سفارت کاری یا کبڈی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات روزِ اول ہی سے ہی کشیدہ رہے ہیں

1965 کی جنگ کی طرح ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تازہ ترین جھڑپیں ہار جیت کے فیصلے کے بغیر ختم ہوگئیں، نہ پاکستان نے بات ختم کی نہ ہندوستان نےشروع، بس اس نام نہاد ’انگیجمنٹ‘ نےخود بہ خود دم توڑ دیا۔

قتل تو ہوا، لیکن قاتل کوئی نہیں۔

ہندوستانی اخباروں میں ہندوستان جیتا، پاکستانی میڈیا میں پاکستان۔ اس میچ میں نیوٹرل امپائروں کو میدان میں اترنے کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن اگر کبھی قومی سلامتی کے مشیروں کے ان مجوزہ مذاکرات کی تاریخ لکھی جائے گی، تو کچھ سوال ہیں جو ضرور پوچھے جائیں گے۔

سفارت کاری کبڈی میں کیسے تبدیل ہوگئی؟

جب اوفا میں بات چیت دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ ہوا، تو کیا کسی کو یہ یاد نہیں تھا کہ گذشتہ برس بات چیت کا سلسلہ ٹوٹا کیوں تھا؟ کیا دونوں یہ مان کر چل رہے تھے کہ بات چیت والے دن حریت کے رہنماؤں کی کہیں اور دعوت ہو گی؟

پاکستان ہائی کمیشن کی جانب سے انھیں دعوت نامہ جائے گا اور وہ کہیں گے کہ جناب ہمارے محلے میں ایک بچے کا عقیقہ ہے، پڑوس کی بات ہے، اس میں بھی شرکت ضروری ہے، آپ سے پھر کبھی ملاقات ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption نواز شریف اور نریندر مودی نے روس کے شہر اوفا میں بات چیت کرنے کا عہد کیا تھا

تو حکمت عملی کیا تھی؟ اتفاق کس بات پر ہوا تھا؟ اگر یہ سوال زیر غور ہی نہیں آیا تو سفارت کاری کی اس سے بڑی ناکامی اور کیا ہو سکتی ہے؟ اور اگر آیا تھا، تو کیا فیصلہ ہوا تھا؟ اور اگر اتفاق ہوا تھا تو اس سے پیچھے کون ہٹا؟

کشمیر اوفا اعلامیے میں کیوں شامل نہیں تھا؟

ساری دنیا کو معلوم ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ’تمام تصفیہ طلب‘ مسائل کیا ہیں، تو اوفا اعلامیےمیں کیا پردہ داری تھی؟ اس میں لفظ ’کشمیر” کیوں شامل نہیں تھا؟

کیا پاکستانی سفارت کاروں نے کہا تھا کہ سابقہ اعلامیوں میں بہت مرتبہ کشمیر کا ذکر کر کے دیکھ چکے، بات آگے نہیں بڑھتی، کیوں نہ اس مرتبہ ’کی ورڈ‘ کا سرے سے استعمال ہی نہ کیا جائے، ہو سکتا ہے کہ بات چیت زیادہ خوشگوار ماحول میں ہو، موقعے کی نزاکت دیکھتے ہوئے کشمیر کا بھی ذکر کر لیں گے، ورنہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تو دونوں وزرائے اعظم کی ملاقات ہونی ہی ہے، بات وہاں نمٹ جائے گی۔

لیکن جو لوگ سفارت کاری کی باریکیوں کو جانتے ہیں، وہ آپ کو بتائیں گے کہ اس طرح کے اعلامیوں میں ایک ایک لفظ پر لڑائی ہوتی ہے، ہر جملے کو خوردبین کے نیچے پرکھا جاتا ہے، پہلے سے یہ سوچا جاتا ہے کہ اس سے کیا مطلب یا نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے، جو کچھ شامل کیا جاتا ہے وہ بہت سوچ سمجھ کر، اور جو متن میں شامل نہیں کیا جاتا وہ بھی بہت سوچ سمجھ کر۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption مسئلہ یہ ہے کہ سفارت کاری کہاں ختم ہوتی ہے اور کبڈی کہاں شروع، اس کی کوئی لائن آف کنٹرول نہیں ہے

تو پھر کشمیر کا ذکر کیا جلدبازی میں چھوٹ گیا تھا؟ گذشتہ ایک ہفتے میں اس سوال کا جتنا تجزیہ ہوا ہے، ایک پوری کتاب لکھنے کے لیے کافی ہے لیکن ایک سابق ہندوستانی سفارت کار کے مطابق زیادہ امکان یہ ہے کہ ایسا ہندوستان کی درخواست پر کیا گیا ہوگا۔ کشمیر کا ذکر نہ ہو، اور بات چیت کا محور دہشت گردی ہو تو ہندوستان کو مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا جواز مل جاتا ہے۔

لیکن جب ہندوستان میں اس اعلامیے کو ایک بڑی کامیابی اور پاکستان میں کشمیر کے کاز کے ساتھ غداری کے طور پر پیش کیا جانے لگا تو بات بگڑتی چلی گئی۔

جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کبھی کبھی بہت پتے کی بات کہتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے ہی انھوں نے کہہ دیا تھا کہ دونوں ملکوں کی قیادت خود بات چیت کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

جب بات چیت بگڑنے لگی تھی تو کیا نریندر مودی اور نواز شریف کے ٹیلی فون خراب تھے؟ یا فون میں بیلنس نہیں تھا جو ایک دوسرے سے بات نہیں کر پائے؟ دونوں رہنما ایک دوسرے کو رمضان اور عید کی مبارکباد دیتے ہیں، کرکٹ کے میچ سے پہلے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہیں، تو جب نظر آ رہا تھا کہ ملاقات خطرے میں ہے، اور یہ بھی معلوم ہی ہوگا کہ دوبارہ بات چیت شروع کرنا آسان نہیں ہو گا، تو فون اٹھاکر براہ راست بات کیوں نہیں کی؟

مذاکرات ملتوی کیوں نہیں کیے گئے؟ جب تو تو میں میں اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی تو بات چیت فی الحال ملتوی کرنے کا آسان راستہ اختیار کیوں نہیں کیا گیا؟ یہ کہنا کتنا مشکل تھا کہ ایجنڈے پر شدید اختلافات ہیں، لہٰذا بات چیت کچھ وقت کے لیے ملتوی کی جا رہی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو کسی کو یہ فیصلہ نہیں کرنا پڑتا کہ کون ہارا کون جیتا اور نہ بات چیت دوبارہ شروع کرنے کے لیے کسی کو پہل کرنی پڑتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشمیر کا ذکر متن میں شامل نہیں تھا

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سفارت کاری کہاں ختم ہوتی ہے اور کبڈی کہاں شروع، اس کی کوئی لائن آف کنٹرول نہیں ہے، یہ لائن پوری طرح آؤٹ آف کنٹرول ہے، اور اسی لائن کے ارد گرد رہنے والے لوگ شاید تعلقات میں تازہ کشیدگی کا خمیازہ بھی بھگتیں گے۔

اب بات دوبارہ کیسے شروع ہو گی؟ لگتا نہیں کہ اوفا کے بعد کبھی کسی اعلامیے کے متن پر اتفاق ہو سکے گا۔ اور کیا کبھی ایسا ہوگا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت ہونے والی ہو اور پاکستان کے ہائی کمیشن کی جانب سے حریت کے رہنماؤں کو مدعو نہ کیا جائے؟ فی الحال تو ایسا مشکل ہی لگتا ہے۔

کسی ایک کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا ہوگا، یا کم سے کم اس میں نرمی کرنا ہوگی۔ بری خبر یہ ہے کہ دونوں نے کچھ اتنی سخت پوزیشن اختیار کر لی ہے کہ اس کا امکان بھی کم ہی نظر آتا ہے۔

ہمارا مشورہ ہے کہ فی الحال بات چیت صرف سکائپ یا فیس ٹائم پر کی جائے، جب تلخی بڑھنے لگے یا بات میں مزا نہ آرہا ہو تو ’میوٹ‘ کا بٹن دبائیں اور دوسرے کاموں میں لگ جائیں۔

اسی بارے میں