’ماضی میں مہمانوں نے اسے پسند بھی کیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption ’یہ ایک ہالی وڈ کی طرز کا پُول سائیڈ شو تھا جس میں ریمبو اور سُپرمین جیسے کردار موجود تھے‘

ترکی میں ایک ہوٹل کے عملے کی جانب سے اپنے مہمانوں کی تفریح کے لیے فرضی شدت پسندوں کے حملے کے ڈرامے کے بعد سیاحتی کمپنی نے معافی مانگ لی ہے۔

اِیچمِیلر کے گرینڈ یازیجی میئرز ہوٹل میں مقیم ایک برطانوی سیاح کا کہنا تھا کہ ہوٹل کے اس ڈرامے نے اُنھیں دہشت زدہ کردیا تھا۔

یہ مبینہ مذاق یا ڈرامہ، تیونس میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والے گروہ کی جانب سے حملے کے محض چھ ہفتوں کے بعد کیا گیا تھا۔ یاد رہے خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والے گروہ کے شدت پسند سیف الدین نے اس حملے میں 38 افراد کو ہلاک کردیا تھا۔

سیاحتی کمپنی جیٹ ٹو ہالیڈیز کا کہنا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو ہوٹل کی جانب سے کیے جانے والے ڈرامے کا مقصد کسی کی ’دل آزاری‘ کرنا ہر گز نہیں تھا۔

مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے 43 سالہ جیسن پائیتھن نے بتایا کہ جس وقت فرضی شدت پسندوں نے حملہ کیا وہ بھی درجنوں برطانوی سیاحوں کے ہمراہ پُول سائیڈ پر موجود تھے۔

پائیتھن نے برطانوی اخبار ’سن‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ لوگ اپنی زندگیاں بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے اور اس بات کا احساس تو اُنھیں بعد میں ہوا کہ یہ سب ایک طرح کا مذاق تھا۔

’ہمیں اُس وقت اطمینان محسوس ہوا جب ہمیں پتہ چلا کہ اپنے مہمانوں کو محظوظ کرنے کے لیے یہ ہوٹل والوں کا ایک ڈرامہ تھا۔ اُن کے خیال میں پُول کے ارد گرد شدت پسندوں کے حُلیے میں ملبوس ہو کر بھاگنا لوگوں کے لیے باعثِ دلچسپی ہوگا۔‘

پائیتھن کا مزید کہنا تھا ’ایک شدت پسند بالٹی، جس پر ’ایندھن‘ لکھا تھا، لے کر بھاگتا ہوا میرے نزدیک آگیا۔ اُس نے وہ بالٹی میرے اوپر انڈیل دی اور سگریٹ کا لائیٹر جلا لیا۔ تیونس کے واقعے کا اس طرح مذاق اڑانا بڑی افسوسناک بات تھی۔‘

وہ اپنے والد کی 70 ویں سالگرہ منانے اپنے خاندان کے پانچ افراد کے ہمراہ آئے تھے۔ انھوں نے سیاحتی کمپنی جیٹ ٹو ہالیڈیز کو 12 دن کے تفریحی دورے کے لیے پانچ ہزار سے زائد برطانوی پاؤنڈز کی ادائیگی کی تھی۔

وہ لوگ 30 جولائی کو دلامان کے ساحل پر پہنچے تھے۔

شام سے ایچمیلر کا فاصلہ 400 میل سے بھی کم ہے۔ شام کے کئی علاقوں پر اس وقت خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والے شدت پسند گروہ کا قبضہ ہے۔

جیٹ ٹو ہالیڈیز کی ترجمان کا اس واقعے کے بارے میں کہنا ہے کہ ’ہمیں افسوس ہے کہ سٹن خاندان کو اس تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔ اِس کے بارے میں ہم نے فوری طور پر ہوٹل انتظامیہ سے بھی بات کی۔ انھوں نے ہمیں اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس تفریحی پروگرام کا مقصد ہرگز بھی کسی کی دل آزاری کرنا نھیں تھا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ ایک ہالی وڈ کی طرز کا پُول سائیڈ شو تھا جس میں ریمبو اور سُپرمین جیسے کردار موجود تھے اور ماضی میں مہمانوں نے اسے پسند بھی کیا ہے۔ ہوٹل کی انتظامیہ کو اس بات کا احساس ہے کہ ڈرامے کے کچھ ملبوسات سے لوگوں کی دل آزاری ہو سکتی ہے اس لیے ان ملبوسات کو آئندہ اس شو میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘

دوسری جانب اُس ہوٹل میں مقیم ایک اور برطانوی سیاح نے ’میل آن لائن‘ سے بات کرتے ہوئے اس مذاق کو ہلکے پھلکے انداز میں لیا ہے۔

انھوں نے میل آن لائن کو بتایا کہ ’اگرچہ کہ ہالی وڈ طرز کی اس پُول سائیڈ تفریح کو آپ بےذوق کہہ سکتے ہیں لیکن یہ خوفزدہ کرنے والی نہیں تھی۔ اس شو کے تمام کرداروں نے مضحکہ خیز میک اپ کر رکھے تھے اور ساتھ ساتھ اس شو کی کمنٹری بھی کی جارہی تھی۔

’نہ تو کوئی خوفزدہ لگ رہا تھا اور نہ ہی کوئی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگ رہا تھا۔ اِس کو اِس کے سیاق و سباق میں ہی دیکھنا چاہیے۔‘

اسی بارے میں