’علیحدگی پسندوں سے نہ ملنے کی بھارتی تجویز قبول نہیں‘

Image caption سرتاج عزیز 23 اگست کو نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات کریں گے

پاکستان نے بھارت کی جانب سے قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان نئی دہلی میں مذاکرات کے موقع پر سرتاج عزیز کی کشمیر کے علیحدگی پسند رہنماؤں سے ملاقات نہ کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے۔

دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کو قومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان آئندہ ہفتے ہونے والی ملاقات کے لیے ایک جامع ایجنڈا بھی تجویز کیا ہے جس میں کشمیر اور دہشت گردی سمیت متعدد امور پر بات چیت شامل ہے۔

اوفا کے بعد دہلی کا سفر

پاکستانی ہائی کمیشن کی دعوت، علی گیلانی کی ’نظربندی‘ برقرار

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ اس کے قومی سلامتی کے مشیر نئی دہلی میں موجودگی کے دوران حریت کانفرنس کے رہنماؤں سے ملاقات نہ کریں۔

تاہم پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس بارے میں بھارتی ہائی کمشنر کو مطلع کر دیا گیا ہے کہ پاکستان کو یہ تجویز قبول نہیں۔

یہ فیصلہ آج صبح وزیراعظم کی صدارت میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے علاوہ کابینہ کے بعض ارکان نے بھی شرکت کی۔

اسی اجلاس میں موجود وزیر اطلاعات پرویز رشید نے بعد ازاں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کو یہ بتانے کا حق نہیں رکھتا کہ وہ کس کی میزبانی کر سکتا ہے اور کس کی نہیں۔

’بھارت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ہمیں بتائے کہ ہمیں اپنا مہمان کسے بنانا ہے اور کسے نہیں۔ ہم کس سے ملتے ہیں اور کس کی دعوت کرتے ہیں یہ فیصلہ کرنا ہمارا حق ہے۔‘

پرویز رشید نے کہا کہ بھارت کا یہ اصرار کہ کشمیری رہنماؤں سے ملاقات کی صورت میں وہ پاکستان سے مذاکرات ہی نہیں کرے گا، اس کی مذاکرات میں عدم دلچسپی کا ثبوت ہے۔

’یہ تو کوئی بات نہیں کہ بھارت یہ اصرار کرے کہ اگر ہم کشمیریوں سے ملیں گے تو وہ مذاکرات ہی نہیں کرے گا۔ ساری دنیا اس بھارتی طرز عمل کو دیکھ رہی ہے جس سے اس کی مذاکرات میں عدم سنجیدگی ثابت ہو رہی ہے۔‘

وزیر اطلاعات نے کہا کہ کشمیری رہنماؤں کو ایک دعوت میں پاکستانی سفارتخانے جانے کی اجازت نہ دینا کشمیریوں کے بنیادی حقوق صلب کرنے کے مترادف ہے۔

پاکستان اور بھارت کےقومی سلامتی کے مشیروں کے درمیان ملاقات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دینے کے لیے پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت کا اہم اجلاس جمعے کی صبح اسلام آباد میں ہوا۔

اس اجلاس میں بری فوج کے سربراہ راحیل شریف اور قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز کے علاوہ وفاقی کابینہ کے متعدد ارکان نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں پاکستان کی اعلیٰ سول اور فوجی قیادت نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر کی بھارتی ہم منصب سے ہونے والی ملاقات میں کشمیر کا مسئلہ اور پاکستان کے اندر دہشت گردی میں بھارت کے مبینہ کردار کے معاملات اٹھائے جائیں گے۔

پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں میں یہ ملاقات اتوار کے روز نئی دہلی میں متوقع ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعے کی صبح ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت پاکستان کی جانب سے اس ملاقات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دیے جانے کا منتظر ہے۔

اسی ایجنڈے کے بارے میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم کے خارجہ امور پر مشیر طارق فاطمی نے شرکا کو بریفنگ دی اور بتایا کہ کشمیر اور پاکستان میں دہشت گردی کے معاملے کو اس ملاقات کے ایجنڈے میں شامل نہ کرنے کے کیا نتائج ہو سکتے ہیں۔

وزیراعظم کے ایک ترجمان نے بتایا کہ اس اجلاس میں داخلی سلامتی سے متعلق امور بھی زیر بحث آئے اور اجلاس میں قومی ایکشن پلان پر عمل کا بھی جائزہ لیا۔

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس کے بعد طارق فاطمی کی زیر صدارت پاکستانی دفتر خارجہ میں بھی ایک اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم کی ہدایات کی روشنی میں بھارتی تجاویز پر باضابطہ ردعمل تیار کیا گیا

دفترِ خارجہ نے اس سلسلے میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق متنازع علاقہ ہے اور پاکستانی قیادت ہمیشہ سے بھارت کے دورے کے دوران کشمیری اور حریت قیادت سے رابطے میں رہی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ پاکستان اس روایت سے انحراف کرے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت کا بات چیت کے ایجنڈے کو محدود کرنے پر اصرار اور شرائط لگانا اس بات کا مظہر ہے کہ وہ پاکستان سے بامعنی روابط کے سلسلے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعے کی صبح ایک بیان میں کہا تھا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان کو بتایا گیا ہے کہ قومی سلامتی کے مشیروں کی بات چیت سے قبل استقبالیہ میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے رہنماؤں کو مدعو کرنا مناسب نہیں ہے۔

اسی بارے میں