ٹوائلٹ استعمال کرنے پر نقد انعام

Image caption بے شمار لوگ عوامی بیت الخلا کی سہولت دستیاب ہونے کے باجود اسے استعمال نہیں کرتے۔

اکثر لوگوں کے لیے بیت الخلا کی سہولت ایک عام چیز ہے، لیکن آج بھی دنیا کی ایک ارب سے زیادہ آبادی گھر سے باہر کُھلے مقامات پر رفع حاجت کرتی ہے کیونکہ اسے فضلے اور گندے پانی کی نکاسی کا مناسب نظام دستیاب نہیں ہے۔

انڈیا میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک انوکھی مہم کا آغاز کیا گیا ہے جس کے تحت بچوں میں بیت الخلا کی عادت ڈالنے کے لیے انھیں پیسے دیے جا رہے ہیں۔

ریپ کی سب سے بڑی وجہ کھلے میں رفع حاجت؟

کھلے مقامات پر رفع حاجت کے لیے کروڑوں لوگ کھیتوں، جھاڑیوں یا ندی نالوں وغیرہ کا استعمال کرتے ہیں جو بچوں کے صحت کے لیے کسی بڑے خطرے سے کم نہیں۔

ہر سال لاکھوں بچے انسانی فضلے سے پھیلنے والی بیماریوں سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔

بھارت میں ملک کی تقریباً نصف آبادی، یعنی تقریباً چھ کروڑ افراد رفع حاجت کے لیے کھیتوں وغیرہ کا رخ کرتے ہیں۔

ان میں اکثر لوگوں کے لیے یہ معمول کی بات ہے اور یہ لوگ بے شمار عوامی بیت الخلا کی سہولت دستیاب ہونے کے باجود اسے استعمال نہیں کرتے۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ریاست گجرات کے ضلع احمد آباد کے ایک علاقے میں ایک منصوبہ شروع کیا گیا ہے جس کے تحت ٹوائلٹ استعمال کرنے والے بچوں کو مقامی کونسل کی جانب سے پیسے دیے جا رہے ہیں۔

Image caption احمد آباد میں شروع کی جانی والی نئی سکیم میونسپل کونسل کے ہیلتھ افسر چلا رہے ہیں

سکیم شروع کرنے والوں کا خیال ہے کہ ایک ایسے ملک میں جہاں ہر سال دو لاکھ بچے دست اور پیچش سے ہلاک ہو جاتے ہیں، وہاں اس منصوبے سے فرق پڑے گا۔

لوگوں کی عادتیں تبدیل کرنا

احمد آباد میں چنڈولیا کے علاقے کی کچی بستیوں کے رہائشی لوگ کی آمد و رفت اور دن کی گرمی شروع ہونے سے پہلے ہی علاقے سے گزرنے والی ریل کی پڑیوں کو بطور ٹوائلٹ استعمال کر لیتے ہیں۔

ریاست گجرات کے نکاسی آب کے محکمے ’گجرات سینیٹیشن ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن‘ کے چیئرمین انیل پراجاپتی کا کہنا ہے کہ ’ہم نے شہر میں عوامی بیت الخلا بنا دیے ہیں لیکن لوگوں پھر بھی انھیں استعمال ہی نہیں کرتے۔‘

’کچھ لوگ ڈرتے ہیں کہ وہاں بھوت پریت ہوتے ہیں یا وہاں سے بچے اغوا ہو جائیں گے۔ ان آبادیوں میں لوگوں کی اکثریت چھوٹے دیہاتوں سے آئی ہے، اسی لیے انھیں بیت الخلا کی عادت نہیں ہے۔‘

جب لوگ کھلے مقامات پر رفع حاجت کرتے ہیں تو مکھیوں کے ذریعے فضلے کے ذرات کھانے پینے کی چیزوں تک پہنچ جاتے ہیں جسے بیماریاں پھیلتی ہیں۔ اس کے علاوہ انسانی فضلہ ندی نالوں اور کنوؤں کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے جسے لوگ پینے اور نہانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

نئی حکمت عملی

Image caption کچھ لوگ ڈرتے ہیں کہ عوامی ٹوائلٹ میں بھوت پریت ہوتے ہیں یا وہاں سے ان کے بچے اغوا ہو جائیں گے

احمد آباد میں شروع کی جانی والی نئی سکیم میونسپل کونسل کے ہیلتھ افسر چلا رہے ہیں جس کے تحت کچی آبادیوں کے رہائشیوں کو ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ عوامی بیت الخلا استعمال کریں جن میں سے کچھ تو فری ہیں جبکہ کچھ میں آپ کو استعمال کے لیے پیسے دینے پڑتے ہیں۔

ڈاکٹر بھون سلنکی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ ہمارے ہاں 320 عوامی بیت الخلا ہیں جن میں سے 143 ایسے ہیں جنھیں آپ بلامعاوضہ استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم نے دیکھا ہے کہ کئی بچے عوامی ٹوائلٹس کے سامنے ہی پیشاب کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘

’ہم نے اس مشاہدے سے یہ سبق سیکھا کہ ہمیں کوئی نئی سکیم متعارف کرانا پڑے گی، چنانچہ اب ہم نے ٹوائلٹ استعمال کرنے والے ہر بچے کو روزانہ ایک روپیہ یا چاکلیٹ انعام میں دینے کا فصیلہ کیا ہے‘۔

اگر یہ حکمت عملی کامیاب رہتی ہے تو احمد آباد کونسل مستقبل میں بالغ افراد کو بھی اسی قسم کا انعام دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

احمد آباد میونسپل کارپوریشن کے کمشنر مسٹر ڈی تھرا کہتے ہیں کہ اگر بچے بیت الخلا کا استعمال شروع کر دیتے ہیں تو بڑے لوگ بھی ان کی دیکھا دیکھی ٹوائلٹ استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔

لیکن شہر کے دوسرے علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ لوگوں کی عادتیں تبدیل کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ اکثر عوامی بیت الخلا گندے ہوتے ہیں اور بچوں کو وہاں داخل نہیں ہونے دیا جاتا کیونکہ کچھ بچے بہت زیادہ پانی خرچ کر دیتے ہیں۔

اسی بارے میں