’مذاکرات سے قبل پیشگی شرائط پر شدید مایوس ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ MEA
Image caption پاکستان کا علیحدگی پسند رہنماؤں کو بات چیت سے پہلے ملنے کا فیصلہ اکسانے والا ہے:وکاس سوروپ

پاکستان نے پاک بھارت قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات سے قبل بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو مایوس کن قرار دیا ہے۔

پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہے کہ ’ ہم بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کی جانب سے پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان سرکاری سطح پر ہونے والے مذاکرات سے قبل پیشگی شرائط کے بیان پر شدید مایوس ہیں۔‘

پاکستان نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ اس کی جانب سے مذاکرات سے قبل کوئی شرائط رکھی گئی ہیں۔

خیال رہے کہ اتوار کو پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز اور ان کے بھارتی ہم منصب اجیت ڈوال کے درمیان بات چیت شروع ہونی ہے۔

پاکستان نے کہا ہے کہ یہ دوسرا موقع ہے جب بھارت غیر سنجیدہ بہانے کر کے جامع مذاکرات کے باہمی فیصلے سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔

اس سے قبل بھارتی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے اپنے مصدقہ ٹوئٹر ہینڈل پر یہ خبر دی تھی کہ پاکستان کی جانب سے کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے کی بھارتی تجویز مستردکیے جانے کے بعد بھارت نے 23 اگست کو نئی دہلی میں ہونے والی بات چیت منسوخ کر دی ہے۔

تاہم بعد ازاں بھارتی وزارتِ خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے بی بی سی ہندی کے فیصل محمد علی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان ہونے والی بات چیت منسوخ نہیں کی گئی ہے اور بھارت اب بھی مذاکرات کو آگے لے جانا چاہتا ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ بات چیت شرطیں رکھ کر نہیں ہو سکتی۔

پی ٹی آئی نے اپنی ٹویٹ حذف کر دی تاہم بھارتی دفتر خارجہ کے حوالے سے یہ بیان خبر رساں ادارے کی ٹوئٹر فیڈ پر موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے عائد کی جانے والی شرائط کی بنیاد پر بات آگے نہیں بڑھائی جا سکتی۔

بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان کا حریت رہنماؤں سے ملنے کا فیصلہ اشتعال انگیز ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک پریس کانفرنس میں کہا، ’پاکستان کا علیحدگی پسند رہنماؤں کو بات چیت سے پہلے ملنے کا فیصلہ شر انگیز ہے۔‘

دوسری جانب پاکستانی وزارتِ خارجہ نے کہا ہے کہ حریت رہنماؤوں سے ملاقات کئی سالوں سے ہوتی چلی آرہی ہے اور اس عمل کو چھوڑ دینے کی کوئی وجہ دکھائی نہیں دیتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

دفتر خارجہ نے کہا کہ حریت رہنما مقبوضہ کشمیر کے حقیقی نمائندے ہیں۔

جمعے کو بھارت نے پاکستان کو تجویز دی کہ اس کے قومی سلامتی کے مشیر نئی دہلی میں موجودگی کے دوران حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملاقات نہ کریں لیکن پاکستان نے اس تجویز کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے بھارت کو قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان آئندہ ہفتے ہونے والی ملاقات کے لیے ایک جامع ایجنڈا بھی تجویز کیا ہے جس میں کشمیر اور دہشت گردی سمیت متعدد امور پر بات چیت شامل ہے۔

پاکستان نے دفترِخارجہ نے بیان میں ورکنگ باؤنڈری اور لائن آف کنٹرول کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے اس ضررت پر زور دیا کہ دونوں ملکوں کو مسائل کے حل کے لیے مخلصانہ اور سنجیدہ انداز میں مذاکرات کرنے چاہیے۔

اسی بارے میں