’بھارت میں مسلمانوں کی آبادی میں تین کروڑ 40 لاکھ کا اضافہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بھارت میں مذہب کی بنیاد پر پیش کی جانے والی آبادی کی رپورٹ میں مسلمانوں کے تناسب میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے

بھارت میں سنہ 2011 میں ہونے والی مردم شماری پر مبنی رپورٹ کے مطابق ملک میں مسلمانوں کی تعداد 17.22 کروڑ تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہندوؤں کی تعداد 96.63 کروڑ ہے۔

تاہم دونوں مذاہب کی آبادی میں اضافے کی شرح میں کمی آئی ہے۔ مسلمان کی آبادی میں افزائش کی شرح 29.5 سے کم ہوکر 24.6 ہو گئی ہے جو کہ تقریباً پانچ فی صد ہے اور یہ سب سے زیادہ کمی ہے۔

بھارت: مسلمانوں کی آبادی بڑھنے کی رفتار میں کمی

جبکہ ہندوؤں میں افزائش کی شرح 19.92 سے 16.76 ہو گئی ہے اور یہ کمی تقریباً تین فی صد ہے۔

بھارتی خبر رساں ایجنسی کے مطابق مذہب کی بنیاد پر پیش کیے جانے والے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ سنہ 2001 سے 2011 کے درمیان دس سالوں میں مسلمانوں کی آبادی کے تناسب میں 0.8 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ 13.8 کروڑ سے بڑھ کر 2011 تک 17.22 کروڑ ہو گئی ہے۔

جبکہ ان دس سالوں میں ملک کی مجموعی آبادی کے مقابلے ہندوؤں کی آبادی کے تناسب میں 0.7 فیصد کمی آئی ہے اور اب یہ 96.63 کروڑ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption رپورٹ کے مطابق بھارت میں سنہ 2011 تک ہندوؤں کی تعداد 96.63 کروڑ تھی جو کہ کل آبادی کا 79.8 فی صد ہے

خیال رہے کہ مجموعی طور پر دونوں مذاہب کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ مسلمانوں میں اضافے کی شرح 24.6 فی صد رہی جبکہ ہندوؤں میں اضافے کی شرح 16.8 رہی۔

عیسائیوں کی آبادی میں اضافے کی شرح 15.5 رہی جبکہ سکھوں کی آبادی 8.4 فی صد کے حساب سے بڑھی۔

بودھ مذہب کے ماننے والوں کی آبادی میں اضافے کی شرح 6.1 رہی جبکہ جین مت کے ماننے والوں کی تعداد میں اضافے کی شرح 5.4 رہی۔

فی الحال بھارت نے ذات پات کی بنیاد پر مردم شماری کے اعداد و شمار جاری نہیں کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلمانوں کی آبادی 17.22 کروڑ ہے جو کہ کل آبادی کا 14.2 فی صد ہے

جبکہ علاقائی پارٹیاں آر جے ڈی، جے ڈی یو اور ڈی ایم کے حکومت پر مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ ذات پات پر مبنی مردم شماری کے اعداد و شمار بھی عوام کے سامنے پیش کرے۔

اس سے قبل سماجی و اقتصادی لحاظ سے ملک کی آبادی کے اعداد و شمار تین جولائی کو جاری کیے گئے تھے۔

اس کے مطابق سنہ 2011 میں ہندوستان کی کل آبادی 121.09 کروڑ یعنی ایک ارب 21 کروڑ نو لاکھ تھی۔

رپورٹ کے مطابق بھارت میں سنہ 2011 تک ہندوؤں کی تعداد 96.63 کروڑ تھی جو کہ کل آبادی کا 79.8 فی صد ہے۔ مسلمانوں کی آبادی 17.22 کروڑ ہے جو کہ کل آبادی کا 14.2 فی صد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عیسائیوں کی آبادی 2.78 کروڑ ہے جو کہ ملک کی آبادی کا 2.3 فی صد ہے

عیسائیوں کی آبادی 2.78 کروڑ ہے جو کہ ملک کی آبادی کا 2.3 فی صد ہوا اور سکھوں کی آبادی 2.08 کروڑ ہے جو کہ ملک کی مجموعی آبادی کا 1.7 فی صد ہے۔ بودھ مت کے مانے والے 84 لاکھ ہیں جو کہ ملک کی آبادی کا 0.7 فی صد ہیں۔ جین مذہب کے ماننے والوں کی آبادی ملک میں 0.45 کروڑ ہے جو کہ 0.4 فی صد ہوئے۔ ان کے علاوہ دیگر مذاہب اور مسلک کے ماننے والوں کی تعداد 0.79 کروڑ ہے جو کہ ملک کی آبادی کا 0.7 فی صد ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھارت میں سکھوں کی آبادی 2.08 کروڑ ہے جو کہ ملک کی مجموعی آبادی کا 1.7 فی صد ہے

عیسائیوں اور جینوں کی آبادی کے تناسب میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، 2001 سے 2011 کی دہائی میں ہندوستان کی کل آبادی میں اضافے کی مجموعی شرح 17.7 فیصد درج کی گئی ہے۔

اسی بارے میں