مسلمانوں کے لیے ’مثبت اقدام‘ کے مطالبے پر بھارتی نائب صدر پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حامد انصاری کو سخت گیر ہندو قوم پرست جماعتوں کی جانب سے پہلے بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے

بھارت کے نائب صدر حامد انصاری کی جانب سے مسلمانوں کے لیے ’مثبت اقدام‘ کے مطالبے پر ہندو قوم پرست تنظیموں بی جے پی اور وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی جانب سے سخت تنقید کی جار رہی ہے۔

وی ایچ پی نے ان سے ’معافی‘ کا مطالبہ کیا ہے یا پھر انھیں ’مستعفی ہوجانے‘ کے لیے کہا ہے۔

وشو ہندو پریشد کے جوائنٹ سیکریٹری سریندر جین نے کہا کہ ڈاکٹر انصاری کا بیان ’فرقہ وارانہ‘ ہے اور ان کے ’عہدے کے منافی‘ ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا کہ ’حامد انصاری نے جو بیان دیا ہے وہ نائب صدر کے بجائے کسی سیاسی مسلمان رہنما کا بیان ہے۔انھوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ہے۔‘

اس کے علاوہ سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر حامد انصاری ٹرینڈ کرتا رہا اور زیادہ تر لوگ حامد انصاری کو تنقید کا نشانہ بناتے نظر آئے۔

خیال رہے کہ نائب صدر جمہوریہ نے پیر کو بھارت میں مسلمانوں کی تنظیموں کے اتحاد آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (اے آئی ایم ایم ایم) کی گولڈن جوبلی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف امتیازات کو دور کرنے کی بات کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter
Image caption حامد انصاری کے بیان پر کیے جانے والے ٹويٹ میں زیادہ تر ان کے خلاف ہیں

انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے پیغام ’سب کا ساتھ سب کا وکاس‘ (ترقی) کی تعریف کرتے ہوئے اس کے نفاذ کے لیے ’مثبت اقدام‘ کی ضرورت پر زور دیا تھا تاکہ ’ایک مشترکہ نقطۂ آغاز کو سب کے ساتھ مطلوبہ رفتار کے ساتھ یقینی بنایا جا سکے۔‘

انھوں نے سرکاری شعبوں میں مسلمانوں کے ساتھ عدم مساوات اور امتیازات کو جلد از جلد دور کرنے کی بات کہی اور کہا کہ ملک میں مسلمانوں کا بڑا طبقہ ابھی بھی محرومی کا شکار ہے۔

اس کے علاوہ انھوں نے مسلمانوں کو اپنے اندر موجود کمیوں اور کوتاہیوں کی جانب نظر ڈالنے اور انھیں دور کرنے کی بات بھی کہی۔

آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر ظفرالاسلام خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’حامد انصاری نے کوئی نئی بات نہیں کہی ہے اور گذشتہ حکومتیں جو بات کرتی رہی ہیں انھوں نے اسی کو اجاگر کیا ہے۔‘

ظفرالاسلام خان نے کہا کہ ’انھوں نے مسلمانوں کی پسماندگی پر جو سچر کمیٹی یا مشرا کمیٹی کی رپورٹیں آئی تھیں ان کے نفاذ کی بات کہی تاکہ حکومت کے مختلف پروگرامز اور سکیم کے فوائد مسلمانوں تک بھی پہنچنے چاہیے۔‘

Image caption حامد انصاری نے کہا کہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے سنہ 1947 کے واقعات سے نکلنے کا مرحلہ مسلسل جاری رہا جو کبھی ناہموار تو کبھی تکلیف دہ تھا

ظفرالاسلام خان نے وی ایچ پی اور دوسری تنظیموں کی تنقید کے حوالے سے کہا کہ ’یہ وہ لوگ ہیں جو فرقہ پرستی کی سیاست کرتے ہیں اور جنھوں نے گودھرا (کے فسادات) کیے تھے۔‘

خیال رہے کہ حامد انصاری نے مسلمانوں کی پسماندگی دور کرنے کے لیے چار نکات ’شناخت، سکیورٹی، تعلیم اور بااختیار بنانے‘ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ہندوستان کا جزولاینفک ہونے کے باوجود ’سیاسی واقعات اور مصلحتوں کا ناجائز بوجھ اٹھانے پر مجبور ہوئے‘ اور اس کا نتیجہ تقسیم ہند تھا۔

انھوں نےکہا کہ ’سنہ 1947 کے واقعات سے نکلنے کا مرحلہ مسلسل جاری رہا جو کبھی ناہموار تو کبھی تکلیف دہ تھا۔‘

دوسری جانب بی جے پی کے جنرل سیکریٹری کیلاش وجے ورگیا نے نائب صدر جمہوریہ کے بیان کو ’آئینی عہدے کی خلاف ورزی‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PTI
Image caption سخت گیر ہندو تنظیم مسلمانوں کے خلاف رہی ہیں

دا ہندو اخبار کے مطابق انھوں نے کہا: ’نائب صدر کا عہدہ آئینی ہے اور کسی خاص برادری کے بجائے پورے ملک کے لیے ہے۔ مسٹر حامد انصاری کا بیان کہ سب کا ساتھ سب کا وکاس اسی وقت زیادہ موثر ہوگا جب مسلمانوں کا خاص خیال رکھا جائے یا انھیں ریزرویشن دیا جائے آئین کی روح کے منافی ہے۔‘

جبکہ بھارتی اخبار دا انڈین ایکسپریس نے اپنے اداریے میں اس خطاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اس میں حکومت کے لیے غور خوض کرنے کی بہت سی چیزیں ہیں‘ اور اس میں ’نئی اقلیتی سیاست کے امکانات ہیں۔‘

اسی بارے میں