اسامہ بن لادن کے آڈیو پیغامات میں کیا تھا؟

اسامہ بن لادن کے عنوان سے ایک کیسٹ تصویر کے کاپی رائٹ Flagg Miller
Image caption اس کیسٹ پر لکھا ہے ’اسامہ بن لادن‘

امریکہ کی جانب سے سنہ 2001 میں افغانستان پر حملے کے بعد اسامہ بن لادن قندہار سے بھاگنے پر مجبور ہوگئے تھے جہاں وہ سنہ 1997 سے مقیم تھے۔ وہاں کئی عمارتوں کو جلد بازی میں خالی کیا گیا تھا۔

ان عمارتوں میں سے ایک طالبان کی وزارت خارجہ کے بالکل سامنے تھی جہاں القاعدہ کے سینیئر رہنما ملاقاتیں کیا کرتے تھے۔ وہاں سے 1,500 آڈیو کیسٹیں ملیں تھیں۔

ایک افغان خاندان کے ہاتھ اس لوٹی ہوئی عمارت سے ان کیسٹوں کی یہ کھیپ آئی جو وہ فوراً ایک مقامی آڈیو کیسٹوں کی دکان پر لے گئے۔ طالبان کے دور میں تو موسیقی پر پابندی تھی لیکن اب موقع تھا کہ ان کیسٹوں پر نئے اور معروف گانے ریکارڈ کر کے ان سے پیسہ کمایا جائے۔

سی این این کے لیے کام کرنے والے ایک کیمرا مین کو ان کیسٹوں کے بارے میں پتہ چلا تو انھوں نے دکاندار کو قائل کر لیا کہ وہ یہ کیسٹیں انھیں دے دے۔ ان کا خیال کہ اس میں اہم مواد ہو گا اور یہ خیال درست نکلا، کیوں کہ یہ القاعدہ کی آڈیو لائبریری تھی۔

ان کیسٹوں کو امریکی ریاست میساچیوسٹس کے ولیمز کالج میں افغان میڈیا پروجیکٹ کو بھجوایا گیا جنھوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والے عربی ادب و ثقافت کے ماہر فلیگ مِلر سے ان کیسٹوں کا تجزیہ کرنے کی درخواست کی۔ آج بھی وہ واحد شخص ہیں جنھوں نے یہ تمام کیسٹیں سنی ہیں۔

مِلر سنہ 2003 میں اس دن کو یاد کرتے ہیں جب انھیں دھول میں لپٹی ہوئی کیسٹوں سے بھری دو پیٹیاں ملی تھیں۔

’میں تین دن تک سو نہیں سکا اور سوچتا رہا کہ انھیں سمجھنے کے لیے کیا کچھ کرنا ہو گا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FLAGG MILLER
Image caption ان دو پیٹیوں میں 1,500 کیسٹیں تھیں

ایک دہائی سے زیادہ عرصے بعد مِلر نے انھیں سن کر جو کچھ دریافت کیا اس پر انھوں نے ایک کتاب لکھی جس کا عنوان ہے: ’دی اوڈیشیس اسیٹک‘ یا ’نڈر درویش۔‘ ان کیسٹوں میں 1960 سے لے کر 2001 تک 200 کے لگ بھگ مختلف افراد کی آوازیں ہیں جن میں اسامہ بن لادن بھی شامل ہیں۔

اسامہ بن لادن کی آواز پہلی مرتبہ 1987 کی ایک ٹیپ میں سنی جا سکتی ہے جو افغان عرب مجاہدین اور سوویت کمانڈوز کے درمیان ایک معرکے کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔

مِلر کہتے ہیں کہ ’بن لادن اپنی شناخت ایک موثر جہادی کے طور پر بنانا چاہتے تھے۔ یہ ایک آسان کام نہیں تھا کیوں کہ وہ ایک ایسے بانکے نوجوان کے حوالے سے جانے جاتے تھے جو صحرا میں بھی ڈیزائنر بوٹ پہنتا تھا۔

’لیکن وہ اپنی تشہیر بہت ہی سلجھے ہوئے انداز میں کرتے تھے اور یہ آڈیو کیسٹیں اس کردار کی افسانہ سازی کا حصہ ہیں۔‘

ان کیسٹوں میں بن لادن کی 1980 کی دہائی کے آخر اور 1990 کی دہائی کے اوائل میں سعودی عرب اور یمن میں کی گئی تقاریر بھی موجود ہیں۔

مِلر کہتے ہیں: ’جس طرح بن لادن جزیرہ نما عرب کو لاحق خطرے کے بارے میں بات کر رہے ہیں وہ بہت دلچسپ ہے۔ لیکن آخر دشمن ہے کون؟ وہ اس عام سوچ کے برعکس نہ امریکہ ہے اور نہ ہی مغرب، بلکہ دوسرے مسلمان ہیں۔‘

بعد میں امریکہ بن لادن کے لیے اہم نشانہ بن گیا تھا لیکن شروع کے دنوں کی ان تقاریر میں اس جانب کوئی اشارہ نہیں ہے۔ انھیں کئی برسوں تک ایسے مسلمانوں کے بارے میں فکر تھی جو سخت اسلامی اصولوں پر عمل نہیں کرتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FLAGG MILLER
Image caption فلیگ مِلر نے ان کیسٹوں کے تجزیے کے بعد ایک کتاب لکھی

اس کی تفصیل بتاتے ہوئے مِلر کہتے ہیں: ’ان میں سب سے پہلے شیعہ آتے ہیں۔ اس کے بعد کمیونسٹ اور پھر مصری نصاریٰ۔‘

یہ آڈیو کیسٹیں پروپیگنڈا کا بہترین ہتھیار تھیں اور اس میں کوئی حیرت نہیں کہ بن لادن کو یہ طریقہ پسند تھا۔ ان کو آسانی سے لوگوں تک پہنچایا جا سکتا تھا اور سینسر والے بھی ان پر کوئی توجہ نہیں دیتے تھے۔ یہ مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا میں مقبول تھیں جہاں لوگ انھیں دوستوں کے ساتھ مل کر سنتے تھے اور انقلاب کے طریقے سوچتے تھے۔

ان کیسٹوں میں خطبوں اور تقاریر کی بہتات ہے لیکن دیگر چیزیں بھی ہیں۔ جن میں سے ایک میں ایک ایسے جِن کے ساتھ بات چیت بھی ہے جس نے ایک آدمی کے جسم پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس آدمی کے ذریعے بات کرتے ہوئے وہ جن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے سیاسی منصوبوں کا علم ہے۔ تاہم بن لادن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ توہم پرستی پر یقین نہیں رکھتے تھے۔

اس میں افغان اور عرب جنگجؤوں کی ریکارڈنگز بھی ہیں جو 1980 کی دہائی کے آخر میں ایک تربیتی کیمپ میں ناشتہ کر رہے ہیں۔ اس بے تکلفانہ بات چیت سے فرنٹ لائن کی اکتا دینے والی زندگی کا پتہ چلتا ہے۔ یہ گفتگو اچھے کھانوں اور ’مسٹر ہیل فائر‘ کے پکوانوں کی خواہشوں سے بھرپور ہے، جو مکہ میں ایک معروف باورچی ہیں اور اپنے مزیدار میٹھے پکوانوں کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔

ان کیسٹوں میں کئی گھنٹوں پر محیط اسلامی ترانے بھی ہیں جن میں ڈرامائی جنگوں اور مجاہدین کے لیے پیغامات ہیں۔ اور یہ ترانے مجاہدین کو بھرتی کرنے کا اہم ذریعہ تھے۔

مِلر کہتے ہیں کہ ’کئی افراد کے لیے یہ دل کے راستے جہاد تک لے جانے کا طریقہ ہے۔‘

’یہ نغمے جذبات کو ابھارتے ہیں۔ انھیں ہیڈ فون پر سنیں تو انسان گہرائی میں چلا جاتا ہے کیوں کہ یہ آپ کے تصور کے ساتھ کھیلتے ہیں۔‘

ان کیسٹوں میں مغربی پاپ موسیقی گیسٹن گریناسیا کی صورت میں موجود ہے جو الجیریا سے تعلق رکھنے والے یہودی تھے اور جن کی شہرت پہلے صرف فرانس تک محدود تھی۔ وہ اینریکو ماشییس کے نام سے گاتے تھے اور انھیں 1960 اور 70 کی دہائی میں عالمی شہرت ملی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شمالی اتحاد کا ایک فوجی موسیقی سن رہا ہے

’میرے خیال میں ان کیسٹوں میں فرانسیسی گانوں کا ہونا اس بات کی نشاندہی ہے کہ قندہار میں رہنے والے افغان اور عرب کئی زبانیں بولتے تھے اور ان کو دنیا کا تجربہ تھا۔ ان میں سے کئی ایک لمبے عرصے تک مغرب میں رہے تھے اور اس بات پر جتنا زور دیا جائے کم ہوگا کہ وہ کثیر پہلو زندگیاں جی رہے تھے۔‘

’ان گانوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے کوئی زندگی کے کسی مقام پر الجیریا سے تعلق رکھنے والے اس یہودی کے گانوں سے لطف اندوز ہو رہا تھا اور شاید یہ جاننے کے بعد بھی کہ یہ اس کے عقائد کے خلاف ہے۔‘

ایک اور غیر متوقع ذکر جو ان کیسٹوں میں ملتا ہے وہ مہاتما گاندھی کا ہے۔ سنہ 1993 میں کی گئی ایک تقریر میں اسامہ بن لادن نے گاندھی کو مشعلِ راہ قرار دیا ہے۔

ان کیسٹوں میں وہ پہلی تقریر بھی شامل ہے جس میں بن لادن اپنے حامیوں سے امریکہ کی مخالفت کے لیے اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا کہتے ہیں۔

بن لادن کہتے ہیں: ’برطانیہ کی مثال لیجیے، وہ اتنی بڑی ریاست ہے کہ کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس پر سورج کبھی غروب نہیں ہو گا۔

’برطانیہ اپنی سب سے بڑی کالونی (ہندوستان) سے اس وقت نکلنے پر مجبور ہوگیا تھا جب ایک ہندو گاندھی نے ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ ہمیں آج امریکہ کے ساتھ ویسا ہی کرنا ہو گا۔ ‘

بن لادن اپنے حامیوں سے امریکی سفارت خانوں کو خط لکھ کر مشرق وسطیٰ میں امریکی کردار پر اپنے خدشات کا اظہار کرنے کی ترغیب بھی دیتے ہیں۔ اس وقت تک ان کی جانب سے امریکہ کے خلاف تشدد کا راستہ اپنانے کی کوئی ترغیب سامنے نہیں آئی تھی۔

مِلر کہتے ہیں: ’لیکن سوڈان سے ان کی بے دخلی کے بعد سنہ 1996 میں اس سوچ میں تبدیلی آئی۔‘

’امریکہ کے دباؤ میں سنہ 1994 میں ان سے سعودی شہریت لے لی گئی اور وہ اپنا تمام پیسہ بھی کھو چکے تھے۔ اس موقعے پر بن لادن کو اپنے انتہا پسند حامیوں کو جوش دلانے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کی ضرورت تھی جو پھر انھوں نے سنہ 1996 میں تورا بورا میں کی گئی تقریر میں کیا۔‘

اس تقریر کو بن لادن کی جانب سے اعلان جنگ قرار دیا جاتا ہے لیکن اس کے مکمل متن کے تجزیے کے بعد مِلر کے مطابق یہ مکمل سچ نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنہ 1998 میں شائع ہونے والی اس تصویر میں امریکیوں کے مطابق اسامہ بن لادن کو اسلامی فلاحی ادارے ’بنیولینس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن‘ کے انعام ارناؤنٹ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

’اس تقریر کے ایک تہائی آخری حصے میں 15 نظمیں ہیں اور کئی مرتبہ جب اس تقریر کا ترجمہ کیا جاتا ہے تو اس حصے کو چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اور اس وجہ سے اس وقت میڈیا میں جس طرح اسے پیش کیا گیا اس کے برعکس یہ تقریر اعلان جنگ نہیں تھی۔

’یہ امریکہ کے خلاف کچھ کرنے کی ضرورت کے بارے میں ہے لیکن ایسا سعودی بدعنوانی کے بارے میں جدوجہد کے وسیع پیغام کی روشنی میں کہا گیا ہے۔‘

اس مجموعے میں ملنے والی صرف ایک ریکارڈنگ میں 11 ستمبر 2001 کا کوئی حوالہ ملتا ہے۔ یہ پیغام نیویارک اور واشنگٹن میں ہونے والے حملوں سے چند ماہ قبل اسامہ بن لادن کے محافظ عمر کی شادی کے موقعے پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

’اس کیسٹ میں بہت سے قہقہے ہیں لیکن جیسے ہی اسامہ کی آواز آتی ہے قہقہے رک جاتے ہیں۔ اسامہ کہتے ہیں کہ خوشی منانا ضروری ہے لیکن یہ ہمارے اصل اور سنجیدہ مقاصد پر اثر انداز نہیں ہونی چاہیے۔‘

اس کے بعد بن لادن ایک حوالہ دیتے ہیں۔ ’وہ ’ایک منصوبے‘ کے بارے میں بات کرتے ہیں لیکن تفصیلات نہیں بتاتے۔ وہ کہتے ہیں کہ کس طرح ہم ’ایک خبر سنیں گے‘ اور وہ خدا سے دعا کرتے ہیں کہ ’ہمارے بھائیوں کو کامیابی عطا فرما۔‘

’میرے خیال سے یہ نو گیارہ کے حملوں کی طرف اشارہ تھا کیوں کہ وہ اس موقعے پر خاص طور پر امریکہ کے بارے بات کر رہے ہیں۔‘

حیرت کی بات یہ ہے کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر محیط ان ریکارڈنگز میں، جن میں بن لادن کی آواز ہے، مغرب کے خلاف تشدد کا ذکر بہت کم ہے حالانکہ یہ وہ بات ہے جس کے ساتھ انھیں عمومی طور پر منسلک کیا جاتا ہے۔

مِلر کے مطابق ’ان ریکارڈنگز سے پتہ چلتا ہے کہ القاعدہ کا اہم دشمن مسلمان رہنما ہیں۔‘

’یمن میں القاعدہ کی موجودگی، اس کے عراق پر اثرات اور مسلم دنیا میں مسلمان زندگیوں کی تباہی سے ایک ہی بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ یہ تنظیم کی سوچ نے خون خرابے کے مختلف راستے اختیار کیے۔

’ان ٹیپوں میں نو گیارہ کے بارے میں مشکل سے ہی کوئی ایسی چیز ملے گی جو مجھے نو گیارہ کی یاد دلائے۔‘

اسی بارے میں