چار سال بعد تہران میں پھر سے برطانوی سفارت خانہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 2011 میں ایران پر برطانیہ کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے کی وجہ سے برطانوی سفارت خانے کو بند کر دیا گیا تھا

برطانیہ نے چار سال بعد پھر سے ایران میں اپنے سفارت خانہ کھول دیا ہے۔

وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ تاجروں کے ایک وفد کے ساتھ سفارت خانہ کھولنے کی تقریب کے موقعے پر تہران پہنچ چکے ہیں۔

خیال رہے کہ سنہ 2011 میں ایران پر برطانیہ کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے کی وجہ سے برطانوی سفارت خانے پر مظاہرین نے حملہ کردیا تھا۔ جس کے بعد سفارتخانے کو بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم برطانوی حکومت نے گذشتہ برس یہ اشارہ دیا تھا کہ اس کا منصوبہ ہے کہ تہران میں برطانوی سفارت خانہ پھر سے کھول دیا جائے۔

مسٹر ہیمنڈ سنہ 2003 کے بعد سے ایران کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیر خارجہ ہیں۔

چھ عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری پروگرام پر تہران کے معاہدے کے چند ہفتوں بعد برطانوی وفد ایران پہنچا ہے۔

سفارت خانہ کھولنے کی خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ اگرچہ برطانیہ اور ایران ہر موقعے پر ایک دوسرے سے اتفاق نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک جو کچھ مل کر کر سکتے ہیں اس کی کوئی حد نہیں۔

اس خصوصی تقریب میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے افسران کے علاوہ تہران میں موجود کئی ممالک کے سفارتکار شرکت کر رہے ہیں۔

ابتدا میں سفارت خانے کی سربراہی اجے شرما کریں گے جو چارج دا افیئر ہوں گے لیکن آنے والے دنوں میں اس سفارت خانے کو معاہدے کے تحت کلی سفارت خانے کی حثیت دی جائے گی اور وہاں سفیر مقرر کیا جائے گا۔

تقریب سے قبل تہران پہنچنے پر مسٹر ہیمنڈ نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ یہ ’سنہ 2003 کے بعد کسی بھی برطانوی وزیر کا پہلا دورۂ ایران ہے۔ یہ برطانیہ اور ایران کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ایک تاریخی لمحہ ہے۔‘

ایران روانگی سے پہلے مسٹر ہیمنڈ کا کہنا تھا کہ جوہری معاہدہ اور حسن روحانی کا جون سنہ 2013 میں صدر بننا اہمیت کا حامل ہے کیونکہ انھوں نے مغربی دنیا سے زیادہ روابط رکھنے کا عہد کر رکھا ہے اور اس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان رشتوں میں بہتری آئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption چار سال بعد تہران میں واقع برطانوی سفارت خانے کو پھر سے کھولا جا رہا ہے

انھوں نے کہا: ’ہمارے سفارت خانے کا دوبارہ کھلنا باہمی رشتے کی بہتری میں اہم قدم ہے۔ سب سے پہلے ہم یہ چاہیں گے کہ جوہری معاہدہ کامیاب ہو اور (ایران پر سے) پابندیاں ہٹنے کے بعد تجارت اور سرمایہ کاری میں فروغ ہو۔‘

انھوں نے کہا: ’برطانیہ اور ایران کو چاہیے کہ دونوں دہشت گردی، علاقائی استحکام اور دولت اسلامیہ کے عراق اور شام میں پھیلاؤ جیسے چیلنجز، انسداد منشیات اور تارکین وطن کے مسائل پر بات چیت کرنے کے لیے تیار رہیں۔‘

مسٹر ہیمنڈ اور وزیر خزانہ ڈیمیئن ہنڈز کے ساتھ ایک تجارتی وفد بھی تہران کا سفر کر رہا ہے تاکہ وہاں مستقبل میں تجارت کے امکانات پر بات چیت کر سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption فلپ ہیمنڈ سنہ 2003 کے بعد سے ایران کا دورہ کرنے والے پہلے برطانوی وزیر خارجہ ہوں گے

خیال رہے کہ سنہ 2011 میں تہران کے جوہری پروگرام کے خلاف ایران پر برطانیہ کی سخت پابندی کی حمایت کے رد عمل میں ایران نے برطانیہ کے سفیر کو نکال دیا تھا۔

اسی ماہ برطانیہ نے بھی رد عمل میں ایران کے سفارت خانے کو بند کر دیا تھا لیکن حسن روحانی کے منتخب ہونے اور ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدے کے بعد وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے گذشتہ سال جون مین وہاں دوبارہ سفارت خانہ کھولنے کی تجویز دی تھی۔

سنہ 2013 میں برطانیہ اور ایران نے سفارتی تعلقات کے لیے اپنے اپنے نمائندوں کو مقرر کیا۔ گذشتہ برس جون میں سابق تکنیکی مسائل کے باعث تہران میں برطانوی سفارتخانے کو کھولنے کی تجویز کو موخر کرنا پڑا تھا۔

سفیر کی عدم موجودگی میں ایران کی جانب سے سفارتخانے میں ضروری سامان کی منتقلی کے سلسلے میں درآمدی قانون میں سہولت دینے میں اجتناب کیا گیا۔

اسی بارے میں