600 لڑکیوں کو مبینہ طور پر زہر دیے جانے پر تحقیقات

Image caption حکام کا خیال ہے کہ لڑکیوں نے شاید کوئی زہریلی گیس نہ سونگلی ہو

افغانستان کے صوبہ ہرات میں پولیس کچھ واقعات کی تحقیقات کر رہی ہے جن میں سینکڑوں طالبات کو مبینہ طور پر زہر دیا گیا تھا۔

گذشتہ دو ہفتوں میں مختلف سکولوں سے تقریباً 600 طالب علموں نے متلی، درد اور سانس لینے میں تکلیف کی شکایت کی جس کے بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

اس وقت ان علامات کی کوئی واضح وجہ پتہ نہیں چلی ہے لیکن حکام کا خیال ہے کہ لڑکیاں شاید کسی زہریلی گیس کا شکار نہ ہو گئی ہوں۔

ابھی تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ہے اور کئی بچوں کو علاج کے بعد اپنے گھروں کو بھیج دیا گیا ہے۔ ان واقعات کی ذمہ داری اب تک کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

سنہ 2012 میں طالبہ کے سکولوں میں انھیں مبینہ طور پر زہر دینے کے کئی واقعات پیش آئے تھے جن کی ذمہ داری طالبان پر عائد کی گئی تھی لیکن انھوں نے اس کی تردید کی تھی۔

ماضی میں افغانستان میں کئی سکولوں پر حملے کیے جا چکے ہیں جن کا ذمہ دار حکام نے ان شدت پسندوں کو ٹھہرایا تھا جو خواتین کی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں۔

اسی بارے میں