چین میں مندی سے عالمی بازارِ حصص منھ کے بل گر پڑے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بازار حصص کے تجزیہ نگار ڈیوڈ میڈن کا کہنا ہے کہ ’اس سے یہ لگ رہا ہے کہ ہم تیزی کے ساتھ نیچے جا رہے ہیں‘

چینی بازار حصص میں شدید مندی کے بعد ملک کی معیشت پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے حصص کی قیمتوں میں کمی واقع ہو رہی ہے۔

چینی معیشت میں اس سست روی نے سرمایہ کاروں کو مسلسل خوفزدہ کر رکھا ہے جس کے باعث لندن، پیرس اور فرینکفرٹ کے بازار حصص میں بھی تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی ہے۔

کے ایس سی کراچی سٹاک ایکسچینج ہنڈرڈ انڈیکس تقریباً چار فیصد گر کر 33100 کی سطح پر آگیا ہے۔ مجموعی طور پر آج مارکیٹ میں 1419 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

سٹاک مارکیٹ میں تاجروں کا کہنا ہے کہ کافی عرصے سے پاکستانی بازارِ حصص میں تیزی کا رجحان تھا اب جبکہ بین الاقوامی بازارِ حصص میں مندی آئی ہے تو اس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے کراچی سٹاک مارکیٹ سے سرمایہ نکالا ہے۔ اس وجہ سے بھی مارکیٹ میں مندی دیکھی جا رہی ہے۔

پیر کی صبح لندن کا ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس 2.6 فی صد کی کم ترین سطح پر تھا جبکہ فرانس اور جرمنی کے بڑے بازار حصص میں تقریباً تین فی صد کمی ہوئی ہے۔

ایشیا کے بازار حصص کو گذشتہ رات نقصان ہوا تھا جب چین میں شنگھائی بازار حصص 8.5 فی صد پر بند ہوا جو 2007 کے بعد سے سب سے بڑی مندی ہے۔

اس سب کے بعد چینی حکام کی جانب سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کرنے کی کوششیں بھی بے سود ثابت ہوئیں۔

دنیا کی دوسری بڑی معیشت میں سست پیداوار کی وجہ سے تاجر پریشان ہیں جس کی باعث تیل کی قیمتیں بھی چھ سالوں کی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔

بازار حصص کے تجزیہ نگار ڈیوڈ میڈن کا کہنا ہے کہ ’اس سے یہ لگ رہا ہے کہ ہم تیزی سے نیچے جا رہے ہیں۔‘

بہت سے سرمایہ کاروں کے خیال میں ایشیا کے بازار حصص میں تیزی سے گراوٹ میں یورپ کے چھوٹے کاروباروں کی وجہ سے زیادہ اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ وہاں بہت سے سرمایہ کار چھٹیوں پر ہیں۔

میڈن نے مزید کہا کہ ’میرے خیال میں آئندہ دنوں میں مزید غیر یقینی صورت حال پیدا ہونے والی ہے۔‘

بیجنگ ایک نئے اقدام کے تحت سرکاری پینشن فنڈ کو سٹاک مارکیٹ میں بطور سرمایہ لگانے سے بھی چینی اور غیر ملکی تاجروں کے خوف کو دور نہ کر سکا۔

گذشتہ ہفتے شنگھائی انڈیکس میں 12 فی صد کی کمی آئی ہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ جون کے وسط سے اب تک کل کمی 30 فیصد ہو چکی ہے۔

تیزی سے کمی کی وجہ سے عالمی سطح پر فروخت کے رجحان میں اضافہ ہو گیا ہے جس میں امریکہ میں ڈاؤ جونز کا چھ فی صد، جبکہ ایف ٹی ایس ای 100 میں رواں سال کے دوران ایک ہفتے میں ہونے والا سب سے بڑا نقصان پانچ فی صد شامل ہے۔

کراچی بازارِ حصص میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’مقامی خریدار ڈرا ہوا ہے اور بیرونی سرمایہ کار روپے کی گرتی قدر کی وجہ سے اپنا سرمایہ نکالے گا‘

کراچی سٹاک ایکسچینج میں میں آج شدید مندی کا رجحان رہا اور کے ایس سی ہنڈریڈ انڈیکس چودہ سو انیس پوائنٹس کی کمی کے بعد تینتیس ہزار ایک سو سترہ پر بند ہوا۔

بی بی سی اردو کے نامہ نگار حسن کاظمی کے مطابق کراچی سٹاک ایکسچینج میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تقریباً چار ہزار پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی ہے اور ماہرین کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو تیس ہزار کا انڈیکس برقرار رکھنا بھی مشکل ثابت ہوگا۔

سرمایہ کاروں کے مطابق کراچی سٹاک مارکیٹ میں مندی کی بڑی وجہ عالمی سطح پر جاری حالیہ کساد بازاری کی لہر ہے جو چین کی جانب سے اپنی کرنسی کی قدر میں کمی کے بعد پیدا ہوئی ہے اور اس کا اثر پوری دنیا میں ہوا ہے۔

اے کے ڈی سیکیورٹیز کے چیئرمین عقیل کریم ڈھیڈی کے مطابق چین کے بعد خطے کے تمام ممالک کی کرنسی کی قدر میں کمی واقع ہوئی ہے جس کے بعد توقع تھی کہ پاکستان کی کی کرنسی کے قدر میں بھی کمی واقع ہوگی۔

دوسرا یہ کہ کافی طویل عرصے کے بعد پاکستان کی مارکیٹ میں بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

ایک اور وجہ پاکستان کی برآمدات میں کمی ہونا بھی ہے اگرچہ تیل کی عالمی منڈیوں میں گرتی قیمتوں کی وجہ سے پاکستان کا درآمدی بِل کم ہوا ہے۔

تاہم عقیل کریم ڈھیڈی کے مطابق مقامی خریدار ڈرا ہوا ہے اور بیرونی سرمایہ کار روپے کی گرتی قدر کی وجہ سے اپنا سرمایہ نکالے گا کیونکہ بیرونی سرمایہ کاری کی بڑی وجہ روپےکی قدر میں استحکام ہی تھا۔

عقیل کریم ڈھیڈی کے مطابق پاکستان میں جاری کئی معاملات سرمایہ کاری کو متاثر کرتے ہیں جیسے بھارت کے ساتھ مزاکرات کا معاملہ دوسرا کراچی آپریشن۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی آپریشن کے دوران گزشتہ چند دنوں میں کچھ کرنسی ڈیلرز کو قانون نافذ کرنے والےاداروں کی جانب سے حراست میں لیا گیا ہے کیونکہ جب انہیں موقع ملتا ہے تو وہ اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اب یہاں کرپشن کو ٹھیک کرنے کے لیے بھی تو کرپشن ہوتی ہے نا!

ان کے مطابق 2008 کی عالمی معاشی صورتِ حال میں اور آج کی صورتِ حال میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔

دوسری جانب معاشی امور کے تجزیہ کارمحمد سہیل کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں بہتری کی امید عالمی معاشی حالات میں بہتری پر منحصر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیر کو انٹر بینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی بھی اس کی ایک وجہ ہے۔

یاد رہے کہ پیر کو پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں 17 ماہ کی بلندترین سطح یعنی ایک سو چار روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی روپے کی قدر گرتی ہے تو سرمایہ کار اپنے حصص فروخت کرتے ہیں

اسی بارے میں