بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں گائے ذبح کرنے پر پابندی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی عدالت عالیہ کے ڈویژن بیچ نےگائے کو ذبح کرنے پر پابندی عائد کردی ہے۔

عدالت میں پری موکش سیٹھ نامی ایک وکیل نے درخواست دی تھی جس کے بعد جسٹس جنک راج کوتوال اور جسٹس دھیرج سنگھ ٹھاکر پر مشتمل ڈویژن بینچ نے حکومت اور پولیس کو حکم دیا کہ ریاست میں دودھ دینے والے بڑے جانوروں جن سے مراد گائے اور بھینس ہے، کوذبح کرنے پر پابندی نافذ کی جائے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ کہ ریاست میں نافذ پینل کوڈ کے سیکشن 298-A کے مطابق جموں کشمیر میں گائے کشی پر پابندی ہے، تاہم مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے ناطے یہاں گائے، بیل یا بھینس کا گوشت، جسے عرف عام میں ’بڈماز‘ کہتے ہیں، عام تھا۔

35 سال قبل بھی جب بڈماز پر پابندی کی بات ہوئی تو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما قاضی نثار نے چوراہے پر ایک گائے کو ذبح کیا جس کے بعد کشمیر میں احتجاجی تحریک شروع ہوئی۔

قاضی نثار کے بیٹے قاضی یاسر اب اُمت اسلامیہ کے سربراہ ہیں۔ قاضی یاسر نے بی بی سی کو بتایا: ’دنیا کی کوئی طاقت مسلمانوں کو وہ سب کھانے سے منع نہیں کرسکتی جسے اللہ نے ہمارے لیے حلال کیا ہو۔‘

قاضی نثار نے بتایا کہ کشمیر کی مذہبی اور سیاسی قیادت اس بارے میں مناسب ردعمل کے ساتھ سامنے آئے گی۔

ذرائع نے بتایا کہ میر واعظ عمرفارورق نے بھی مذہبی رہنماؤں کی انجمن متحدہ مجلس علما کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔

اسی بارے میں