کیا ہندو قوم پرست بھارتیوں کے لیے بھی خطرہ ہیں؟

Image caption فادر انتھونی کا کہنا ہے کہ چرچ کا جلنا بھارت کے آئین کے جلنے کے مترادف ہے جو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے

گذشتہ ایک سال سے جب سے بھارت میں دائیں بازو کی قوم پرست جماعت بی جے پی نے حکمرانی سنبھالی ہے ان خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ملک میں مذہبی تشدد بھی بڑھ رہا ہے ۔

کچھ حلقوں کا خیال ہے کہ بی جے پی نے اقلیتوں کے خلاف عدم برداشت کے رجحان کو ہوا دی ہے اور اس کی وجہ سے ہندو حلقے بھی کھل کر بات کرنے سے ڈرے ہوئے ہیں۔

کرسمس کے تہوار سے کچھ ہی دن پہلے دہلی کی سباسچیئن چرچ کو آگ لگا دی گئی۔ یہ گذشتہ سال ہندوستان میں حملے کا نشانہ بننے والے پانچ گرجا گھروں میں سے ایک ہے۔

چرچ کے پادری انتھونی فرانسس کا کہنا ہے کہ انھیں پولیس کے اس بیان پر یقین نہیں کہ آگ شارٹ شرکٹ کی وجہ سے لگی، اس لیے انھوں نے خود ہی شواہد اکھٹا کرنا شروع کر دیے۔

انتھونی فرانسس کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے پولیس افسران کو آگ بجھانے کے لیے استعمال کیے گئے پانی پر تیل کی تہہ دکھائی تب ہی اس کیس کے تحقیقات آتشزنی کے واقعے کے طور پر شروع کی گئیں۔

لیکن ابھی تک نہ تو اس چرچ اور نہ ہی باقی چار گرجا گھروں پر حملوں کے سلسلے میں کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

اور سینٹ سباسچیئن چرچ میں ہونے والی مذہبی رسومات اب قریبی کمیونٹی سنٹر میں پلاسٹک کی چادر تلے ادا کی جا رہی ہیں۔

بھارت کی ایک بڑی اقلیت مسلمان بھی اس سلسلے میں دباؤ کا شکار ہیں۔

پچھلے سال انتخابات کے بعد آنے والے مہینوں میں دارالحکومت دہلی سے صرف 100 کلومیٹر دور واقع قصبے مظفر نگر میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے جن میں 60 سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے تھے۔

حالانکہ اس کے بعد سے اب تک کوئی بڑا فساد نہیں ہوا ہے مگر اس نوعیت کے چھوٹے چھوٹے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔

محمد جمشید کا، جن کے برادرِ نسبتی دین محمد اس سال مئی میں مظفر نگر کے قریبی گاؤں کیرانہ میں فسادات کے نتیجے میں فالج کا شکار ہوگئے تھے، کہنا تھا کہ ’اب ہندو مسلمانوں کو گاؤں سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں جبکہ ان کے مستقل حملوں نے وہاں خوف کی فضا پیدا کردی ہے۔‘

18 سالہ دین محمد کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ یہ حادثہ تب پیش آیا جب وہ مسلمانوں پر تشدد کے خلاف پولیس کارروائی کا مطالبہ کرنے والے مظاہرے کے قریب سے گزر رہے تھے۔

’میں مظاہرہ دیکھنے کے لیے وہیں رک گیا کہ اس دوران پولیس کی گاڑی سے ایک گولی آ کر مجھے لگی ۔ مجھے لگا میرا جسم سن ہوگیا ہے ۔ میں چند قدم آگے چلا اور گرگیا۔ اس کے بعد مجھے خون کی الٹی آنے لگی۔‘

دین محمد کو ڈر ہےکہ وہ اب کبھی دوبارہ نہیں چل سکیں گے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دین محمد کے جسم سے برآمد ہونی والی گولی پولیس استعمال نہیں کرتی لیکن وہ تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا پولیس نے اس دن ضرورت سے زیادہ طاقت کا استعمال کیا تھا۔

گذشتہ ماہ ایک 26 سالہ مسلمان مزدور فیضان دہلی سے بذریعہ ٹرین قریبی گاؤں شاملی جا رہے تھے کہ تقریباً دس کے قریب ہندوؤں نے انھیں بری طرح مارا پیٹا، ان کی داڑھی نوچ ڈالی اور پھر ان کے پاس موجود رقم لے کر فرار ہو گئے۔

فیضان کا کہنا ہے کہ ’پولیس نے ابھی تک سوائے شکایت درج کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ ایسا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہوجائے۔‘

بھارتی میڈیا بھی اس طرح کے واقعات پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتا اور اس طرح کے واقعات مزید پریشان کن لگتے ہیں جب ان کے ساتھ ساتھ حکمران جماعت بی جے پی کے رہنماؤں کے اقلیتوں کے متعلق متعصبانہ بیانات سامنے آتے ہیں۔

بے جی پی کے رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کا کہنا ہے کہ ’ہندوؤں کی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے ہر ہندو عورت کو چار بچے پیدا کرنے چاہییں۔‘

ایک اور رکن پارلینٹ گریراج سنگھ نے کہا ہے کہ ’جو لوگ مودی کے خلاف ہیں انہیں پاکستان جانا ہوگا۔‘ اس بیان کے بعد ہی انھیں وزیر کا عہدہ دے دیا گیا۔

لیکن بھارت میں اقلیتوں کے وزیر مختار عباس نقوی کے مطابق ’آپ تشدد کے کچھ واقعات اور وزرا کے ذاتی حیثیت میں دیے گئے کچھ بیانات سے پوری حکومت کی سوچ کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔‘

نریندر مودی نے خود بھی وزیر اعظم بننے کی بعد ہندو قوم پرستی کا ایک اعتدال پسند رخ پیش کیا ہے۔

نریندر مودی نے فروری میں گرجا گھروں پر حملے کے بعد دباؤ میں آ کر کہا تھا کہ ’ہماری حکومت اکثریت یا اقلیت سے تعلق رکھنے والے کسی بھی مذہبی گروہ کو دوسرے فرقے کے خلاف کھلے عام یا درپردہ نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں دے گی۔‘

لیکن حال ہی میں جاری ہونے والے اعدادوشمار کے مطابق بھارت میں 2015 کے پہلے چھ ماہ میں فرقہ وارانہ تصادم میں پچھلے سال کے مقابلے میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس سال ہونے والے 330 فرقہ وارانہ حملوں میں 51 جان لیوا تھے جبکہ پچھلے سال انھی مہینوں میں اس قسم کے کل 252 حملوں میں 33 جان لیوا تھے۔

نریندر مودی کے موجودہ دور حکومت میں مظفر نگر کے فسادات 2002 میں گجرات میں ہونے والے خونی فسادات سے کم تباہ کن تھے جب نریندر موددی وہاں کے وزیر اعلی تھے۔

گجرات میں تقریباً 1000 سے زیادہ افراد جن میں زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی لقمۂ اجل بنے۔ گجرات فسادات ٹرین میں آگ لگنے کی وجہ سے 60 ہندو زائرین کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے ۔

تشدد کے علاوہ تعصب کی اور بھی بہت سی اشکال ہیں جن کی پیمائش ممکن نہیں۔

بکر پرائز حاصل کرنے والی بھارتی مصنفہ اروندھتی رائے کا کہنا ہے کہ ’تعصب یہ نہیں کہ آپ مسلمانوں کو جان سے ماردیں یا ان کے پیچھے پڑجائیں، یا آپ کسی کا گھر جلا ڈالیں بلکہ تعصب یہ ہے کہ انہیں نوکریاں نہیں دی جائیں یا ان کو رہنے کی جگہ نہ دی جائے جس کی وجہ سے وہ خوف کا شکار ہیں۔‘

اروندھتی رائے کا کہنا تھا کہ ان کی طرح کی شہری مڈل کلاس بھی اب ہندو قوم پرستی کے نئے نظریے سے خوفزدہ ہے۔

’یہ صرف مسلمانوں اور ہندوؤں کا سوال نہیں ہے بلکہ شاید ان لوگوں کا ہے جن سے وہ سب سے زیادہ نفرت کرتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا کو ایک مختلف نظریے سے دیکھتے ہیں، اور اس ہی لیے انہیں خاموش کرایا جا رہا ہے۔‘

فادر انتھونی کا کہنا ہے کہ چرچ کا جلنا ’بھارت کے آئین کے جلنے کے مترادف ہے‘ جو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔

’مجھے ڈر ہے کہ اگر یہ ملک ایک ہندو قوم بن گیا تو پاکستان کے نقش قدم پر چلنے لگے کا اور توہین مذہب جیسے قوانین کے ذریعے اقلیتوں کو نشانہ بنایا جاسکے گا۔ ہم یہ کس قسم کا ملک بنانے جا رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں