برمی نژاد بھارتی جو کبھی اپنے گھر نہ لوٹ سکے

Image caption موریہہ کے تاجروں کا خیال ہے کہ ان کا کاروبار ایشین ہائے وے بننے کے بعد ایک دفعہ پھر اہمیت اختیار کر جائے گا

محمد یوسف ہر صبح صرف چند سو میٹر دور سرحد پار اپنے وطن کو آس بھری نظروں سے دیکھ سکتا ہے لیکن سرحد کے محافظ برما کے فوجی اسے اپنے ملک آنے نہیں دیتے۔

یوسف ان ہزاروں برمی تملوں میں شامل ہے جو بھارت کے شمال مشرق میں برما کی سرحد پر مانی پور میں رہتے ہیں۔

مسٹر سارلان اور ان جیسے ہزاروں برمیوں کو 1960 میں برما میں فوج کی طرف سے حکومت پر قبضے کے بعد بے دخل کر دیا گیا تھا اور ان کے کاروباروں کو سرکاری ملکیت میں لے لیا گیا تھا۔

مسٹر سارلان اور ان جیسے رنگون میں رہنے والے بہت سے لوگ راتوں رات سب کچھ ہار کر مہاجر بنا دیے گئے۔ ایک اندازے کے مطابق برما سے انڈیا ہجرت کرنے والے ان مہاجرین کی تعداد تین لاکھ کے قریب تھی۔

Image caption مسٹر سارلان کی زیادہ زندگی مہاجر کی حیثیت سے گزری ہے

مسٹر سارلان اب 74 برس کے ہیں اور سماجی کارکن ہیں۔ وہ اس مشکل وقت کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے پہلے تین ماہ تمل ناڈو کے ایک مہاجر کیمپ میں گزارے۔ ’تمل ناڈو ہمارے آبا و اجداد کی سرزمین ہے، لیکن بغیر کسی مدد اور تعاون کے وہاں رہنا انتہائی مشکل تھا۔‘

’مِنی انڈیا‘

یہ لوگ صدیوں سے برما میں آباد تھے، لیکن برطانوی راج کے دوران ان کی بڑے پیمانے پر نقل و حرکت ہوئی۔ یہ لوگ اس وقت سرکاری ملازمین بھی تھے، تاجر اور کسان بھی۔ انھیں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا۔

برما کے مقامی باشندے انھیں ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے، جس کی بنا پر 1930 میں کئی بار ان کے خلاف فسادات بھی ہوئے۔

1948 میں برطانوی راج کے خاتمے کے بعد انڈین نژاد لوگوں کے لیے خطرات بڑھ گئے۔ اسی لیے 1962 میں فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد انھیں بھارت دھکیل دیا گیا۔

Image caption برمی تمل انڈیا میں گذشتہ نصف صدی سے رہ رہے ہیں

ان کی اکثریت کو انڈیا میں رہنے میں مشکلات اور دقت کا سامنا تھا۔ جنھوں نے واپس اپنے ملک برما جانے کا فیصلہ کیا، انھیں تھوڑا بہت معلوم تھا کہ انڈیا کی ریاستوں ناگالینڈ، منی پور اور اروناچل پردیش کی سرحد برما سے ملتی ہے۔ کئی ہفتے ٹرینوں اور بسوں پر سفر کرنے کے بعد ایک چھوٹا سا گروپ موریہہ پہنچنے میں کامیاب ہوا، موریہہ اور تامل ناڈو کا زمینی فاصلہ 3200 کلومیٹر ہے، لیکن برما کی سرحد کے قریب پہنچنے پر انھیں وہاں داخل ہونے کی اجازت ہی نہ ملی۔

موریہہ میں رہنے والے تمل سمجھتے ہیں کہ وہ ایک نہ ایک دن ضرور اپنے وطن لوٹنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ لیکن اب تک ان کا یہ خواب حقیقت نہیں بن سکا۔

مسٹر سارلان کا کہنا ہے کہ موریہہ ایک قبائلی گاؤں تھا۔ یہاں اس وقت کوئی انفراسٹرکچر نہیں تھا۔ لیکن برما سے بہت سے لوگ گاڑیوں کے پرزے، کاسمیٹکس کا سامان اور کپڑے لینے یہاں کا رخ کرتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ برمی زبان جاننے کے باعث اس طرح کا کاروبار یہاں شروع کرنا ان کے لیے آسان تھا۔

Image caption لوگ یہاں بڑی تعداد میں بھارتی مصنوعات خریدنے آتے ہیں

بہت جلد تمل باشندوں نے تمل ناڈو کے دیگر مہاجر کیمپوں میں بسنے والے اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی یہاں بلانا شروع کر دیا۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے انڈین شہریت حاصل کر لی۔

1990 تک موریہہ میں بسنے والے انڈین تملوں کی تعداد 15 ہزار تک پہنچ گئی۔ انھوں نے یہاں اپنے سکول کھولے، عبادت گاہیں بنائیں اور ثقافتی تہوار منانا شروع کر دیے۔ اس قصبے کو ’مِنی انڈیا‘ کے نام سے پکارا جانے لگا۔

بالا سوبرامنین مقامی سیکنڈری سکول کے پرنسپل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہمارے اور تمل ناڈو کے درمیان اب بھی سماجی اور معاشرتی رابطے موجود ہیں۔ مذہبی اور موسیقی کی تقریبات کے لیے ابھی بھی مذہبی رہنما اور موسیقار ہم وہیں سے منگواتے ہیں۔ موریہہ کے بہت سے والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے لیے تمل ناڈو بھیجتے ہیں۔‘

چائنا کا سامان

ایک ایسا وقت تھا جب برما کے یہ تمل باشندے سرحد پر ہونے والی تجارت پر مکمل حاوی تھے جس کی وجہ سے ان کے ککی قبیلے سے اختلافات بھی پیدا ہو گئے تھے۔ 1995 میں تملوں اور ککی قبیلے کے درمیان ہونے والی لڑائی میں کئی لوگ مارے گئے تھے لیکن اس کے بعد سے ان کے تعلقات کچھ بہتر ہوئے ہیں۔

Image caption برما کے بازار اب چینی مصنوعات سے بھرے پڑے ہیں

منوہر موہن ایک تامل بزنس مین ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اب ایک دوسرے کی مذہبی و ثقافتی تقریبات میں شرکت کرتے ہیں۔ باہمی مسائل کا حل نکالنے کے لیے کئی کمیٹیاں ہیں جو فوراً مسائل کا حل نکال لیتی ہیں۔‘

تمل کاروباری شخصیات کو اس وقت نقصان اٹھانا پڑا جب 1990 میں برما کی حکومت نے اپنی سرحد کے اندر نامفالونگ کے مقام پر ایک اور بازار کھول دیا۔ جس کے بعد اس میں چائینز مصنوعات کی بھرمار ہو گئی۔ بہت سے برمیوں نے ’لٹل انڈیا‘ کی بجائے نامفالونگ میں خریداری شروع کر دی۔

گیٹ وے:

Image caption موریہہ کو برما اور تھائی لینڈ جانے کے لیے انڈیا کا گیٹ وے سمجھا جاتا ہے

یہاں اٹھنے والی شورش پر گذشتہ کئی سالوں میں قابو پا لیا گیا ہے۔ موریہہ کے تاجروں کا خیال ہے کہ ان کا کاروبار ایشین ہائے وے بننے کے بعد ایک دفعہ پھر نہ صرف بڑھے گا بلکہ اہمیت بھی اختیار کرے گا۔ یہ ہائی وے، امفال، ینگون اور بنکاک کو آپس میں ملائے گی۔

موریہہ کو جنوب مشرقی ایشیا کے لیے انڈیا کا گیٹ وے سمجھا جاتا ہے اور مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ قصبہ اپنے منفرد جغرافیے کے باعث انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

برمی تملوں کی داستان مشکلات و مصیبتوں اور ساتھ ساتھ محنت کے بل بوتے پر حاصل کی گئی کامیابیوں پر مشتمل ہے۔

Image caption یونیورسٹی کی طالبہ بی ریواتھی کا کہنا ہے کہ موریہہ کے لوگ بہتر مواقع کی تلاش میں دیگر شہروں کا رخ کر رہے ہیں

بہت سے تمل بزرگ جن کا اصل تعلق برما سے ہے موریہہ میں ہی رہنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ برما کے قریب ہے جس سے انھیں اپنائیت کا احساس ملتا ہے۔ لیکن نوجوان نسل کا خیال ہے کہ موریہہ میں تعلیم اور روزگار کے مواقع کم ہیں۔

مس بی ریواتھی یونیورسٹی سٹوڈنٹ ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’اگر ہمارے ہمارے پاس تعلیم کے صحیح مواقع نہیں ہیں تو ہمیں کہیں اور جانا پڑتا ہے، ہم یہاں اعلیٰ تعلیم نہیں حاصل کر سکتے۔ اسی طرح لڑکیاں موریہہ میں صرف ٹیچنگ جابز ہی کر سکتی ہیں۔ اس لیے ہمارے پاس اس کے سوا دوسرا کوئی راستہ ہی نہیں کہ ہم اس قصبے کو چھوڑ کر چنائی جیسی بہتر جگہ پر چلیں جائیں۔

لگتا ہے کہ شاید موریہہ صرف جذباتی وابستگی کی بنا پر برمی تملوں کو نہ روک پائے۔

اسی بارے میں