے روز خطاب کرتے تھے اور '’گلزار مولوی‘ کے نام سے مشہور تھے۔ جبکہ ان کے ساتھی شوکت نے آٹھ ماہ پہلے بندوق اُٹھائی تھی۔

تازہ جھڑپ کے بارے میں پولیس نے بتایا کہ پیر کی رات ہی انہیں مسلح شدت پسندوں کے بارے میں خفیہ اطلاع ملی تھی اور فوراً راتانی پورہ علاقے کا محاصرہ کیا گیا، لیکن وہاں پہنچتے ہی شدت پسندوں نے فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے مشترکہ دستے پر فائرنگ کی اور فائرنگ کا تبادلہ رات بھر جاری رہا۔

طویل تصادم کے بعد منگل کی دوپہر کو فوج اور پولیس نے دعویٰ کیا کہ دو مقامی شدت پسند گلزار بٹ اور شوکت لون مارے گئے۔ تصادم کے دوران لوگوں نے اینکاؤنٹر کی جگہ مظاہرے کیے لیکن پولیس نے ان کو منتشر کیا۔ پولیس کارروائی میں ایک شہری زخمی ہوا اور اس آپریشن میں پولیس کی ٹاسک فورس کا ایک جوان بھی زخمی ہوا۔

واضح رہے کہ کشمیر کے جنوبی اضلاع میں مسلح شدت پسندوں اور بھارتی فورسز کے مابین تصادم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس کے مطابق جولائی سے اب تک یہاں سات ایسی جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں پولیس، نیم فوجی سی آر پی ایف اور فوج نے مشترکہ آپریشن کیے۔ ان آپریشنوں میں سات مقامی شدت پسند مارے گئے لیکن کئی بار ایسا بھی ہوا کہ طویل محاصروں کے بعد مسلح مزاحمت کار فرار ہوگئے۔

غور طلب بات یہ ہے کہ جنوبی کشمیر میں جب بھی مقامی شدت پسند کسی تصادم میں مارے جاتے ہیں تو مقامی افراد مظاہرے کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں مارے جانے والے شدت پسندوں کے جنازے میں شریک ہوتے ہیں۔

پولیس کے ایک افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ جنوبی کشمیر میں اس وقت کل ساٹھ شدت پسند سرگرم ہیں جن میں سے تیس نے اسی سال مسلح مزاحمت کا راستہ اپنایا ہے۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ اور شوپیان ضلعوں میں اس طرح کے واقعات اب معمول بن گئے ہیں۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سنہ 2008 میں عوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جو 2010 تک جاری رہا۔ غیر مسلح مظاہرین پر پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی فائرنگ کے واقعات میں ڈیڑھ سو سے زائد کم سن لڑکے مارے گئے۔ ہلاکتوں کے اس سلسلے پر کئی حلقوں نے تشویشن ظاہر کی تھی کہ حالات کو پرتشدد بنا سکتی ہے۔

اس دوران ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور پولیس کے تعاقب اور ٹارچر سینٹرز میں رہنے کے بعد کئی نوجوانوں نے جنگلوں میں روپوش ہوکر مسلح مزاحمت شروع کردی۔ اس کی ایک مثال جنوبی کشمیر کے ترال قصبے میں رہنے والے برہان ہیں، جن کے والدین کا کہنا ہے کہ انہیں سنہ 2010 میں پولیس نے اذیت کا نشانہ بنایا۔ برہان کی قیادت میں آٹھ کم سن نوجوانوں کی ایک ویڈیو فیس بک پر وائرل ہوگئی جس میں سبھی مسلح نوجوان فوجی وردی میں ملبوس جدید ترین موبائل فونز کے ساتھ مصروف نظر آ رہے تھے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ یہ کم سن لڑکے جنوبی کشمیر میں مسلح مزاحمت کو گلیمرائز کر رہے ہیں۔ لیکن انسانی حقوق کے لیے سرگرم اداروں کا کہنا ہے نوجوانوں کو پولیس اور خفیہ ایجنسیاں ہراساں کر رہی ہیں اس لیے وہ اعلیٰ تعلیمی قابلیت کے باوجود مسلح مزاحمت کو آخری راستہ سمجھ رہے ہیں۔

نو فروری دو ہزار تیرہ کو کشمیر کے سابق مزاحمت کار افضل گورو کو اہل خانہ سے ملاقات کے بغیر خفیہ طور پر دلّی کی تہاڑ جیل میں پھانسی دے دی گئی اور وہیں دفنایا گیا۔ اس کے بعد کشمیر میں دوبارہ مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا جس میں کئی نوجوان مارے گئے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پھانسی کے اس واقعے نے بھی کشمیر کی نئی نسل میں امن یا امن کی کوششوں کو حد درجہ غیر مقبول کردیا ہے۔