پاک بھارت تعلقات: اوفا کے بعد اب دہلی کا سفر

تصویر کے کاپی رائٹ PID
Image caption دونوں ممالک کے رہنماؤں کی گذشتہ ماہ اوفا میں ملاقات ہوئی

ماضی کو دیکھتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری کی کوششوں کا عمومی پیٹرن یہی رہا ہے کہ دونوں جانب سے پیش آنے والے واقعات کے بعد الزام تراشیوں سے تعلقات کو کشیدگی کی جانب لے جایا جائے اور پھر اس میں کمی کی کوششیں کی جائیں، لیکن ان کو ٹھوس تعلقات میں بدلنے میں کوئی غیر معمولی اقدام اٹھانے سے’گریز‘ ہی کیا جائے۔

اب بھارت اور پاکستان کے درمیان سلامتی امور کے اعلیٰ سطح کے مذاکرات کے لیے پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز بھارت کا دورہ کر رہے ہیں لیکن اس وقت بھی دونوں جانب سے الزام تراشیوں کا سلسلہ جاری ہے اور سرحدوں پر کئی ماہ سے کشیدگی جاری ہے۔

پاک بھارت تعلقات کے نشیب و فراز

دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی ملاقات سے پہلے ہونے والے واقعات میں سے چند کا احوال

مئی 2013 میں دہلی میں دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کے درمیان ملاقات میں تعلقات کو معمول پر لانے پر بات ہوئی اور اس کے 14 ماہ بعد روسی شہر اوفا میں ملاقات میں پھر اسی نکتے پر اتفاق کرتے ہوئے دونوں ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کی دہلی میں ملاقات کرانے کا فیصلہ کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بھارت نے الزام عائد کیا کہ گورداس پور میں حملہ آور پاکستان سے آئے تھے

لیکن اوفا میں کیے گئے فیصلے کو عملی جامہ پہنانے میں تقریباً ڈیڑھ ماہ کا عرصہ لگا اور اس دوران پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے یہ ملاقات بھی کٹھائی میں پڑتی دکھائی دی۔

اس ملاقات کے بعد پاکستانی وزیراعظم کو وطن واپسی پر یہ کہہ کر خاصی تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ ملاقات میں کشمیر کے تنازعے کی بات نہیں کی گئی اور اسی وجہ سے دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میں عید ملن پارٹی میں کشمیری حریت کانفرنس کے نمایاں رہنماؤں نے شرکت سے انکار کر دیا۔

پاکستان میں کشمیر کو مسئلے کو نہ اٹھانے پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے اوفا ملاقات کے تیسرے ہی دن وزیر اعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیر سینیٹر سرتاج عزیز نے بیان دیا کہ اس ملاقات میں بھی کشمیر کا معاملے پر بات ہوئی اور بھارتی قیادت پر واضح کیا گیا ہے کہ کشمیر پر بات کیے بغیر بھارت کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔

اوفا میں ملاقات سے پہلے دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کے درمیان ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول پر دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ جاری تھا اور اس میں ملاقات کے بعد کچھ کمی آئی لیکن تھوڑے ہی دن بعد دوبارہ فائرنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا جس میں جہاں عام شہری مارے گئے وہیں پاکستان کی جانب سے اپنی حدود میں بغیر پائلٹ کے بھارتی جاسوس طیارے کو مار گرانے کا دعویٰ کیا گیا۔

19 جولائی کو پاکستان نے بیان دیا کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کر کے اوفا سمجھوتے کی خلاف ورزی کی ہے۔

اس دوران 22 جولائی کو وزیراعظم نواز شریف نے اپنے بھارتی ہم منصب کو آموں کا تحفہ بھیجا اور 27 جولائی کو پاکستان کی سرحد سے متصل بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع گورداس پور میں تھانے پر حملہ ہوا جس میں تین حملہ آوروں سمیت دس افراد مارے گئے۔

اس واقعے کے دو دن بعدبھارت نے الزام عائد کیا کہ گورداس پور تھانے پر حملہ کرنے والے شدت پسند سرحد پار پاکستان سے آئے تھے جبکہ پاکستان نے اس الزام کو بےبنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے الزامات خطے کی سلامتی کے لیے خطرناک ہیں۔

سرحدوں پر فائرنگ جاری کشیدگی کے دوران 31 جولائی کو وزیراعظم کے قومی سلامتی اور خارجہ امور کے خصوصی مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی ملک میں مداخلت کے معاملے کو اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر اٹھانے پر غور کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں ممالک کی سکیورٹی فورسز کی لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر جھڑپیں بھی جاری رہیں

پاکستانی کے اعلیٰ سفارتی اہلکار کی جانب اس بیان کے دو دن بعد بھارت نے بھارت نے پاکستان کو رواں ماہ کے آخر میں قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات کی تجویز دی اور 7 اگست کو مشیر خارجہ سرتاج عزیز اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تنازعات پر نتیجہ خیز مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

م شیر خارجہ کے اس بیان سے ایک دن پہلے ہی چھ اگست کو بھارت کی جانب سے الزام عائد کیا گیا کہ جموں خطے کے ضلع ادھم پور میں بارڈر سکیورٹی فورس کی ایک بس پر فائرنگ کرنے والے شدت پسندوں کا تعلق پاکستان ہے۔ پاکستان نے اس الزام کی سختی سی تردید کی۔

19 اگست کو جہاں پاکستان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرنے پر بھارت سے احتجاج کیا، وہیں تعلقات بہتر کی بجائے خراب زیادہ خراب ہونے پر اسی دن اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اور بھارت کی سرحدی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے کہا ہے کہ وہ ’انتہائی ضبط‘ کا مظاہرہ کریں۔

اب دونوں ممالک کے سکیورٹی مشیروں کی 23-24 اگست کو دہلی میں ملاقات سے پہلے پاکستانی ہائی کمیشن نے دہلی میں ایک استقبالیے میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہنماؤں کو مدعو کیا ہے اور اس کے جواب میں بھارتی حکام نے علیحدگی پسند کشمیری رہنما سید علی گیلانی کو نظر بند کر دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کٹھمنڈو میں ملاقات نہیں ہوئی، صرف مصافحہ ہوا

اس پر پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی کے الزامات کے بجائے تعاون پر زور دے اور وہ کشمیری رہنماؤں کو پاکستان کے مشیر برائے خارجہ اور سلامتی سرتاج عزیز سے ملاقات کرنے کی اجازت دے۔

ان حالات میں دونوں ممالک کے حکام کے بعد دہلی میں ملاقات ہو رہی ہے اور موجودہ زمینی صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس ملاقات میں شاید کسی بریک تھرو کے امکان کم ہیں۔

اس سے پہلے ماضی میں ایسے کئی مواقع آئے جب دونوں ہسمایوں نے اپنے رشتوں کو مضبوط کرنے کے عہد کیے لیکن یہ کبھی وفا نہیں ہو سکے۔ ان میں پہلے کشمیر کے تنازعے کی وجہ سے معاملات خراب ہونے کا تاثر ملتا تھا پھر بات دہشت گردی کے مسئلے پر آ کر رک جاتی۔

دونوں ممالک کے تعلقات کے تناظر میں اوفا میں نواز مودی ملاقات سے پہلے رونما ہونے والے واقعات کے لیے یہاں کک کریں۔

اسی بارے میں