چینی معیشت کی سستی، بھارت کے لیے موقع؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مودی سرکار کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر لوگوں میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ کہ کیا وہ جلد اپنے وعدے پورے کر پائے گی

اس سوال کے جواب میں کہ گذشتہ پانچ سالوں میں کیا تبدیلیاں آئی ہیں، ایک بھارتی بزنس مین کا کہنا تھا کہ ’آپ کو ہوائی اڈا بالکل بدلا ہوا ملے گا، اب آپ ٹیکسی کی بکنگ گھر بیٹھے ایک سیل فون ایپ سے کر سکتے ہیں۔ آپ کو کئی بھارتی شہریوں میں اب تازگی کی کیفیت نظر آئے گی، یہاں لوگوں کو آپ اب بہت پُر امید پائیں گی۔‘

میں پانچ سال اُس شہر سے دور رہی ہوں جو کئی اعتبار سے میرا دوسرا گھر رہا ہے۔

ہماری خاندانی تاریخ میں ممبئی یا بمبئی کو ایک افسانوی شہر جیسی حیثیت حاصل رہی ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد یہی وہ جگہ تھی جہاں میرے سندھی والدین پاکستان سے نقل مکانی کر کے اپنی اولاد کے بہتر مستقبل کی تلاش میں آئے تھے۔

اور وہ ممبئی ہی تھا جہاں میں 2006 میں بی بی سی کی طرف سے بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت پر رپورٹنگ کرنے آئی تھی۔

جو بھارت اُس وقت میں نے دیکھا تھا اُس کی ترقی کی رفتار بے مثال تھی۔ شرح نمو تیزی سے بڑھ رہی تھی، آؤٹ سورسنگ سیکٹر یعنی بیرون ملک سے ٹھیکوں پر لیے گیے کاروبار نے نوجوانوں کی ماہانہ تنخواہ اتنی بڑھا دی تھی جو اُن کے والدین کی سالانہ تنخواہوں سے بھی زیادہ تھی۔ ٹاٹا جیسی کچھ بھارتی کمپنیاں بیرون ملک اثاثے خرید رہی تھیں اور دنیا بھر میں کاروبار پھیلا رہی تھیں۔

جن جگہوں سے میں سب سے زیادہ رپورٹنگ کرتی تھی ان میں بمبئی سٹاک ایکسچینج بھی شامل تھا۔

میرے وہاں پہنچنے کے چند ہی ماہ میں بھارت میں حصص کے سب سے بڑے بازار ’سینسکس‘ میں انڈیکس نے دس ہزار پوائنٹس کی حد عبور کرنے کا ریکارڈ بنا لیا تھا۔ اور پھر جب 2007 میں انڈیکس 20 ہزار پوائنٹس تک جا پہنچا تو بھارتی اخباروں کی شہ سرخیاں چلانے لگیں کہ بالآخر بھارتی معیشت بھی عالمی دوڑ میں شامل ہوگئی ہے۔

اس کے ساتھ ہی بیرون ملک سے سرمایہ کاری کی آمد میں اضافہ ہو گیا اور تیزی سے ترقی کرنے والی کمپنیوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ گئی۔

آج جب میں نے ایکسچینج کا دورہ کیا تو سینسکس انڈیکس 28 ہزار سے کچھ کم پوائنٹس پر بند ہوا تھا جسے با عزت تو کہا جا سکتا ہے لیکن اسے بہت شاندار نہیں کہیں گے۔

Image caption ’مجھے لگتا ہے نئی حکومت سے نتائج حاصل کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لی گئی تھیں۔ 1991 کی معاشی اصلاحات بھی اچانک پُر اثر نہیں ہوئی تھیں بلکہ ایسا وقت کے ساتھ بتدریج ہوا تھا‘

بمبئی سٹاک ایکسچینج کے باہر چائے کے کھوکھے پر ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے مقامی سرمایہ کاروں کا موضوعِ گفتگو حال ہی میں پیدا ہونے والا مالیاتی بحران اور اس کے بین الاقوامی مارکیٹ پر اثرات تھے۔

وہاں موجود کئی لوگوں کی مثبت خیالی میرے لیے حیران کن تھی۔

خود کو شوقیہ سرمایہ کار کہنے والی 26 سالہ پریتی کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں بھارت اس کا بخوبی سامنا کر لے گا اور پہلے سے مضبوط ہو کر اس صورت حال سے باہر نکلے گا۔ میرے والد نے ہمیشہ ہمیں بتایا ہے کہ جب مارکیٹ مندی کا شکار ہو تب خریدو اور میں ایسا ہی کر رہی ہوں۔‘

وہیں موجود ایک میوچل فنڈ کے ٹریڈر نے پوچھا: ’جب کسی سپر مارکیٹ میں سیل لگی ہوتی ہے آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ فوراً خوردنی تیل اور چاول خریدنے پہنچ جاتے ہیں، کیا ایسا نہیں ہے؟ ابھی بھی ایسا ہی کرنا چاہیے، بھارت کی سٹاک مارکیٹ زیادہ دن نیچے نہیں رہے گی۔‘

ممبئی میں گذشتہ دو دنوں میں میں نے ایسی باتیں بار بار سنی ہیں، لیکن صرف سٹاک ایکسچینج کے بارے میں نہیں۔

بھارت کے مرکزی بینک کے گورنر رگھورام راجن کہتے ہیں: ’ایسا نہیں ہے کہ بھارتی معیشت چین کی آہستہ روی کا شکار معیشت سے محفوظ ہے۔ بلکہ یہ ارد گرد کے دیگر کچھ ملکوں کے مقابلے میں خود کو دوبارہ جلد سنبھالنےکی زیادہ صلاحیت رکھتی ہے۔‘

’ میں نے اب تک جو دیکھا ہے اس کے مطابق ایسی کوئی وجہ نظر نہیں آتی جس سے ایسا لگے کہ ہم ایک اور بحران کی سمت جا رہے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption من موہن سنگھ کی حکومت کو بدعنوانی کے الزامات اور لوگوں میں پھیلتی مایوسی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا

بی بی سی کی طرف سے جکارتہ میں پوسٹنگ کے بعد 2009 میں جب میں نے ممبئی چھوڑا تھا تو اس وقت بہت سے لوگوں کے مطابق بھارت بڑی اچھی جگہ کھڑا تھا۔ انتخابات میں ناکامی کی توقعات کے باوجود مضبوط شرح نمو کی وجہ سے کانگریس اور اس کے اتحادی ایک بار پھر حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔

بعد میں من موہن سنگھ کی حکومت کو بدعنوانی کے الزامات اور لوگوں میں پھیلتی مایوسی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اور ایک وہ وقت تھا حالنکہ ان کی وجہِ شہرت 1991 کا وہ بجٹ تھا جس سے ترقی کے دروازے کھل گئے تھے اور جس کے بعد بھارت میں انھیں اصلاحات کا بانی قرار دیا گیا تھا۔

گذشتہ سال گجرات سے تعلق رکھنے والے کاروباری ماحول کے حامی سیاست دان نریندر مودی نے ان کی جگہ لے لی تھی۔ نئے وزیر اعظم اور ان کی جانب سے کیے گئے وعدوں کے حوالے سے لوگوں میں خدشات پائے جاتے ہیں کہ کہ کیا وہ جلد اپنے وعدے پورے کر پائیں گے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ چند ضروری معاشی اصلاحات، جیسے مختلف کاروباروں کے لیے فیکٹریاں کھڑی کرنے کے لیے زمین کی خریداری کو آسان بنانے کا بل سیاسی مخالفت کے باعث پچھلے پارلیمانی سیشن میں منظور نہیں ہو سکا تھا۔

لیکن کچھ کاروباری افراد مودی کو ایک اور موقع دینے کے لیے تیار ہیں۔

اُن ہی میں سے ایک یو ٹی آئی ایسٹ مینیجمنٹ کے لیو پوری کہتے ہیں: ’میرے خیال میں بھارت میں اصلاحات کا عمل تیز ہونے کے بجائے بتدریج ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ نئی حکومت سے نتائج حاصل کرنے کے حوالے سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کر لی گئی تھیں۔ 1991 کی معاشی اصلاحات بھی اچانک موثر نہیں ہوئی تھیں بلکہ ایسا وقت کے ساتھ بتدریج ہوا تھا۔‘

یہ سچ ہے کہ بھارت کی اقتصادی ترقی کی شرح بڑھنا شروع ہوگئی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اقتصادی ترقی کی شرح اس وقت سات فیصد ہے جسے وہ بڑھا کر آٹھ فیصد تک لے جانا چاہتے ہیں، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب دنیا ایک نئی اقتصادی طاقت کی تلاش میں ہے۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو بھارت کی معیشت کی ترقی کی رفتار چین سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔

لیکن یہ بھی سچ ہے کہ معیشت کے کچھ حصے ایسے ہیں جہاں تک ترقی کا یہ عمل ابھی تک نہیں پہنچا ہے۔

کچہ اقتصادی ماہرین بھارت کی اقتصادی ترقی کے اعداد و شمار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ قرضوں اور سرمایہ کی پیداواری شرح جیسے معاشی اشاریوں کا یکساں ہونا ضروری ہے۔ کئی بھارتیوں کا کہنا ہے کہ انھیں یہ اثرات اپنی اجرتوں یا اپنے بینک اکاؤنٹوں تک پہنچتے ہوئے محسوس نہیں ہو رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مون سون کا موسم بھارتی معیشت کی کارکردگی پر گہرے اثرات ڈالتا ہے

اور پھر آ جاتا ہے موسم۔ مون سون کا موسم بھارتی معیشت کی کارکردگی پر گہرے اثرات ڈالتا ہے۔ اگرچہ معیشت میں زراعت کا حصہ صرف 17 فیصد ہے لیکن ایک اندازے کے مطابق بھارت کی تقریباً آدھی آبادی کا دارومدار کاشتکاری پر ہے۔ دیہی علاقوں کی معیشت میں مون سون ایک اہم عنصر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس بات کے آثار بہت کم ہیں کہ بھارت دنیا بھر کی معیشت پر اثرانداز ہونے والی اقتصادی طاقت چین کی جگہ لے پائے گا۔ بھارت کی معیشت چین کی معیشت کا محض ایک چوتھائی ہے۔

چین کو درپیش حالیہ مسائل کے باوجود اس بات کے امکانات بھی کم ہیں کہ وہ سرمایہ کاروں کی نظروں سے مکمل طور پر اوجھل ہو جائے۔ بہر حال چین ایک بہت بڑی مارکیٹ ہونے کے ساتھ صنعت کاری اور تجارت میں بہت آگے ہے۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ چینی معیشت کی سست روی بھارت کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کر رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی بھارت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس موقعے سے فوری فائدہ اٹھائے۔

اسی بارے میں