پیاز پر ہنگامہ ہوتا ہے تو آلو پر کیوں نہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption پیاز اگر کچن کے اندر آنسو بہانے پر مجبور کر دیتا ہے تو حکومتوں کے پسینے بھی چھڑا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے

بھارت میں پیاز پر سیاست ہوتی ہے، حکومتیں گر جاتی ہیں اور ذخیرہ اندوزی کے الزام سے گھرے تاجروں اور سیاست دانوں کے گٹھ جوڑ کے باوجود حکومت کچھ نہیں کر پاتی اور تقریباً ہر سال اسی وقت اس دام کے بڑھ جاتے ہیں۔

پیاز ہندوستان کے سب سے سیکولر کھانوں میں سے ایک ہے۔ اس کو ہندو بھی اتنے ہی شوق سے کھاتے ہیں جتنے کہ مسلمان۔ اس کا ذائقہ سبزی خور بھی لیتے ہیں اور گوشت خور بھی۔

پیاز اگر کچن کے اندر آنسو بہانے پر مجبور کر دیتا ہے تو حکومتوں کے پسینے بھی چھڑا دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ایمرجنسی کے بعد جنتا پارٹی کی حکومت پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمت پر قابو نہ پا سکی، جس کا اندرا گاندھی نے خوب فائدہ اٹھایا اور سنہ 1980 میں انتخابات میں کامیابی کے بعد اقتدار دوبارہ حاصل کر لیا۔

بھارتی ریاست مہاراشٹر کے شہر ناسک میں پیاز کے کسانوں کے حقوق کے لیے لڑنے والے کسان کارکن گردھر پاٹل کہتے ہیں کہ آلو 12 ماہ پیدا کیا جاتا ہے۔

قومی باغبانی تحقیق اور ترقی کے ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر آر پی گپتا کہتے ہیں کہ پیاز ایک سیاسی فصل ہے۔ ان کے مطابق سنہ 1977 میں ایک بار اٹل بہاری واجپئی پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمت کے خلاف احتجاج میں اس کی مالا پہن کا پارلیمنٹ گئے تھے، اس کے بعد سے پياز دو تین حکومتیں گرا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کہا جاتا ہے کہ ایمرجنسی کے بعد جنتا پارٹی کی حکومت پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمت پر قابو نہ پا سکی

ڈاکٹر گپتا کہتے ہیں کہ پیاز کی شناخت غریبوں سے ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’آپ نے دیکھا ہوگا کہ دیہی علاقوں میں غریب روٹی اور پیاز کھا کر گزارہ کرتے ہیں۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ پیاز غریبوں کا اناج ہے۔‘

راجیو منيار نوی ممبئی میں پیاز اور آلو کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ وہ پیاز اور آلو کے تجارت کی تنظیم کے اعزازی سیکریٹری ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پیاز کی اہمیت بڑھانے کا ذمہ دار میڈیا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’پیاز کی قیمت بڑھنے پر میڈیا لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا دیتا ہے جس سے عام صارفین زیادہ قیمت پر پیاز خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔‘

راجیو منيار سوال اٹھاتے ہیں: ’اتر پردیش میں آلو کے تاجر فصل برباد ہونے سے پریشان ہیں۔ میڈیا نے اس پر کچھ کیوں نہیں کہا؟‘

پیاز آلو سے کہیں زیادہ حساس ہے، یہ جلد خراب ہو جاتا ہے اور اسے زیادہ وقت تک ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا۔

عام خیال یہ ہے کہ پیاز کی قیمت اسی وقت بڑھتی ہے جب تھوک فروش ذخیرہ اندوزی پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔ لیکن سچ کیا ہے؟

تاجر راجیو منيار کہتے ہیں کہ ذخیرہ اندوزی کا الزام غلط ہے۔ ’پیاز منڈی میں صبح آتا ہے اور شام تک فروخت ہو جاتا ہے۔ آپ گودام دیکھ آئیں۔ وہاں پیاز نہیں ہے۔ ذخیرہ اندوزی ممکن نہیں۔‘ ان کے مطابق حکومت ایسا سوچتی ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy
Image caption پیاز آلو سے کہیں زیادہ حساس ہے، یہ جلد خراب ہو جاتا ہے اور اسے زیادہ وقت تک ذخیرہ نہیں کیا جا سکتا

کسان کارکن گردھر پاٹل کہتے ہیں کہ اس کے ذمہ دار صرف تھوک فروش ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’اگست، ستمبر میں کسانوں کے پاس کوئی كاندا (پیاز) نہیں ہوتا۔ تمام تاجروں کے پاس ہوتا ہے۔ وہ دام طے کرتے ہیں۔ حکومت کا اس پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔‘

گردھر پاٹل مہاراشٹر حکومت کے اتوار کو اٹھائے گئے قدم کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب حکومت نے اپنے افسر گوداموں پر چھاپے مارنے کے لیے ناسک بھیجے تو منڈی میں اچانک پیاز آنے لگے۔ ان کے مطابق پیاز کی قیمتیں بڑھنے کا فائدہ صرف تاجروں کو ہوتا ہے، کسانوں کو نہیں۔

ڈاکٹر گپتا کے مطابق پیداوار کی کمی نہیں ہے۔ ربیع کی فصل کی 30 فیصد پیداوار گوداموں میں رکھی جاتی ہے جسے اگست، ستمبر میں منڈیوں میں لایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق خریف کی فصل ٹھیک نہیں ہوئی ہے جس کا اثر اکتوبر، نومبر میں ہوگا۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے تاجر آہستہ آہستہ پیاز مارکیٹ میں بھیج رہے ہیں جس کی وجہ سے دام بڑھ گیا ہے۔

مرکزی حکومت نے دس ہزار ٹن پیاز درآمد کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس سے کوئی خاص فائدہ ہونے کا امکان کم ہے۔

درآمد کیا گیا پیاز منڈی میں 15 ستمبر تک آ سکے گا۔ تھوک منڈی میں درآمد کیے گئے ایک کلو پیاز کی قیمت 45 روپے سے کم نہیں ہوگی جو آج فروخت ہونے والے پیاز کی قیمت کے برابر ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مرکزی حکومت نے دس ہزار ٹن پیاز درآمد کرنے کا اعلان کیا ہے لیکن اس سے کوئی خاص فائدہ ہونے کا امکان کم ہے

ظاہر ہے اس سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوگا۔ ڈاکٹر گپتا کہتے ہیں سوال پیاز کی دستیابی کا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’پیاز کا سٹاک کافی ہے۔ اسے منڈی میں میں لانے کی ضرورت ہے۔‘

راجیو منيار کہتے ہیں پیاز کی درآمد نجی طور پر تاجر پہلے سے ہی کر رہے ہیں۔ منيار کے مطابق : ’مصر اور افغانستان سے روز پیاز درآمد ہو رہا ہے۔ درآمد میں تو فائدہ ہے لیکن حکومت نے درآمد کی شرائط اتنی سخت رکھی ہیں کہ اس کا تاجروں کو خاص فائدہ نظر نہیں آتا۔‘

گردھر پاٹل کے مطابق درآمد بڑھنے یا برآمد پر روک لگانے سے صرف ایک مختصر وقت کے لیے فائدہ ہو گا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت ’کھلا بازار‘ قائم کرے جس میں حکومت کا کوئی کام نہ ہو۔

اسی بارے میں