چار ڈگریوں کے باوجود صفائی کرنے پر مجبور

تصویر کے کاپی رائٹ sumedh sawant
Image caption سنیل یادو کی ڈگریاں ان کی ملازمت میں ترقی نہ دے سکیں

بھارت کے شہر ممبئی کے 36 سالہ سنیل یادو علم کی طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔

وہ چار ڈگریاں حاصل کر چکے ہیں جن میں نامور تعلیمی ادارے ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائسز سے ماسٹرز کی ڈگری بھی شامل ہیں اور اب وہ ایم فل کر رہے ہیں۔

تاہم ان کے سرکاری کاغذات میں ان کی شناخت ’سمارجک‘ کی ہے، سمارجک کی اصطلاح بھارت میں صفائی کرنے والوں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ ایسا صفائی کرنے والا جو انسانوں اور جانوروں کے فضلے کو صاف کرتا ہے۔ یہ کام بھارت میں عموماً نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کرتے ہیں، جنھیں دلت یا اچھوت کہا جاتا ہے۔

سنیل یادو کا تعلق بھی دلت گھرانے سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ دلتوں کے حقوق کے علم بردار بی آر امبیڈکر سے متاثر ہیں جنھوں نے کہا تھا کہ صرف تعلیم کے ذریعے ہی تبدیلی لانا ممکن ہے۔

تاہم ایسا دکھائی دیتا ہے کہ تبدیلی نے انھیں چکمہ دے دیا ہے۔

سنیل یادو کی ڈگریاں انھیں ان کی ملازمت میں ترقی نہ دے سکیں۔ وہ ممبئی کی میونسپل کارپوریشن آف گریٹر ممبئی میں ملازم ہیں۔

فی الوقت وہ شہر کی سڑکوں سے رات کے وقت کوڑا کرکٹ اٹھانے پر مجبور ہیں جبکہ دن کے وقت وہ پڑھائی کرتے ہیں۔ تمام ملازمین کو پڑھائی کے لیے چھٹی مل سکتی ہے تاہم سنیل یادو کا کہنا ہے کہ ان کی چھٹی کی درخواست مسترد کر دی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بہت سے ملازمین جو تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں وہ صفائی کا کام کرنے پر مجبور ہی رہتے ہیں

وہ کہتے ہیں: ’ایک اہلکار نے مجھے کہا کہ اگر میں تمھیں ایک موقع دے دوں تو اسے تمام ملازمین کو یہ موقع دینا پڑے گا۔ انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ پڑھائی سے میں کیا حاصل کر لوں گا۔ انتظامیہ کا رویہ ہمارے ساتھ غلاموں جیسا ہے۔‘

ہر بار پڑھائی کے لیے چھٹی حاصل کرنے کے لیے سنیل یادو کو ایک نئے محاذ کا سامنا کرنے پڑا ہے۔

ان کو ماسٹرز ڈگری کے لیے چھٹی کئی ماہ کے احتجاج کے بعد ہی مل سکی تھی۔

ممبئی بلدیہ کو بھارت کا سب سے امیر مقامی سطح کا حکومتی ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس کے 28 ہزار سے زائد صفائی کے ملازمین ہیں اور 15 ہزار مزدور کنٹریکٹ پر کام کرتے ہیں۔

بھارت میں ہاتھ سے صفائی کا کام کرنے پر سنہ 2013 سے پابندی عائد ہے۔ یہ ایک وحشیانہ کام ہے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ اس شعبے سے لاکھوں کی تعداد میں افراد منسلک ہیں جنھیں اذیت اور تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بھارتی اخبار انڈین ایکسپرس کے مطابق ریاستی حکومت کے اہلکار اس امر کو تسلیم کرتے ہیں کہ سنہ 2013 کے صفائی کرنے والوں سے متعلق ایکٹ پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption یہ کام بھارت میں عموماً نچلی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کرتے ہیں۔ جنھیں دلت یا اچھوت کہا جاتا ہے

ممبئی میں صفائی کرنے والوں کے حقوق کی ایک تنظیم کے جنرل سیکریٹری ملند رنادے نے بی بی سی کو بتایا: ’میونسپل کونسل ہاتھ سے صفائی کرنے والوں کی تعریف کی تشریح کے ساتھ کھیلتی ہے۔‘

ملند رنادے کہتے ہیں کہ تعریف کے مطابق ہاتھ سے صفائی کرنے والے انسانی فضلہ اور گندگی اپنے ہاتھوں سے اٹھاتے ہیں۔ اور کونسلیں اس کا استعمال ٹیکنیلٹی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’ملازمین گندگی یا پاخانہ اٹھانے کے لیے ہاتھ کا استعمال نہیں کرتے ، وہ جھاڑو اور بیلچے کا استعمال کرتے ہیں۔ کچھ ایسی گلیاں بھی ہیں جہاں گندگی پھیلی ہوتی ہے اور ملازمین کو اسے صاف کرنا ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی لحاظ سے مضر ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ اسی انداز بھی وہ اس کام کو قانونی حیثیت دیتے ہیں۔

اگست 2014 میں انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ’اس بات یقینی بنائے کہ مقامی اہلکار اس امتیازی سلوک پر پابندی سے متعلق قوانین پر عمل درآمد کریں۔‘

کئی لحاظ سے سنیل یادو کا جنم ایک صفائی کرنے والا بننے کے لیے ہوا تھا۔ انھوں نے یہ پیشہ اپنے والد سے وراثت میں حاصل کیا تھا جیسا کہ دلت کمیونٹی میں ایسا معمول ہے۔

بہت سارے ملازمین جو تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں وہ صفائی کا کام کرنے پر مجبور ہی رہتے ہیں کیونکہ انھیں کوئی اور کام کرنے نہیں دیا جاتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بی بی سی سے بات کرنے والے تمام ملازمین کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ڈگریوں کے باجود کسی بہتر ملازمت کا حصول مشکل ہے

سنہ 2014 میں سنیل یادو نے لیبر ویلفیئر آفیسر کی ملازمت کے لیے درخواست دی، لیکن انھیں تکنیکی بنیادوں پر رد کر دیا گیا۔ وہ کہتے ہیں:’میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ وہ ہمیں ان ملازمتوں پر ترقی نہیں دیتے جن کے ہم حقدار ہیں۔‘

سنہ 2013 میں میونسپل سنگھ (یونین) کے 11 ملازمین نے انڈسٹریل لیبر کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کی تھی جس میں انھوں نے سوال کیا تھا کہ انھیں ان ملازمت کے ترقی کے لیے شمار کیوں نہیں کیا جاتا؟ پٹیشن میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ ان کی بجائے دیگر شعبوں کے افراد کو یہ موقع دیا جاتا ہے۔ یہ مقدمہ تاحال زیرالتوا ہے۔

41 سالہ پرومود جادھو بھی میونسپلٹی میں خاکروب کے طور پر منسلک ہیں، انھوں نے دو سال قبل سیاسیات میں ڈگری حاصل کی تھی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: ’میں نے اعلیٰ عہدوں کے لیے درخواست دینے کی کوشش کی لیکن مجھے کوئی امید نہیں ہے۔ دراصل اصول کے مطابق وہ ملازمین جو پوسٹ گریجویشن مکمل کرتے ہیں ان کی تنخواہ میں اضافہ ہوتا ہے۔ میرے سینیئر نے مجھے جواب میں لکھا کہ چوتھے درجے کے ملازمین کی تنخواہ میں اضافہ ٹھیک نہیں ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’میرے شناختی کارڈ اور تنخواہ کی سلپ پر صفائی کرنے والے والا درج ہونا استحصال کا آغاز ہے۔ یہ ذات پات کی انتہا ہے۔ انتظامیہ ہمیں گدھ جیسا سمجھتی ہے، جو قدرتی طور پر صفائی کا کام کرتے ہیں۔‘

دوسری جانب میونسپلٹی نے تعصب کی موجودگی کو رد کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ sumedh sawant
Image caption سنیل یادو کا تعلق بھی دلت گھرانے سے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ دلتوں کے حقوق کے علم بردار بی آر امبیڈکر سے متاثر ہیں

ڈپٹی میونپلسٹی کمشنر پرکاش پاٹل نے بی بی سی کو بتایا: ’وہ ملازمت حاصل کرنے اصول و ضوابط کے مطابق عہدوں پر ترقی پاتے ہیں۔ اس میں تعصب کی کوئی بات نہیں ہے۔‘

بی بی سی سے بات کرنے والے تمام ملازمین کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ڈگریوں کے باجود کوئی بہتر ملازمت کا حصول مشکل ہے۔

دنیا کے ایک شہر میں جہاں زمین کی قیمت انتہائی زیادہ ہے، وہاں حکومت کی جانب سے رہائش مہیا ہونا ایسا امر ہے جس کی وجہ سے بیشتر ملازمین اس پیشے سے منسلک رہنا بھی ایک جواز ہے۔

ملازمین کی یونین کے صدر، سنیل چوہان کہتے ہیں: ’ہمارے بہت سارے ملازمین یہ پیشہ چھوڑنا نہیں چاہتے کیونکہ انھیں ڈر ہے کہ وہ سرکاری رہائش بھی کھو دیں گے۔ ہمارے 6000 ملازمین میونسپل کوارٹروں میں رہتے ہیں۔‘

تاہم دلت دانشور اور سیاسی تجزیہ نگار چندر بھن پرساد کہتے ہیں: ’پیشہ ذات پات کے نظام کا مرکز ہے۔ اگر وہ بلدیہ میں کام کرتے رہتے ہیں تو اس سے وہ غلامی کو بڑھاوا دے رہے ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ ذات پات پیشے سے الگ کریں۔ صرف اسی صورت میں نظام میں فرق پڑے گا۔‘

اسی بارے میں