گاندھی کے مجسمے کو جوتے، چھتیس گڑھ میں گرفتاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ Afroz Alam Sahil
Image caption اس ویڈیو میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کو جوتے مارتے ہوئے دکھایا گیا تھا

بھارت کی ریاست چھتیس گڑھ میں پولیس کا کہنا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ واٹس ایپ کے ایک گروپ میں مہاتما گاندھی کا مبینہ قابل اعتراض ویڈیو کو شیئر کرنے کے الزام میں دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

تاہم دونوں نوجوانوں کو مقامی عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔

بلاسپر ضلع کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ابھیشیک قاری کے مطابق ’رتنپر علاقے میں ایک واٹس ایپ گروپ میں ایک نوجوان نے مہاتما گاندھی کی قابل اعتراض ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ گروپ کے ہی ایک رکن نے اس کی شکایت پولیس میں درج کرائی۔‘

اس ویڈیو میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کو جوتے مارتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

ساتھ ہی اپیل کی گئی تھی کہ اس ویڈیو کو اتنا شیئر کیا جائے کہ پورا معاملہ پولیس تک پہنچ جائے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو ايش نامی ایک نوجوان نے اپ لوڈ کی تھی۔ اس کے بعد گروپ میں اس پر بحث بھی ہوئی۔

پولیس نے سب سے پہلے بارہویں کلاس میں پڑھنے والے ايش کو گرفتار کیا۔ اس کے علاوہ پولیس نے گروپ کے منتظم منیش جیسوال کو بھی گرفتار کیا۔

ان دونوں کے خلاف پولیس نے تعزیرات ہند اور آئی ٹی ایکٹ کی دفعات لگائیں۔

ان کی گرفتاری کے بعد سے ہی رتنپر علاقے میں کشیدگی کا ماحول بن گیا۔ مقامی کوٹہ بار ایسوسی ایشن کی وکالت نے بھی ان گرفتاریوں کی مخالفت شروع کر دی۔

اسی بارے میں