’بھارت پہلی گولی نہیں چلائے گا‘، راج ناتھ سنگھ کی یقین دہانی

تصویر کے کاپی رائٹ Eijaz Kazmi
Image caption پاکستان رینجرز کی ایک ٹیم کنٹرول لائن پر کشیدگی ختم کرنے کے لیے بارڈر سیکیوریٹی فورس سے تین روزہ مذاکرات میں حصہ لینے کے لیے دلی آئی ہوئی ہے

بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ بھارت سرحد پر گولہ باری میں پہل نہیں کرے گا۔

یہ بات انھوں نے جمعے کو نئی دہلی میں پاکستان رینجرز کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔

راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کو بھارت میں دراندازی کی اجازت نہیں دے گا۔

انھوں نے کہا کہ ’دہشت گردی کے خلاف لڑائی ہمیں متحد ہو کر لڑنی ہے۔‘

پاکستان رینجرز کا وفد بھارت کی بارڈر سکیورٹی فورس کے حکام سے تین روزہ مذاکرات کے لیے دہلی آئی ہوئی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ بات چیت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب کنٹرول لائن پر مسلسل گولہ باری سے ماحول کشیدہ ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

رینجرز اور بی ایس ایف کے درمیان ہونے والی اب تک کی بات چیت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے اور فریقین کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت ’پرخلوص‘ ماحول میں ہو رہی ہے ۔

اس بات چیت کے دوران اتفاق ہوا ہے کہ سرحد پر کسی جانب سے فائرنگ کی صورت میں دوسری جانب سے فوری طور جوابی کارروائی نہیں کی جائے گی اور پہلے فائرنگ کرنے والے فریق سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ صورتحال کو فوری طور پر قابو میں کیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنائے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گردوں کو بھارت میں دراندازی کی اجازت نہیں دے گا

پاکستان رینجرز نے سرحدی کشیدگی ختم کرنے کے لیے سرحد پر تعینات فوجیوں کے درمیان رابطے کے دائرے کو بڑھانے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ بھارت دونوں افواج کے درمیان بہتر رابطے کی تجویز قبول کرنے کے لیے تیار ہے۔ انھوں نے کہا ’ابھی جو رابطہ ہے وہ سیکٹر کی سطح پر ہے ۔ ہم اس رابطے کو بٹالین یا اہم بارڈر آؤٹ پوسٹ کے درمیان تک لانے کے لیے تیار ہیں۔‘

بات چیت میں پاکستان رینجرز کی قیادت ڈائریکٹر جنرل عمر فاروق برکی کر رہے ہیں جبکہ بی ایس ایف کے وفد کی قیادت ڈائریکٹر جنرل ڈی کے پاٹھک کر رہے ہیں۔ یہ بات چیت ہفتے کے روز تک جاری رہے گی ۔

تین روزہ مذاکرات میں سرحد پر سمگلنگ اور سرحدی علاقوں میں بھٹک کر ایک دوسرے کے علاقوں میں پہنچ جانے والے افراد کی واپسی کے سوال پر بھی بات چیت ہو رہی ہے ۔

پاکستان کی جانب سے بھارت کے ذریعے سرحد پر فضائی خلاف ورزی کا سوال بھی اٹھایا گیا ہے جبکہ بھارت نے کنٹرول لائن پر در اندازی کے واقعات کی فہرست پیش کی ہے ۔

اطلاعات کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے اور دونوں فریق اعتماد سازی کے ممکنہ اقدامات کے بارے میں پر امید نظر آرہے ہیں تاہم مذاکرات کے نتائج کے بارے میں تفصیلات سنیچر کو بات چیت کے خاتمے پر ہی سامنے آ‎ سکیں گی ۔

اسی بارے میں