بھارت میں ’فیس بک شیمنگ‘ کا بڑھتا ہوا رواج

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’آج اس کی مجھ سے یہ سب کہنے کی جرات ہوئی ہے ، کل اس کی جرات اس سے ایک قدم آگے بڑھنے کی ہو گی۔ میں یہاں وہ سب کچھ جو اس نے کہا تھا، لفظ بہ لفظ لکھ سکتی تھی، لیکن میں نہیں چاہتی تھی کہ فیس بک ان الفاظ کی وجہ سے میری پوسٹ ہی ہٹا دے‘

’کوئی میری مدد کے لیے کھڑا نہیں ہوا تو میں اپنی مدد آپ کرنے کے لیے کھڑی ہو گئی۔‘

حال ہی میں دہلی کی ایک طالبہ جسلین کور کی جانب فیس بک پر ڈالی جانے والی یہ پوسٹ شروع میں تو اس بات کی مثال بن کر سامنے آئی کہ سوشل میڈیا کس طرح لوگوں کو انصاف دلوا سکتا ہے۔

لیکن بعد میں یہ کیس متعلقہ لوگوں کی جانب سے الزام در الزام اور اس سے فائدہ حاصل کرنے والے موقع پرست حلقوں میں گھرا گیا۔

’فیس بک شیمنگ‘ کو بھی تنقید کا سامنا ہے جسے جنسی ہراس کے خلاف کارآمد ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔

اس ہفتے کے شروع میں جسلین کور نے اپنی ایک پوسٹ لکھا کہ دہلی کے ایک ٹریفک سگنل پر موٹر سائیکل پر سوار ایک مرد نے اس سے نازیبا کلمات کہے۔ جسلین نے اس واقعے اطلاع پولیس کو دینے کے ساتھ ساتھ اس مرد کی تصویر بھی فیس بک پر ڈال دی، جو اب تک ایک لاکھ 30 ہزار سے زائد بار شیئر کی جا چکی ہے۔

مقامی خبروں کے مطابق پولیس نے اس پر فوری اور غیر متوقع طور پر کارروائی کرتے ہوئے سروجیت سنگھ نامی اس شخص کو جنسی ہراسانی، مجرمانہ دھمکیوں اور عورت کا تقدس پامال کرنے کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا۔

شروع میں تو بھارتی میڈیا میں جسلین کی ہمت اور جرات کی تعریف کی گئی جس میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اور عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کجریوال کا جلسین کور کو ان کی بہادری پر سراہنا اور دہلی پولیس کی جانب سے انھیں پانچ ہزار بھارتی روپے کا نقد انعام دیا جانا شامل تھا۔

اے بی پی نیوز چینل سے بات کرتے ہوئے جسلین نے کہا کہ ان کا اس واقعے کی ویڈیو فیس بک پر ڈالنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ ہراساں کیے جانے کے بعد جھجھک کا مظاہرہ کرنے کے بجائے آگے بڑھ کر اس کا سامنا کریں۔

انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ ملزم کو شرمندہ کرنا چاہتی تھیں۔ ’میں چاہتی تھی کہ یہ تصویر اس کے خاندان کے افراد کی فیس بک وال پر جائے تاکہ اسے شرمندگی کے مارے منھ چھپانے کی جگہ نہ ملے۔‘

لیکن اب یہ کیس اس طرح واضح نہیں رہا جیسے پہلے نظر آتا تھا۔ سروجیت سنگھ ضمانت پر رہا ہو چکے ہیں اور تمام الزامات سے انکاری ہیں۔ انھوں نے الٹا جسلین کور پر الزام لگایا ہے کہ انھوں نے شہرت حاصل کرنے اور اپنے سیاسی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے اس واقعے کو استعمال کیا ہے۔

سروجیت سنگھ کے اس الزام کے ثبوت کے لیے اب سوشل میڈیا پر جسلین کور کی عام آدمی پارٹی کی تقریبات میں شرکت کی تصاویر سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں، اور سیاسی حلقوں میں اس مسئلے پر بحث شروع ہوگئی ہے۔ بھارت کے الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر کور اور سنگھ کے درمیان ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات کا تبادلہ جاری ہے۔

بھارت میں سوشل میڈیا پر پبلک شیمنگ کوئی نئی بات نہیں ہے، خاص کر جنسی ہراسانی کے واقعات میں۔ کیونکہ خیال کیا جاتا ہے کہ بھارت میں ایسے واقعات پر مقدمہ چلانا مشکل ہوتا ہے اور حکام ہمیشہ اتنے فعال نہیں ہوتے۔

سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے والوں کے نام لانا اور انھیں شرم دلانے کے استعمال میں تیزی 2012 میں دہلی کی بس میں ایک طالبہ کے بے رحمانہ ریپ اور قتل کے بعد آئی۔ اس واقعے کے بعد بھارت میں جنسی ہراسانی کا مسئلہ دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔

صرف اسی ہفتے میں سوشل میڈیا پر ہنگامے نے پولیس کو دیگر دو کیسوں میں فوری کارروائی کرنے پر مجبور کیا ہے۔

اس میں پہلا وہ ہے جب ممبئی میں ایک امریکی عورت نے اس شخص کی تصویر سوشل میڈیا پر ڈالی جس پر الزام ہے کہ وہ اس عورت کے سامنے نازیبا حرکات کر رہا تھا۔ اس تصویر کے مشہور ہونے کے بعد ممبئی کی پولیس نے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا، تاہم اس نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات سے انکار کیا ہے۔

ایک دوسرے واقعے میں پولیس کی تیزی تب دیکھنے میں آئی جب فیس بک پر ایک ویڈیو ہزاروں بار دیکھی گئی جس میں دہلی کی میٹرو ٹرین میں ایک پولیس افسر کو دکھایا گیا جو ممکنہ طور پر نشے میں تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق اس افسر کو معطل کر دیا گیا ہے، حالانکہ اس پر جنسی بداخلاقی کا کوئی الزام نہیں تھا بلکہ عوامی مقامات پر نشہ کرنے کی ممانعت کے قانون کی خلاف ورزی کا الزام تھا۔

تو کیا بھارت میں سوشل میڈیا پولیس اور عدالتی نظام کو درست کرنے میں مدد کر رہا ہے؟ سوشل میڈیا کے ماہر اناگھ ڈیسائی نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا کے دباؤ کے باعث لیے جانے والے فیصلے جلد بازی کا شکار ہوتے ہیں۔

’نوجوان مرد اور خواتین جو پولیس میں شکایت درج کروانے کے طریقہ کار سے واقف نہیں ہیں، اپنا کیس فیس بک یا ٹوئٹر پر پر ڈال کر انصاف حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ٹویٹ کوئی ثبوت نہیں ہے۔‘

ڈیسائی نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ ’پولیس صرف کارروائی کر سکتی ہے لیکن کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ کارروائی صحیح ہے یا غلط۔ انصاف کا حصول اس کیس کے عدالتوں میں جانے کے بعد فیصلے پر منحصر ہے۔‘

اسی بارے میں