صوبہ سعرد میں بم حملے میں آٹھ ترک فوجی ہلاک

صوبہ سعرد بم حملہ تصویر کے کاپی رائٹ hurriyet.com.tr
Image caption صوبہ سعرد ملک کے جنوب مشرق میں واقع ہے

ترکی کے جنوب مشرقی صوبے سعرد میں ہونے والے ایک بم حملے میں آٹھ فوجی ہلاک ہوگئے ہیں۔

حملے کی ذمہ داری کرد شدت پسند تنظیم پی کے کے پر عائد کی جا رہی ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب دو برس سے جاری جنگ بندی ناکام ہوچکی ہے۔

ادھر سکیورٹی حکام نے استنبول کی پہچان ڈولمبھاچے پیلیس کے باہر فائرنگ کے بعد دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ ڈولمبھاچے پیلیس میں ترک وزیراعظم کے دفاتر واقع ہیں۔

ایک چشم دید گواہ نے بی بی سی کو بتایا کہ اس نے پہلے ایک دھماکے کی آواز سنی جس کے بعد گولیاں چلنے کی آواز آئی۔

اس واقعے میں کسی کے زخمی یا ہلاک ہونے کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ وزیراعظم احمد داؤد اوغلو انقرہ میں ہیں۔

یہ محل انیسویں اور بیسویں صدی کے دوران سلطنت عثمانیہ کا انتظامی مرکز رہا ہے۔

جنوری میں محل کے محافظوں پر حملے کے شبہ میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جس کا تعلق کالعدم گروہ ڈی ایچ کے پی-سی (DHKP-C) سے تھا۔

اسی بارے میں