کشمیر میں جھڑپ، ’لشکرِ طیبہ کے تین شدت پسند ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ شدت پسندوں اور فوج کے مابین پرتشدد جھڑپوں اور تصادم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ ضلع کپواڑہ میں سنیچر کی شب کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں تین مبینہ شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ یہ جھڑپ کپواڑہ کے علاقے ہدواڑا کے ایک گاؤں كرمہورا میں ہوئی ہے۔

ان کے مطابق اس لڑائی میں دو بھارتی فوجی زخمی بھی ہوئے ہیں جبکہ امکان ہے کہ ایک شدت پسند اب بھی جائے وقوع پر چھپا ہوا ہے۔

پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مارے جانے والے تمام افراد کا تعلق شدت پسند گروپ لشکر طیبہ سے تھا۔

حالیہ دنوں میں بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مبینہ شدت پسندوں اور فوج کے مابین پرتشدد جھڑپوں اور تصادم کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

رواں ماہ کی پانچ تاریخ کو بھی ضلع اودھم پور کے قریب سرینگر۔جموں شاہراہ پر ہونے والی جھڑپ میں ایک شدت پسند اور دو بھارتی فوجی مارے گئے تھے۔

بھارت کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں کے پیچھے سرحد پار سے آنے والے شدت پسندوں کا ہاتھ ہے۔

کشمیر کے معاملے پر ہی تنازع کے بعد پاکستان اور بھارت کے قومی سلامتی کے مشیروں کی وہ ملاقات بھی منسوخ ہو گئی ہے، جس کے لیے پاکستانی قومی سلامتی کے مشیر سرتاج عزیز اتوار کو دہلی آنا تھا۔

بھارت جہاں اس بات چیت کو صرف ’دہشت گردی پر مرکوز‘ رکھنا چاہتا تھا، وہیں پاکستان کشمیر پر بھی بات چیت کے لیے مُصر تھا۔

اسی بارے میں