خواتین کو دولت اسلامیہ میں دلچسپی کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP

وائٹ ہال کے حکام نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حالیہ اعلانات کے برعکس، شام جا کر دولت اسلامیہ کے نظامِ حکومت میں رہنے کی خواہش میں ہجرت کرنے والے برطانوی شہریوں کی تعداد دوسال قبل ہی بڑھنی شروع ہوگئی تھی۔

لیکن اس انتہا پسند تنظیم میں شامل ہونے کے لیے ہجرت کرنے والوں میں خواتین کا تناسب حیرت انگیز حد تک بڑھ گیا ہے۔ آخر اس سب کے پیچھے کیا کہانی ہے اور وہ حکمت عملی دراصل ہے کیا جو خواتین کو دولت اسلامیہ کی صفوں میں شمولیت کی طرف مائل کرتی ہے؟

پڑھیے بی بی سی کے سکیورٹی کے نام نگار فرینک گارڈنر کی رپورٹ۔

اپنے آپ کو دولت اسلامیہ (یا داعش) کہلوانے والی تنظیم خواتین کے بارے میں دہرا معیار رکھتی ہے۔

ایک طرف تو وہ خواتین کو انتہائی کمتر انسان کا درجہ دیتے ہیں جنھیں وہ اپنے جنگجوؤں کو لڑائی کے بدلے انعام میں دینے والی کسی شے سے کم نہیں سمجھتے۔

عراق کے شہر موصل میں جنسی غلاموں کے ایک بازار سے حاصل ہونے والی فوٹیج انتہائی چونکا دینے والی ہے جس میں دولت اسلامیہ کے جنگجو پچھلے سال اغوا کی جانے والی یزیدی لڑکیوں کے دام طے کر رہے ہیں۔ ان میں بہت سی نو عمر بچیاں بھی شامل ہیں۔

کم از کم دو ہزار یزیدی لڑکیاں اب بھی ان کی قید میں ہیں، گو کہ کچھ بھاگ نکلنے میں کامیاب بھی ہوئی ہیں۔

حال ہی میں بھاگنے والی ایک لڑکی نے بتایا کہ ’وہ ہمیں بیچنے کے لیے بازار لے جاتے تھے جہاں جنگجوؤں کے مختلف گروہ ہمیں خریدنے آتے تھے۔ اور ان پر ہمارے رونے دھونے اور معافی کی درخواست کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔‘

لیکن دوسری طرف دولت اسلامیہ ان مسلمان خواتین کے لیے ایسے منصوبے وضع کرتی ہے جوان کی نام نہاد خلافت میں کردار ادا کرنے کی خاطر اپنا وطن چھوڑ آئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

لندن کے کنگز کالج میں اسلامی علوم کی ماہر ڈاکٹر کیتھرین براؤن کہتی ہیں کہ ’وہ چاہتے ہیں کہ خواتین ان کے گروہ میں شامل ہوں۔ وہ خواتین کو اپنی اس نئی مملکت میں ایک بنیادی ضرورت کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

’یہ بات واقعی دلچسپ ہے کہ لوگ دولت اسلامیہ کو موت کے گروہ کے طور پر جانتے ہیں لیکن دوسری طرف یہ اپنا ایک اور رخ دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ ایک نئی ریاست بنانا چاہتے ہیں اور ان کی شدید خواہش ہے کہ خواتین ان کی خیالی سیاست کا حصہ بننے کے لیے ان کے ساتھ شامل ہوں۔‘

’تکلیف دہ زندگی‘

دولت اسلامیہ نے اس سال فروری میں عربی زبان میں ایک دستاویز جاری کی ہے جس میں ان کی نئی ریاست کے ضابطے 14 سو سال پہلے کی اسلامی خلافت سے مطابقت رکھتے ہیں۔

اس دستاویز کے مطابق ان کی مخاطب بنیادی طور پر خلیجی ممالک اور مشرق وسطیٰ کی عرب خواتین ہیں۔ اس میں کچھ ایسے حصے بھی شامل ہیں جو مغرب میں بہت سے لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔

اس دستاویز کے مطابق ’نو سال کی بچی کی شادی قانوناً جائز ہے۔ زیادہ تر لڑکیوں کی شادی 16 یا 17 سال کی عمر میں کر دی جائے گی جب وہ زیادہ جوان اور فعال ہوتی ہیں۔‘

ایمن دین جو القاعدہ کے سابق رکن ہیں، اس جنگجوانہ ذہنیت پر ایک گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ خواتین کے متعلق دولت اسلامیہ کا نقطۂ نظر القاعدہ اور طالبان سے بہت مختلف ہے۔

’القاعدہ کے برعکس دولت اسلامیہ ایک ایسا مستقل معاشرہ قائم کرنا چاہتی ہے جس کی جڑیں گہری ہوں۔ اپنی ریاست کی آبادی بڑھانے کے لیے وہ صرف یورپ اور امریکہ ہی سے نہیں، بلکہ وسطی ایشیا سمیت پوری اسلامی دنیا سے خاندانوں کو لے کر آ رہے ہیں۔‘

لوگوں کو نوکری دینے کے لیے مستقل مختلف زبانوں میں آن لائن پیغامات بھی دیے جا رہے ہیں جن میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ وہ مغرب میں اپنی محفوظ مگر تصادم زدہ زندگی کو چھوڑ کر دولت اسلامیہ کی خلافت میں آ جائیں۔

زیادہ تر لوگوں نے ان پیغامات کو نظر انداز کیا ہے، مگر خواتین کی بڑھتی ہوئی تعداد ان سے متاثر ہوتی نظر آتی ہے۔

مثال کے طور پر مشرقی لندن کے علاقے بیتھنل گرین کی خواتین ان جنگجوؤں سے شادی کی خواہش مند تھیں اور ان کے خیال میں وہ ان کو معاشرے میں ایک بہتر رتبہ دے سکتے تھے۔

ایمن دین کہتے ہیں کہ ’اس میں رومانس کا عنصر بھی شامل ہے، جس کا انجام عام طور دردناک ہوتا ہے۔

’کسی مرد کے جنگجو بننے کے بعد اس کی زندگی کی ضمانت ایک یا دو مہینے کی ہوتی ہے۔ تواس عورت کا کیا ہو گا جس نے اس جنگجو سے شادی کی ہے؟ وہ مرجائے گا اور وہ عورت اپنی عدت پوری کرنے کے لیے چار مہینے دس دن کے سوگ میں چلی جائے گی۔ اور اگر وہ حاملہ ہے تو عدت اس سے بھی لمبی ہوگی۔ اس کے بعد وہ پھر کسی اور جنگجو سے شادی کرتی ہے اوروہ بھی مر جاتا ہے تو اس کو دوبارہ اس عمل سے گزرنا پڑے گا یعنی پھر اگلے چار مہینے کا سوگ۔

’یہ خوش گوار نہیں بلکہ ایک تکلیف دہ زندگی ہے۔‘

سوشل میڈیا کا کردار

لیکن طالبان اور القاعدہ کے برعکس، دولت اسلامیہ نے مغرب میں اپنی بہت سی خواتین ملازمین کو سوشل میڈیا پر ایک نمایاں کردار ادا کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

شاید ان میں سب سے مشہور گلاسگو سے بھاگی ہوئی 20 سالہ اقصیٰ محمود ہیں جو اپنے آپ کو ’ام لید‘ کہتی ہیں۔

وہ برطانیہ میں ان خواتین کو مشورے دینے کی وجہ سے مشہور ہیں جو برطانیہ میں اپنے خاندان کو کسی بھی چھوٹی یا بڑی وجہ سے چھوڑنا چاہتی ہیں۔

ناروے سے تعلق رکھنے والے مارخ علی جو اوکسفرڈ یونیورسٹی میں ’دولت اسلامیہ میں خواتین‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ رہے ہیں، یقین رکھتے ہیں کہ خواتین کو سوشل میڈیا پر نمایاں مقام دینے کی حکمت عملی بہت سوچ سمجھ کر اختیار کی گئی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’طالبان اور القاعدہ کے مقابلے میں دولت اسلامیہ خواتین کو زیادہ فعال طریقے سے استعمال کرتی ہے۔‘

’ٹوئٹر پر دولت اسلامیہ کے حق میں روزانہ دس ہزار ٹوئیٹس ہوتی ہیں جن میں بظاہر زیادہ تر مغربی ممالک میں دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے والی خواتین کی جانب سے ہوتی ہیں۔‘

محققین کا خیال ہے کہ وہ خواتین جو ترکی کی سرحد کی دوسری جانب دولت اسلامیہ کے زیر تسلط علاقے میں رہ رہی ہیں، وہ اپنے تفویض کردہ کردار سے جلد ہی مایوس ہو جاتی ہیں۔

غیر شادی شدی خواتین کو ایک محفوظ گھر میں عام طور پر ان لوگوں کے ساتھ ہی رکھا جاتا ہے جو انہی کی زبان بولتے ہیں۔ وہاں ان کو مذہبی تعلیم دی جاتی ہے اور عربی زبان سکھائی جاتی ہے۔ اس دوران ان کے لیے جلد سے جلد شوہر بھی تلاش کیا جاتا ہے۔

وہاں جا کر ان کا جنگ میں حصہ لینے اور فرنٹ لائن پر کھڑے ہو کر کلاشنکوف چلانے کا خواب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے۔ لیکن ان میں سے کچھ خواتین پر مشتمل ایک چوکس دستے ’خانسا بریگیڈ‘ میں شمولیت اختیار کرتی ہیں، جس کا کام رقہ اور موصل کے شہروں میں گشت کرنا اور اسلامی قوانین کی سختی سے پابندی کروانا ہے۔

ڈاکٹر کیتھرین براؤن کہتی ہیں کہ ’یہ خواتین دوسری خواتین کو اسلامی لباس نہ پہننے پر پیٹنے اور کوڑے لگانے جیسی سزائیں دینے کے لیے مشہور ہیں۔‘

کیتھرین کہتی ہیں کہ ’ان کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ وہ عوامی مقامات پر دودھ پلانے والی عورتوں کے سینوں کو جانوروں کو قابو کرنے والے شکنجوں میں جکڑ دیتی ہیں۔‘

دولت اسلامیہ کے مظالم اور چونکا دینے والے اعمال دنیا بھر میں ان کی ذلت و رسوائی کا سبب بن رہے ہیں، لیکن پریشان کن حقیقت یہ ہے کہ ان کی نام نہاد خلافت ابھی ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔

میں نے سابق جنگجو ایمن دین سے پوچھا کہ کیا اب دولت اسلامیہ خواتین کو اپنی بقا کے لیے ضروری سمجھتی ہے؟

’بالکل، اس کے بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے۔ وہ ان کے معاشرے کا نصف حصہ ہیں۔ وہ مختلف شعبوں جیسے صحت، تعلیم، حتیٰ کہ ٹیکس کی وصولی جیسے شعبوں میں بھی میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ اس لیے وہ دولت اسلامیہ کی بقا کے لیے بہت ضروری ہیں۔‘

اسی بارے میں