کیا ایک زیور عورت کو محفوظ بنا سکتا ہے؟

Image caption ’عام ایپس کام نہیں کرتیں کیونکہ فون عام طور پر بیگ یا جیب میں ہوتا ہے اور فون نکالنے اس کو ان لاک کرنے اور کوئی خاص ایپ کو ڈھونڈنےمیں قیمتی ضائع ہوتا ہے‘

بھارت میں انجینیئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے پانچ طلبہ نے ایک زیور بنایا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ عورتوں کو محفوظ بنانے کی کوشش ہے۔

’سیفر‘ نامی یہ گلے کا ہار مختلف رنگوں میں دستیاب ہے اور اس کے اندر ایک چِپ نصب ہے جسے دو بار دبایا جائے تو وہ ایک ایپ سے رابطہ کرتی ہے۔

یہ ایپ چنندہ موبائل فونز پر الرٹ بھیجتی ہے جو ہار پہننے والی خاتون کو گوگل میپ پر ٹریک کر سکتے ہیں۔

یہ زیور لیف نامی کمپنی نے بنایا ہے۔ پارس بترا اس کمپنی میں سیلز کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2012 میں دہلی کی بس میں گینگ ریپ کے بعد وہ ایک ایسا آلہ بنانے کا سوچ رہے تھے جو عورتوں کو زیادہ محفوظ رکھ سکے۔

’میں منرکا میں رہتا ہوں جو دہلی کے جنوب میں واقع ہے۔ یہ وہی علاقہ ہے جہاں سے 2012 میں گینگ ریپ ہونی والی لڑکی بس پر سوار ہوئی تھی۔ میں اس واقعے کے بعد بہت پریشان ہوا اور میں نے سوچا کے کچھ ایسا کرنا ہو گا جس سے عورتیں محفوظ رہ سکیں۔‘

بترا نے اپنے بچپن کے دوست چیراگ کپل سے بات کی جو اپنے کالج کے دوستوں ایوش بنکا، منیک مہتا اور اویناش بنسل کو لے آئے۔

Image caption بترا نے اپنے بچپن کے دوست چیراگ کپل سے بات کی جو اپنے کالج کے دوستوں ایوش بنکا، منیک مہتا اور اویناش بنسل کو لے کر آیا

لیف کی موبائل ایپ ڈویلپمنٹ اور گرافک ڈیزائن ٹیم کے سربراہ کپل کا کہنا ہے ’ہم نے مل کر کرنٹ لگنے والی جیکٹ کے بارے میں سوچا لیکن پھر خیال آیا کہ گرمی میں عورتیں اسے کیسے پہنیں گی۔ ہم نے مختلف آئیڈیاز کے بارے میں سوچا اور پھر ہمارے ذہن میں آیا کہ عورتوں کو جیولری پہننے کا شوق ہوتا ہے۔

سیفر نیکلس کی قیمت ساڑھے تین ہزار بھارتی روپے رکھی گئی ہے اور نومبر میں اسے باقاعدہ طور پر فروخت کے لیے پیش کیے جانے سے قبل فی الحال یہ 2700 روپے کی رعایتی قیمت پر دستیاب ہے۔

اس جیولری نے کئی بھارتی اور بین الاقوامی ایوارڈ حاصل کیے ہیں جن میں لاک ہیڈ مارٹن نیشنل انوویشن ایوارڈ بھی شامل ہے۔

دہلی گینگ ریپ کے بعد سے خواتین کی حفاظت کے لیے کئی آلات متعارف کرائے گئے لیکن سیفر کو جو شہرت ملی ہے وہ کسی اور آلے کو نہیں ملی۔

پینک بٹن یا مشکل وقت پر بٹن دبا کر لوگوں کو مطلع کرنا کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ تو پھر سیفر کیوں مختلف ہے؟

کپل کا کہنا ہے ’عام ایپس کام نہیں کرتیں کیونکہ فون عام طور پر بیگ یا جیب میں ہوتا ہے اور فون نکالنے اس کو ان لاک کرنے اور کوئی خاص ایپ کو ڈھونڈنےمیں قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے۔‘

Image caption سیفر کا نیکلس عام جیولری سے اچھی کوالٹی کا ہے اور اس چِپ کو ری چارج کیا جاسکتا ہے

کپل کا مزید کہنا ہے کہ سیفر کا نیکلس عام جیولری سے اچھی کوالٹی کا ہے اور اس چِپ کو ری چارج کیا جاسکتا ہے۔

پارس بترا کا کہنا ہے کہ 15 سے 20 منٹ کے چارج کے بعد اس نیکلس کو 10 روز تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ’یہ پائیدار ہے بشرطیکہ کوئی عورت اس کو مائیکرو ویو میں نہ ڈال دے۔‘

ٹیکنالوجی پر لکھنے والے پراسانتو روئے کا کہنا ہے کہ نیکلس میں الرٹ ہونا اچھا خیال ہے۔ لیکن بھارت میں قانون نافذ کرنے والوں کا ریسپانس نظام موجود نہیں ہے جیسے کہ امریکہ میں 911 ہے۔

’پھر بھی خاندان والوں یا دوستوں کو الرٹ جانے کا کچھ فائدہ ہے۔ کئی بار مشکل وقت میں گھر یا دوستوں کی جانب سے فون آنا ہی کافی ہوتا ہے۔‘

لیف کمپنی کے لیے اب بڑا چیلنج اس جیولری کو بڑے پیمانے پر تیار کرنے کے لیے رقم جمع کرنا ہے۔

پارس بترا کا کہنا ہے ’ہم لوگوں سے فنڈ اکٹھے کر رہے ہیں اور کچھ سرمایہ کاروں نے بھی رقم دینے کا وعدہ کیا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہماری جیولری عورتوں کو محفوظ بنائے گی۔‘

اسی بارے میں